• Tue, 06 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایف ایس ایس اے آئی کا تہواروں کے موسم میں ملاوٹ روکنے کیلئے سخت اقدام

Updated: October 06, 2026, 7:02 PM IST | New Delhi

ہندوستانی غذائی تحفظ اور معیاراتی اتھارٹی (ایف ایس ایس اے آئی )نے آنے والے نوراتری اور دیوالی کے تہواروں کے پیش نظر ملک بھر کی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے غذائی تحفظ کے حکام کو خوراک کی نگرانی، معائنہ اور نمونے لینے کی کارروائی تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔

FSSAI.Photo:INN
ایف ایس ایس اے آئی۔ تصویر:آئی این این

ہندوستانی  غذائی تحفظ اور معیاراتی اتھارٹی (ایف ایس ایس اے آئی )نے آنے والے نوراتری اور دیوالی کے تہواروں کے پیش نظر ملک بھر کی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے غذائی تحفظ کے حکام کو خوراک کی نگرانی، معائنہ اور نمونے لینے کی کارروائی تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس خصوصی مہم کا مقصد ملاوٹی، جعلی اور غیر محفوظ غذائی اشیا کی فروخت اور صارفین تک ان کی رسائی کو روکنا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:’’بنچ آف تھیوز‘‘: جب جیفری آرچر نے بالی ووڈ پر کہانیاں چرانے کا الزام لگایا

اتھارٹی نے ۲۹؍ ستمبر کو جاری کردہ ہدایات میں کہا کہ تہواروں کے دوران مٹھائیوں، نمکین، مشروبات، خوردنی تیل، دودھ اور دودھ سے تیار ہونے والی اشیا کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ان اشیا کی معیار جانچ اور نگرانی کو مزید مؤثر بنانا ضروری ہے۔ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ اس معاملے کو انتہائی اہمیت دی جائے اور تہواروں کے پورے عرصے میں باقاعدہ معائنہ اور نمونے لینے کی کارروائی جاری رکھی جائے۔ 
غذائی تحفظ کے افسران کو خاص طور پر دودھ اور دودھ سے بنی اشیا، گھی، مٹھائیوں، نمکین، پاپڑ، فرائیمز، خوردنی تیل اور مختلف مشروبات کی جانچ پر توجہ مرکوز کرنے کو کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہر خطے میں تہواروں کے دوران زیادہ استعمال ہونے والی دیگر غذائی اشیا کو بھی نگرانی کے دائرے میں شامل کیا جاسکتا ہے۔
اتھارٹی نے واضح کیا کہ مختلف ریاستوں اور علاقوں میں لوگوں کے کھانے پینے کے رجحانات الگ الگ ہوتے ہیں، اس لیے نگرانی کی فہرست بھی مقامی ضروریات کے مطابق طے کی جائے۔ مثال کے طور پر شمالی اور مغربی  ہندوستان کے کئی علاقوں میں نوراتری کے دوران کٹّو اور سنگھاڑے کے آٹے کا استعمال بڑھ جاتا ہے، لہٰذا ان اشیا کو بھی خصوصی جانچ کے لیے منتخب کیا جاسکتا ہے۔ 
ایف ایس ایس اے آئی نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے غذائی تحفظ کمشنروں سے کہا ہے کہ وہ نامزد افسران، غذائی تحفظ افسران اور مرکزی غذائی تحفظ افسران کو اپنے اپنے علاقوں میں معائنہ اور نمونے لینے کی کارروائی کے لیے متحرک کریں۔ خاص طور پر ان بازاروں، علاقوں اور مقامات پر زیادہ توجہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے جنہیں ملاوٹ یا غیر محفوظ غذائی اشیا کی فروخت کے حوالے سے حساس یا خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ 
اتھارٹی نے دستیابی کی صورت میں  ’فوڈ سیفٹی آن وہیلز‘  نامی موبائل غذائی جانچ یونٹوں کو بڑے بازاروں اور دیگر اہم مقامات پر حکمت عملی کے تحت تعینات کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ یہ موبائل یونٹ موقع پر ہی کھانے پینے کی اشیا کی جانچ کرسکیں گے اور ممکنہ ملاوٹ کی فوری شناخت میں مدد دیں گے۔ان موبائل جانچ مراکز کا مقصد صرف ملاوٹ کی نشاندہی کرنا نہیں بلکہ عوام میں غذائی تحفظ سے متعلق بیداری پیدا کرنا اور بازار میں دستیاب اشیا کے معیار کے حوالے سے صارفین کا اعتماد مضبوط کرنا بھی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:میسی رونالڈو سے۱۵؍کروڑ ڈالر پیچھے، آمدنی کے معاملے میں پرتگالی اسٹار کی برتری

ایف ایس ایس اے آئی نے نگرانی کے پورے عمل میں شفافیت اور مؤثریت برقرار رکھنے کے لیے حکام کو ہدایت دی ہے کہ معائنوں، لیے گئے نمونوں اور ان کے نتائج سے متعلق تمام اعداد و شمار کو ایف او ایس سی او ایس  اور  ایف او ایس سی او آر آئی ایس  ڈجیٹل نظام پر حقیقی وقت میں درج اور تازہ کیا جائے۔ اس سے مختلف ریاستوں میں جاری کارروائی کا مرکزی سطح پر ریکارڈ رکھنے اور ضرورت کے مطابق مزید اقدامات کرنے میں مدد ملے گی۔ 
تہواروں کے دوران خوراک کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر ایف ایس ایس اے آئی کی یہ خصوصی مہم صارفین کو ملاوٹی اور غیر محفوظ اشیا سے بچانے کے لیے اہم قدم قرار دی جارہی ہے۔ خاص طور پر مٹھائی، دودھ، گھی، نمکین، خوردنی تیل اور تہواروں میں استعمال ہونے والی دیگر اشیا کی سخت جانچ سے بازار میں غذائی معیار کو بہتر بنانے اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK