Updated: July 29, 2026, 3:02 PM IST
| New Delhi
ہندوستان میں امتحانی پرچہ لیک اور طلبہ تحریک پر ہونے والی بحث کے دوران لوک سبھا میں پہلی مرتبہ جین زی کی مقبول اصطلاحات اور سوشل میڈیا کی زبان گونجتی سنائی دی۔ حکمراں اتحاد اور اپوزیشن دونوں کے ارکان نے اپنی تقاریر میں ’’کچو پچو‘‘، ’’واستے گنا ہوئیا‘‘، Delulu، Clock it،FOMO، MIA اور دیگر وائرل اصطلاحات استعمال کیں۔ ان الفاظ کے استعمال نے پارلیمانی کارروائی کو غیر معمولی بنا دیا اور نوجوانوں کی احتجاجی تحریک کے اثرات کو ایوان تک پہنچا دیا۔
ہندوستان کی پارلیمنٹ میں منگل کو عوامی امتحانات (بدعنوان ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل ۲۰۲۶ء پر بحث کے دوران ایک غیر معمولی منظر دیکھنے میں آیا، جب مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان نے اپنی تقاریر میں جین زی کی مقبول سوشل میڈیا اصطلاحات کا استعمال کیا۔ یہ صورتِ حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ طلبہ تحریک اور کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی مہم نے نوجوانوں کی زبان، اندازِ اظہار اور انٹرنیٹ کلچر کو قومی سیاسی بحث کا حصہ بنا دیا ہے۔
بحث کے دوران متعدد ارکانِ پارلیمنٹ نے Delulu (یعنی حقیقت سے کٹا ہوا یا خیالی دنیا میں رہنے والا)، Clock it (یعنی حقیقت کو پہچاننا یا کسی بات کو فوراً سمجھ لینا)، FOMO (Fear of Missing Out)، MIA (Missing in Action)، کچو پچو اور واستے گنا ہوئیا جیسے وائرل الفاظ استعمال کیے، جنہیں عموماً نوجوان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بول چال میں استعمال کرتے ہیں۔ ان اصطلاحات نے پارلیمنٹ کی کارروائی کو غیر معمولی انداز میں عوامی توجہ کا مرکز بنا دیا۔
رپورٹ کے مطابق حکمران اتحاد کے ایک رکن نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے Delulu کی اصطلاح استعمال کی، جبکہ ایک اور رکن نے کہا کہ اپوزیشن کو Clock it یعنی حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اسی دوران بعض ارکان نے اپوزیشن کے رویے پر تبصرہ کرتے ہوئے MIA اور FOMO جیسے الفاظ بھی استعمال کیے۔
اپوزیشن کی جانب سے بھی نوجوانوں میں مقبول وائرل اصطلاح واستے گنا ہوئیا کا حوالہ دیا گیا، جو حالیہ طلبہ تحریک کے دوران سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ کچو پچو جیسی اصطلاح بھی بحث کا حصہ بنی، جس کے بعد ایوان میں موجود کئی ارکان نے اس کے معنی اور پس منظر جاننے کی کوشش کی۔
یہ تمام تبصرے امتحانی پرچہ لیک کے خلاف لائے گئے ترمیمی بل پر بحث کے دوران سامنے آئے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بل کا مقصد امتحانات میں دھاندلی، منظم نقل اور پرچہ لیک جیسے جرائم کے خلاف قانونی نظام کو مزید سخت بنانا ہے، جبکہ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ صرف سخت قوانین کافی نہیں بلکہ امتحانی نظام میں شفافیت اور جوابدہی بھی ضروری ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں پہلی مرتبہ نوجوانوں کی انٹرنیٹ زبان کا اس پیمانے پر استعمال اس بات کی علامت ہے کہ حالیہ طلبہ تحریک نے صرف سڑکوں پر ہی نہیں بلکہ سیاسی بیانیے پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔ ان کے مطابق سیاسی جماعتیں اب نوجوان ووٹروں تک اپنی بات پہنچانے کے لیے انہی اصطلاحات اور ثقافتی حوالوں کا سہارا لے رہی ہیں جو سوشل میڈیا پر مقبول ہیں۔
یہ پیش رفت اس وسیع تر پس منظر میں ہوئی ہے جہاں سی جے پی کی قیادت میں شروع ہونے والی طلبہ تحریک نے امتحانی نظام، بے روزگاری اور شفافیت جیسے مسائل کو قومی بحث کا موضوع بنا دیا۔ اسی تحریک کے دوران متعدد نئے الفاظ، طنزیہ جملے اور انٹرنیٹ میمز نوجوانوں میں مقبول ہوئے، جن میں سے کئی اب پارلیمانی مباحث کا بھی حصہ بن چکے ہیں۔
پارلیمنٹ میں جین زی زبان کے استعمال پر سوشل میڈیا پر بھی بھرپور ردعمل دیکھنے میں آیا۔ بعض صارفین نے اسے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے کی ایک مثبت کوشش قرار دیا، جبکہ بعض نے رائے دی کہ قانون سازی جیسے سنجیدہ فورم پر اس نوعیت کی اصطلاحات کے استعمال سے بحث کی سنجیدگی متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم اس بات پر تقریباً اتفاق پایا گیا کہ نوجوانوں کی ڈجیٹل ثقافت اب ملک کی رسمی سیاسی گفتگو پر بھی اثرانداز ہو رہی ہے۔