Inquilab Logo Happiest Places to Work

مستقبل کی فلسطینی ریاست خطرہ میں، ۲؍ ممالک کی سابق سربراہوں کا انتباہ

Updated: July 19, 2026, 12:44 PM IST | Jerusalem

آئر لینڈ کی سابق صدر میری روبنسن اور نیوزی لینڈ کی سابق وزیر اعظم ہیلن کلارک نے کہا کہ اسرائیل کو احتساب سے ماوراسمجھنے کے نتیجے میں فلسطین کا وجود ختم ہوسکتا ہے۔

Former Irish President Mary Robinson and former New Zealand Prime Minister Helen Clark. Photo: INN
آئرلینڈ کی سابق صدر میری روبنسن اورنیوزی لینڈ کی سابق وزیر اعظم ہیلن کلارک۔ تصویر: آئی این این

دو سابق سربراہان حکومت نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کے علاقوں کے غائب ہو جانے کا خطرہ ہے۔ دونوں لیڈروں نے کہا ہے کہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کیلئے ان خطروں کی وجہ اسرائیل کو احتساب سے ماورا درجہ دینے کی بین الاقوامی حکمت عملی ہے۔ ان خیالات کا اظہار آئر لینڈ کی سابق صدر میری روبنسن اور نیوزی لینڈ کی سابق وزیر اعظم ہیلن کلارک نے اسرائیل اور لبنان کا دورہ کرنے کے بعد کیا ہے۔ دونوں نے مقبوضہ مغربی کنارے اور اردن کا بھی دورہ کیا۔ 
انہوں نے کہا اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو فلسطین کو صفحہ ہستی سے غائب کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ معاشی، ثقافتی اور سیاسی اعتبار سے ختم کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی سابق وزیراعظم اور آئرلینڈ کی سابق صدر نے یہ گفتگو بیت المقدس میں صحافیوں کے ساتھ کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لازمی ہے کہ بین الاقوامی برادری اسرائیل کو ناقابل احتساب سمجھنے کی حکمت عملی سے نکلے اور اسرائیل کو اس کے اقدامات کی وجہ سے جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ نیوزی لینڈ کی سابق وزیر اعظم ہیلن کلارک نے کہا کہ اگر میں اپنی بات کو مختصر کروں تو بنیادی پیغام یہ ہے کہ ہم نے پوری سول سوسائٹی میں گھوم پھر کر دیکھا اور سنا ہے۔ اس سول سوسائٹی کا تعلق مغربی کنارے کے علاوہ مشرقی یروشلم سے بھی ہے۔ جن کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف اقدامات پر جوابدہ بنانے کی ضرورت ہے۔ آئر لینڈ کی سابق صدر میری روبنسن نے کہا کہ یورپی یونین کیلئے بھی یہ شرمناک ہے کہ ہم نے اس بارے میں ٹھوس موقف اختیار نہیں کیا۔ انہوں نے بروسلز سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تجارت معطل کر دے۔ نیز اسرائیلی یہودی بستیوں سے آنے والی مصنوعات کی اپنی ہاں درآمد کو روکے۔ دونوں لیڈروں نے کہا کہ انہوں نے ۲۰۲۳ء کے مقابلے میں اب کی بار مغربی کنارے کے دورے پر صورتحال کو انتہائی بدتر دیکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا ہم خبردار کرتے ہیں کہ اگر مغربی کنارے میں اسرائیل اسی طرح یہودی بستیاں آباد کرتا رہا تو فلسطینی ریاست ہماری آنکھوں کے سامنے وجود میں آنے سے پہلے ہی تحلیل ہو جائے گی۔

یہ بھی پڑھئے: مصر: ۱۶۰۰؍ سال پرانی ممی سے ہومر کی ’ایلیاڈ‘ کا نایاب مخطوطہ برآمد

یاد رہے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اقتدار میں آنے سے لے کر اب تک۱۰۲؍یہودی بستیاں قائم کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ بات انسانی حقوق کے گروپ’ پیس ناؤ‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتائی ہے۔ ۲۰۲۳ء کے بعد سے مغربی کنارے میں اقوام متحدہ نے فلسطینیوں کے خلاف یہودی آبادکاروں کے پُرتشدد واقعات میں تیزی دیکھی ہے۔ 
اسی دوران بعض ملکوں نے کچھ یہودی آبادکاروں پر پابندیاں لگانے کا بھی اعلان کیا ہے جسے اسرائیل نے تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ مغربی کنارے کے اس علاقے پر اسرائیل نے۱۹۶۷ء سے قبضہ کر رکھا ہے۔ روبنسن نے کہا ہم نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کے ساتھ ملاقات کے دوران کئی نکات پر عدم اتفاق کیا اور صدر ہرزوگ نے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے خلاف یکطرفہ تنقید کو مسترد کیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK