دہلی کے Lovebirds نے ’India: IYKYK‘ کلیکشن میں پرانے اسکول چارٹس، ہاتھ سے بنے سائن بورڈز اور باٹا چپل کو جدید فیشن کا حصہ بنایا۔
EPAPER
Updated: September 26, 2026, 9:08 AM IST | London
دہلی کے Lovebirds نے ’India: IYKYK‘ کلیکشن میں پرانے اسکول چارٹس، ہاتھ سے بنے سائن بورڈز اور باٹا چپل کو جدید فیشن کا حصہ بنایا۔
کبھی ہندوستانی اسکولوں کی دیواروں اور اسٹیشنری کی دکانوں پر نظر آنے والا ’آدرش بالک‘ اب لندن فیشن ویک کے ریمپ تک پہنچ گیا ہے۔ دہلی کے فیشن لیبل Lovebirds نے اپنے Spring/Summer 2027 کلیکشن ’India: IYKYK‘ میں اس معروف اسکول چارٹ کے کردار کو لباس کے ڈیزائن کا حصہ بنایا۔ یہ Lovebirds کی لندن فیشن ویک میں پہلی شرکت بھی تھی، جس میں برانڈ نے انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل میڈیا سے پہلے کے ہندوستان کی روزمرہ بصری ثقافت کو جدید فیشن کے ذریعے پیش کیا۔’آدرش بالک‘ کی تصویر کئی دہائیوں تک ہندوستانی اسکولوں میں اچھے اخلاق، صفائی، وقت کی پابندی اور پڑھائی میں توجہ جیسے اوصاف کی علامت کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔ بعد میں مصور پرییش ترویدی نے اسی کردار کو طنزیہ اور مزاحیہ انداز میں نئے معنی دیے، جس سے ’آدرش بالک‘ سوشل میڈیا پر بھی ایک الگ بصری شناخت بن گیا۔ Lovebirds نے اب اسی مانوس تصویر کو فیشن کے تناظر میں پیش کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: میکلمور کا ’فری فلسطین ٹور‘ کا اعلان
کلیکشن میں ’آدرش بالک‘ کی تصویر ایک نمایاں لباس پر نظر آئی۔ نیلے اور سفید چیک والے strapless لباس پر اسکول چارٹ سے لیا گیا کردار نمایاں تھا، جبکہ کمر پر سیاہ بیلٹ نے پورے ڈیزائن کو جدید انداز دیا۔ اس طرح وہ تصویر، جو کبھی بچوں کو ’’مثالی‘‘ طرزِ زندگی سکھانے کے لیے استعمال ہوتی تھی، ایک اعلیٰ فیشن لباس کا گرافک عنصر بن گئی۔ Lovebirds کے ڈیزائنرز گُرسی سنگھ اور امرتا کھنہ نے ’India: IYKYK‘ کے ذریعے ہندوستان کو عام عالمی تصویری clichés کے بجائے ان چیزوں کے ذریعے پیش کرنے کی کوشش کی جنہیں یہاں پلے بڑھے لوگ فوراً پہچان لیتے ہیں۔ کلیکشن میں پرانے ہاتھ سے پینٹ کیے گئے دکانوں کے سائن بورڈز، فوٹو اسٹوڈیو کے بیک ڈراپس، اسکول کی کتابوں کی تصاویر اور ماچس کی ڈبیا جیسے بصری حوالوں سے بھی کام لیا گیا۔ اس کلیکشن کا مرکزی خیال ایک ایسے ہندوستان کی بصری یادداشت ہے جو بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل ہونے سے پہلے موجود تھا۔ Lovebirds نے اس دور کے ہاتھ سے بنے سائن بورڈز اور پینٹنگز کو خاص اہمیت دی، جب دکانوں کے اشتہارات، سنیما پوسٹرز اور فوٹو اسٹوڈیو کے پس منظر بڑی حد تک ہاتھ سے تیار کیے جاتے تھے۔ برانڈ کے مطابق یہ ان لوگوں کے لیے مشترکہ یادوں کا مجموعہ ہے جو ۱۹۷۰ء، ۱۹۸۰ء اور ۱۹۹۰ء کی دہائیوں میں ہندوستان میں بڑے ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: ’مَیں ہوں نا ۲‘ کے متعلق فرح خان کا پراسرار جواب
لباس کی تیاری میں روایتی ہندوستانی دست کاری کو بھی مرکزی جگہ دی گئی۔ کلیکشن میں چنٹز، ٹسر، ڈوپین اور بنارسی بروکیڈ جیسے کپڑے استعمال ہوئے، جبکہ کَچھ، گجرات اور وارانسی، اتر پردیش کے کاریگروں کے ساتھ مل کر ہاتھ سے بنے ٹیکسٹائل تیار کیے گئے۔ ڈیزائنرز نے روایتی طریقۂ کار کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں جدید لباس کی ساخت اور کٹنگ کے ساتھ جوڑا۔ ’آدرش بالک‘ واحد پرانی ہندوستانی علامت نہیں تھی جسے کلیکشن میں دوبارہ زندہ کیا گیا۔ Lovebirds نے باٹا چپل کی شکل سے متاثر ہوکر kitten heels تیار کیں، جبکہ پرانے فوٹو اسٹوڈیو کے ہاتھ سے پینٹ کیے گئے پس منظر اور ابتدائی اسکول کی کتابوں میں موجود انسانی کان اور ہونٹوں کی تصویروں کو بھی مختلف لباسوں پر استعمال کیا گیا۔ اس کلیکشن میں ۱۹۶۰ء، ۱۹۷۰ء اور ۱۹۸۰ء کی دہائیوں کے ہندوستانی شہری ماحول کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ ہاتھ سے بنے سائن بورڈز اور اشتہارات کی جگہ ڈیجیٹل پرنٹنگ اور اسکرینوں نے لے لی، لیکن Lovebirds نے انہی پرانے بصری عناصر کو دوبارہ ہاتھ کے کام، کڑھائی، fraying اور reconstruction کے ذریعے لباس میں شامل کیا۔
لندن فیشن ویک کے ستمبر ۲۰۲۶ء کی تقریب میں Lovebirds کی شمولیت کو British Fashion Council نے بھی درج کیا تھا۔ ۱۷؍ سے ۲۱؍ ستمبر تک منعقدہ اس سیزن میں ۴۷؍ شو، ۲۳؍ پریزنٹیشن اور ۱۰؍ ڈجیٹل سرگرمیاں شامل تھیں جبکہ Lovebirds پہلی بار سرکاری شیڈول کا حصہ بنا۔ Lovebirds، جسے گُرسی سنگھ اور امرتا کھنہ مل کر چلاتے ہیں، نئی دہلی میں قائم برانڈ ہے۔ لندن فیشن ویک کے مطابق برانڈ اپنی شناخت ہندوستانی جڑوں اور عالمی نقطۂ نظر کے امتزاج کے طور پر بیان کرتا ہے اور مقامی کاریگروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے روایتی تکنیکوں کو جدید فیشن میں ڈھالتا ہے۔