Updated: October 06, 2026, 6:04 PM IST
| New Delhi
دہلی کی ایک عدالت نے پیر کی رات چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے دوران دہلی پولیس کے ذریعہ گرفتار کئے گئے ۱۷؍ طلبہ اور آزاد صحافیوں کو ضمانت دے دی ہے۔ عدالت نے کہاکہ ’’ملزمان کم عمر ہیں، پیشہ ور مجرم نہیں معلوم ہوتے اور ان کا پورا کریئر ان کے سامنے ہے۔‘‘
دہلی ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این۔
پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس انیمیش کمار نے پیر کی رات ۹؍ بجے سے ۲۵:۹؍ بجے کے درمیان جاری کئےگئے چار الگ الگ احکامات میں عدالت میں پیش کئےگئے تمام ۱۷؍ ملزمان کو ضمانت فراہم کی۔ اس سے قبل دہلی پولیس نے عدالت سے التجا کی تھی کہ ان تمام افراد کو دو ہفتوں کیلئے عدالتی حراست میں بھیجا جائے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزمان پر لگے الزامات سنگین ہیں اور اس احتجاج میں ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا ہے۔ جج نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ ہر شہری کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے، لیکن ’’پرامن احتجاج کی آڑ میں ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنا ایک تشویشناک بات ہے جسے کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔‘‘تاہم، جج نےواضح کیا کہ بی این ایس کی دفعہ۱۳۲؍ (سرکاری ملازم کو ڈیوٹی کی انجام دہی سے روکنے کیلئے حملہ یا مجرمانہ قوت کا استعمال) کے علاوہ اس معاملے میں شامل باقی تمام دفعات قابلِ ضمانت نوعیت کی ہیں۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ تمام ملزمان کم عمر ہیں اور کوئی سابقہ يا پیشہ ور مجرم نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر: ناگپور ضلع میں تقریباً آٹھ لاکھ ۶۵؍ہزار ووٹروں کو نوٹس بھیجے گئے
بعد ازاں عدالت نے ہر معاملے میں حکم دیتے ہوئے کہا کہ ’’بی این ایس کی دفعہ ۱۳۲؍ کے تحت بھی زیادہ سے زیادہ صرف ۲؍ سال کی سزا دی جاسکتی ہے۔ ملزمان کم عمر ہیں اور پیشہ ور مجرم معلوم نہیں ہوتے، ان کا پورا کریئر ابھی سامنے باقی ہے۔ لہٰذا معاملے کے حقائق اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے، تمام ملزمان کو ۱۵؍ ہزار روپے کی رقم ضمانت بانڈ کے طور پر جمع کرانے کا حکم دیا اسی کے ساتھ تمام ۱۷؍ ملزمان کو اسی شرط کے ساتھ ضمانت دے دی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: نئی دہلی: الیکشن کمیشن کے دفتر کی طرف اپوزیشن کا مارچ پولیس نے روکا، ارکان حراست میں
واضح رہے کہ دہلی پولیس نے ۵؍ اکتوبر کو انشیکا گپتا، کرشمہ مہتا، سنجو، کنجل، رودر پرتاپ سنگھ، روہت، آدرش، سنی دیول، برجیش پانڈے، عدنان بارمارے، انوج بھگت، بدھ شیل تھاورے، گجیندر سنگھ، دھرمیندر، سمرتھ سنگھ، شیخ یونس اور امان اگروال کو گرفتار کیا تھا۔ ان تمام پر بی این ایس کی مختلف دفعات اور پبلک پراپرٹی کو نقصان کی روک تھام سے متعلق قانون کی دفعہ ۳؍ کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔پولیس کا دعویٰ تھا کہ ملزمان ایک ایسے غیر قانونی اجتماع کا حصہ تھے جس نے عوامی جگہ کو بلاک کر رکھا تھا جہاں بی این ایس ایس کی دفعہ ۱۶۳؍ کے تحت ممانعتی احکامات نافذ تھے۔ حراست میں لئے جانے کے دوران ملزمان نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی کی اور ان پر حملہ کیا جس سے ایک خاتون کانسٹیبل زخمی ہو گئی۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک بس کی کھڑکی اور پچھلا شیشہ توڑ کر سرکاری پراپرٹی کو نقصان پہنچایا۔پولیس نے یہ الزام بھی لگایا کہ ملزمان نے تحقیقات میں تعاون کرنے سے انکار کیا اور اپنی شناخت، والدین کے نام اور عمر سے متعلق مکمل تفصیلات چھپائیں۔ جبکہ ملزمان کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈووکیٹ سائمون فاروقی نے دلیل دی کہ معاملے کی تمام دفعات میں سات سال سے کم سزا مقرر ہے، اس لئے یہ گرفتاریاں غیر ضروری تھیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً ۵۰؍ مظاہرین میں سے صرف ۱۷؍ کو گرفتار کیا گیا اور کسی کا انفرادی کردار مشخص نہیں کیا گیا۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج پیش نہیں کی گئی اور یہ زیادہ تر نوجوان طلباہ صرف اپنے اختلافِ رائے کا جمہوری حق استعمال کر رہے تھے، لہٰذا حراست میں رکھنے سے ان کا کریئر متاثر ہوگا۔تمام دلائل کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے ان کی ضمانت منظور کر لی۔ تاہم عدالت نے ہدایت کی کہ ضمانت کی مدت کے دوران ملزمان کوئی جرم نہیں کریں گے، اپنے درست پتے فراہم کریں گے اور اپنے موبائل فون چالو رکھیں گے۔ جج نے مزید کہا کہ انہیں عدالت کی ہر سماعت پر حاضر ہونا پڑے گا اور وہ عدالت کی اجازت کے بغیر ہندوستان سے باہر نہیں جا سکتے۔