• Tue, 15 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یکسانیت مساوات نہیں ہے: یوسی سی نفاذ پرحزب اختلاف کا شدید ردعمل

Updated: September 15, 2026, 10:23 PM IST | New Delhi

۲۱؍ این ڈی اے ریاستوں میں یو سی سی کے نفاذ سے متعلق امیت شاہ کے اعلان پر اپوزیشن نے شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہیکسانیت مساوات نہیں ہے۔

Amit Shah. Photo: INN
امیت شاہ۔ تصویر: آئی این این

  مرکزی وزیرِ داخلہ امیت شاہ کی جانب سے۲۰۲۹ء کے لوک سبھا انتخابات سے قبل بی جے پی اور این ڈی اے کی تمام ۲۱؍ ریاستوں میں یکساں سِوِل کوڈ نافذ کرنے کے اعلان کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ بی جے پی صنفی مساوات کے نام پر اپنے ہندوتوا ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے اور اکثریتی ووٹ بینک کو متحد کرنے کیلئے اس قانون کا استعمال کر رہی ہے۔  واضح رہے کہ ممبئی میں ایک تقریب کے دوران امیت شاہ نے کہا تھا کہ حکومت متعدد ریاستوں میں یو سی سی لا چکی ہے اور انہیں امید ہے کہ ۲۰۲۹ء سے پہلے این ڈی اے حکومت والی تمام ۲۱؍ ریاستوں میں اسے نافذ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے طلاقِ ثلاثہ کے خاتمے کو مسلم خواتین کے حقوق کی سمت میں اہم اقدام قرار دیتے ہوئے اسے رام مندر کی تعمیر اور آرٹیکل ۳۷۰؍ کی منسوخی کی طرح پارٹی کے اہم نظریاتی مقاصد کا حصہ بتایا۔

یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال: اسلامی کلمات کہنے پر مسلم خاتون آئی پی ایس افسر کا تبادلہ

بعد ازاں اس اعلان پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے سی پی آئی ایم (CPIM) نے کہا کہ ’’یکسانیت مساوات نہیں ہے۔‘‘ پارٹی نے الزام لگایا کہ بی جے پی بے روزگاری، مہنگائی، کسانوں کی بدحالی اور طلباء کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہونےکے بعد ایک بار پھر ملک میں تفریق انگیز ایجنڈا تیار کر رہی ہے۔وہیں اے آئی ایم آئی ایم (AIMIM) کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا کہ بی جے پی یو سی سی کا استعمال مساوات کیلئے نہیں بلکہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور غیر ہندوؤں پر ہندو قوانین مسلط کرنے کیلئے کر رہی ہے۔ انہوں نے آئین ہِند کی دفعات ۱۴؍ ، ۲۵؍ ، ۲۶؍اور ۲۹؍ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی کثرتِ رائے اس کی آئینی پہچان ہےاور ۲۰۱۸ء کے لاء کمیشن نے بھی واضح کیا تھا کہ اس مرحلے پر یو سی سی نہ تو ضروری ہے اور نہ ہی مناسب۔ اس کے علاوہ آر جے ڈی کے رکن پارلیمنٹ منوج جھا نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے اس بیان کا حوالہ دیا کہ اتحاد کیلئے یکسانیت ضروری نہیں ہےاور کہا کہ جب بھی ملک کے نوجوان روزگار کا مطالبہ کرتے ہیں تو حکومت کے پاس جواب میں صرف یو سی سی ہوتا ہے۔کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے کہا کہ شاہ کے اعلان نے این ڈی اے کے اندر موجود اختلافات کو بے نقاب کر دیا ہے۔ جے ڈی یو کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یو سی سی پر اس پارٹی کا موقف واضح ہے اور اشارہ کیا کہ اس اعلان نے بہار میں ’’بغاوت کی آوازوں‘‘ کو جنم دیا ہے۔تیواری نے مزیدکہا، ’’یہ جلد بازی میں دیا گیا بیان ہے جو این ڈی اے کے اندرونی اتحاد کے بکھراؤ کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘
 جبکہ کانگریس لیڈر عاصم وقار نے کہا کہ متنوع مذاہب اور تہذیبوں والے ملک میں یو سی سی کو یکساں طور پر نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے دلیل دی کہ آئین شہریوں کو مذہبی رسومات کی پیروی کرنے کا حق دیتا ہے، جس میں شادی بیاہ کے معاملات بھی شامل ہیںاور انہوں نے کسی بھی قسم کے نفاذ سے قبل جامع اعداد و شمار اور وسیع تر بحث و مباحثے کا مطالبہ کیا۔اے آئی ایم آئی ایم کے قومی ترجمان وارث پٹھان نے کہا کہ یہ تجویز یکسانیت یا مساوات کے بارے میں نہیں بلکہ ’’مسلمانوں کے حقوق چھیننے‘‘  کی ایک کوشش ہےاور انہوں نے اس اقدام کو ’’غیر آئینی‘‘ قرار دیا۔کانگریس لیڈروں نے اسے الیکشن سے پہلے کا سیاسی ڈرامہ اور این ڈی اے کے اندرونی اختلافات کا ثبوت قرار دیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال حکومت نے ۲۵۲ مدارس کو بند کرنے کا حکم جاری کیا، مبینہ ضابطہ جاتی خلاف ورزیوں پر کارروائی

جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی سوال اٹھایا کہ اگر یہ قومی پالیسی ہے تو اسے پارلیمنٹ کے بجائے الگ الگ ریاستوں کے ذریعے کیوں نافذ کیا جا رہا ہے، خاص طور پر جبکہ این ڈی اے کی اپنی اتحادی جماعتیں بھی اس پر متفق نہیں ہیں۔دوسری طرف این ڈی اے کی اہم اتحادی جماعت جے ڈی یو (JDU) کا موقف اس معاملے پر بالکل مختلف نظر آ رہا ہے۔ پارٹی لیڈر شیام رجاک کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ نیتش کمار نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ وہ بہار میں یو سی سی کو نافذ کرنے کی اجازت بالکل نہیں دیں گے۔
 واضح رہے کہ فی الحال اتراکھنڈ، گجرات، آسام اور مدھیہ پردیش کی اسمبلیوں سے یو سی سی قانون منظور ہو چکا ہے، لیکن یہ فی الوقت صرف اتراکھنڈ میں ہی نافذہے۔ ۲۰۱۸ء میں لاء کمیشن نے اپنی رپورٹ میں ہندوستان کی ثقافتی اور مذہبی تنوع کو برقرار رکھتے ہوئے ذاتی قوانین میں موجود امتیازی شقوں میں اصلاحات کی سفارش کی تھی اور یو سی سی کو غیر ضروری قرار دیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK