سپریم کورٹ میں منگل کی دوپہر ۳؍ نئے ججوں نے حلف لی۔ کولیجیم سسٹم نے ۲۸؍ ستمبر کو ان ججوں کے ناموں کی سفارش کی تھی جن پر مرکزی حکومت نے پیر کو تینوں ججوں کے ناموں کا اعلان ایک نوٹفکیشن کے ذریعے کیا اور ان کی تقرری عمل میں آئی۔
EPAPER
Updated: October 06, 2026, 7:01 PM IST | New Delhi
سپریم کورٹ میں منگل کی دوپہر ۳؍ نئے ججوں نے حلف لی۔ کولیجیم سسٹم نے ۲۸؍ ستمبر کو ان ججوں کے ناموں کی سفارش کی تھی جن پر مرکزی حکومت نے پیر کو تینوں ججوں کے ناموں کا اعلان ایک نوٹفکیشن کے ذریعے کیا اور ان کی تقرری عمل میں آئی۔
سپریم کورٹ میں منگل کی دوپہر ۳؍ نئے ججوں نے حلف لی۔ کولیجیم سسٹم نے ۲۸؍ ستمبر کو ان ججوں کے ناموں کی سفارش کی تھی جن پر مرکزی حکومت نے پیر کو تینوں ججوں کے ناموں کا اعلان ایک نوٹفکیشن کے ذریعے کیا اور ان کی تقرری عمل میں آئی۔ جس کے بعد عدالتِ عظمیٰ میں ججوں کی تعداد بڑھ کر ۳۷؍ ہو گئی جو کہ منظور شدہ کل ۳۸؍ ججوں کی تعداد سے صرف ایک کم ہے۔ منگل کی دوپہر سپریم کورٹ کے تین نئے ججوں کو ان کے عہدے کا حلف دلایا گیا۔ نئے مقرر ہونے والے ججوں میں جسٹس سنیتا اگروال (سابق چیف جسٹس، گجرات ہائی کورٹ)، جسٹس ڈی کے اپادھیائے (سابق چیف جسٹس، دہلی ہائی کورٹ) اور جسٹس اپریش کمار سنگھ (سابق چیف جسٹس، تلنگانہ ہائی کورٹ) شامل ہیں۔ سپریم کورٹ کولیجیم کی جانب سے ۲۸؍ ستمبر کو کی گئی سفارش کے بعد مرکزی حکومت نے پیر کو ان کی بطور سپریم کورٹ جج تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’بنگال میں۹۰؍ لاکھ نام حذف ہوگئے مگرسپریم کورٹ نے روک لگانے کی ضرورت نہیں محسوس کی‘‘
جسٹس سنیتا اگروال بنیادی طور پر الٰہ آباد ہائی کورٹ کی جج رہی ہیں اور جولائی ۲۰۲۳ء سے گجرات ہائی کورٹ کی چیف جسٹس کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ انہوں نے ۱۹۸۹ء میں اودھ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور دسمبر ۱۹۹۰ء سے وکالت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ انہیں نومبر ۲۰۱۱ء میں ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا اور وہ اپریل ۲۰۳۱ء میں سپریم کورٹ سے ریٹائر ہوں گی۔جسٹس ڈی کے اپادھیائے نے لکھنؤ یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور مئی ۱۹۹۱ء میں بطور وکیل اپنا رجسٹریشن کرایا ،وہ مئی ۲۰۰۷ء سے نومبر ۲۰۱۱ء میں بطور جج ترقی پانے تک ریاست اتر پردیش کے چیف اسٹینڈنگ کونسل رہے۔ جولائی ۲۰۲۳ء میں انہیں بامبے ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا، جس کے بعد جنوری ۲۰۲۵ء میں ان کا تبادلہ دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر ہوا، جہاں وہ سپریم کورٹ میں ترقی پانے تک اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔
یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ: دہلی فسادات، جامعہ تشدد سے متعلق آزادانہ تحقیقات کی درخواستیں خارج
جبکہ جسٹس اپریش کمار سنگھ نے دہلی یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور ۱۹۹۰ء میں وکالت کا آغاز کیا۔ انہوں نے ۱۹۹۰ء سے ۲۰۰۰ء تک پٹنہ ہائی کورٹ اور اس کے بعد۲۰۱۲ء میں جج بننے تک جھارکھنڈ ہائی کورٹ میں پریکٹس کی۔ وہ۲۰؍ دسمبر ۲۰۲۲ء سے ۱۹؍ فروری ۲۰۲۳ء تک جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے کارگزار چیف جسٹس بھی رہے۔اس کے بعد انہیں تریپورہ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنایا گیا جہاں انہوں نے۱۷؍ اپریل ۲۰۲۳ء کو حلف لیا۔ بعد میں جسٹس سنگھ کا تبادلہ تلنگانہ ہائی کورٹ کر دیا گیا، جہاں انہوں نے ۱۹؍ جولائی ۲۰۲۵ء کو چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا تھا۔