Updated: July 18, 2026, 10:02 PM IST
| Cairo
مصر کے قدیم آثار کے مقام آکسی رنکس (Oxyrhynchus) میں ماہرین آثارِ قدیمہ نے تقریباً ۱۶۰۰؍ سال پرانی ایک رومی دور کی ممی سے یونانی شاعر ہومر کی شہرۂ آفاق رزمیہ نظم ’ایلیاڈ‘ کا ایک نایاب پاپائرس دریافت کیا ہے۔ محققین کے مطابق آثارِ قدیمہ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی یونانی ادبی متن کو جان بوجھ کر ممی بنانے کی مذہبی یا تدفینی رسم کا حصہ بنایا گیا ہو۔ اس دریافت کو قدیم یونانی ادب، مصری تدفینی روایات اور رومی دور کی ثقافتی تاریخ کے مطالعے میں ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
مصر کے تاریخی آثار کے مقام آکسی رنکس (Oxyrhynchus) میں ماہرین آثارِ قدیمہ نے ایک ایسی غیر معمولی دریافت کی ہے جسے قدیم تاریخ اور کلاسیکی ادب کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ کھدائی کے دوران تقریباً ۱۶۰۰؍ سال پرانی ایک رومی دور کی ممی کے اندر سے یونانی شاعر ہومر کی مشہور رزمیہ تخلیق ’ایلیاڈ‘ کا ایک پاپائرس برآمد ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ آثارِ قدیمہ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی دریافت ہے، کیونکہ اس سے قبل ممیوں کے ساتھ ملنے والے یونانی پاپائرس عموماً جادوئی یا مذہبی تحریروں پر مشتمل ہوتے تھے، جبکہ کسی ادبی شاہکار کا ممی بنانے کی رسم کا حصہ ہونا پہلے کبھی سامنے نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھئے: راجستھان میں مساجد، درگاہوں و مدارس کے انہدام پر روک
یہ تحقیق آکسی رنکس آثارِ قدیمہ مشن کے تحت انجام دی گئی، جس کی قیادت مائتے ماسکورٹ (Maite Mascort) اور ایستھر پونس (Esther Pons) نے کی، جبکہ اس منصوبے کو بارسلونا یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف اینشینٹ نیئر ایسٹ اسٹڈیز (IPOA) کی معاونت حاصل تھی۔ نوریہ کاسٹیانو (Núria Castellano) کی سربراہی میں ماہرین کی ٹیم نے نومبر اور دسمبر ۲۰۲۵ء کے دوران کھدائی کرتے ہوئے قبر نمبر ۶۵؍ میں اس ممی کا جائزہ لیا۔ کھدائی کے دوران ماہرین اس وقت حیران رہ گئے جب انہوں نے ممی کے پیٹ پر ایک پاپائرس رکھا ہوا پایا۔ محققین کے مطابق اس پاپائرس کو اتفاقاً نہیں بلکہ تدفینی رسم کے ایک حصے کے طور پر خوشبو لگانے کے عمل کے دوران جان بوجھ کر وہاں رکھا گیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی متعدد ممیوں کے ساتھ یونانی پاپائرس دریافت ہوئے تھے، تاہم ان تمام تحریروں کا تعلق جادو، تعویذات یا مذہبی رسومات سے تھا۔ اس کے برعکس موجودہ دریافت میں ایک ادبی متن ملا ہے، جس نے اس دریافت کی تاریخی اہمیت کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ اس تحقیق سے وابستہ پروفیسر اگناسی زیویئر ایڈیگو (Ignasi-Xavier Adiego) نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں جب ممی بنانے کے عمل میں یونانی پاپائرس شامل کیے گئے ہوں، لیکن اب تک ملنے والی تمام تحریریں جادوئی نوعیت کی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دریافت کی اصل انفرادیت یہ ہے کہ پہلی مرتبہ کسی تدفینی ماحول میں ایک ادبی متن برآمد ہوا ہے، جو قدیم یونانی ادب اور مصری تدفینی روایات کے درمیان تعلق کو سمجھنے میں نئی راہیں کھول سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ کے بڑے حصے میں کنیڈا کے جنگلات کی آگ کا دھواں پھیل گیا
بعد ازاں جنوری اور فروری ۲۰۲۶ء کے دوران ایک دوسری تحقیقی مہم میں اس پاپائرس کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا۔ پیپرولوجسٹ لیہ ماسیا (Leah Masia) اور اگناسی زیویئر ایڈیگو نے متن کو پڑھنے اور اس کی شناخت کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ ٹکڑا ہومر کی ’ایلیاڈ‘ کی کتاب دوم کے معروف حصے ’’جہازوں کی فہرست‘‘ (Catalogue of Ships) سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ حصہ ٹروجن جنگ سے قبل یونانی افواج کی تیاری، مختلف ریاستوں سے آنے والے لشکروں اور ان کے بحری بیڑوں کا ذکر کرتا ہے، جو جنگ کی تیاری میں مصروف تھے۔
کھدائی کے دوران ماہرین کو البھناسہ کے قدیم قبرستان میں ایک وسیع تدفینی احاطہ بھی ملا، جہاں چونے کے پتھر سے بنے تین تدفینی مقبرے دریافت ہوئے۔ ان مقبروں میں رومی دور کی متعدد ممیوں کے علاوہ خوبصورت نقش و نگار سے مزین لکڑی کے سرکوفگس (تابوت) بھی محفوظ حالت میں ملے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت نہ صرف قدیم مصر اور رومی دور کی تدفینی روایات کے بارے میں نئی معلومات فراہم کرتی ہے بلکہ ہومر کی تخلیقات کی قدیم دنیا میں مذہبی، ثقافتی اور ادبی اہمیت کو بھی ایک نئے زاویے سے سمجھنے میں مدد دے گی۔