• Thu, 19 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گالگوٹیاس یونیورسٹی کی اے آئی ’روبوڈاگ‘ تنازع پر دوبارہ معذرت؛ ’مواصلاتی غلطی‘ کو ذمہ دار قرار دیا

Updated: February 19, 2026, 9:27 PM IST | New Delhi

یونیورسٹی نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ ان کی نمائندہ پروفیسر نیہا سنگھ ”کم معلومات“ رکھتی تھیں اور انہوں نے”کیمرے کے سامنے آنے کے جوش“ میں حقائق کے برعکس معلومات فراہم کیں۔

Professor Neha Singh. Photo: X
پروفیسر نیہا سنگھ۔ تصویر: ایکس

گالگوٹیاس یونیورسٹی نے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ ۲۰۲۶ء میں نمائش کیلئے پیش کئے گئے روبوڈاگ سے جڑے تنازع اور زبردست تنقید کے بعد ایک بار معذرت کا اظہار کیا ہے۔ روبوڈاگ کو ابتدائی طور پر یونیورسٹی کی اپنی اختراع کے طور پر پیش کیا گیا تھا، لیکن بعد میں اس کی شناخت چین میں بنی ہوئی مصنوعات کے طور پر ہوئی۔

اس معاملے میں یونیورسٹی نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ ان کی نمائندہ ”کم معلومات“ رکھتی تھیں اور وہ میڈیا سے بات کرنے کی مجاز نہیں تھیں، اس کی وجہ سے یہ غلط فہمی پیدا ہوئی۔ آن لائن جاری کردہ بیان میں ادارے نے کہا کہ پروفیسر نیہا سنگھ نے ”کیمرے کے سامنے آنے کے جوش“ میں حقائق کے برعکس معلومات فراہم کیں، وہ ترجمان کے طور پر نامزد نہیں تھیں۔ یونیورسٹی نے مزید کہا کہ منتظمین کے تحفظات کو سمجھتے ہوئے انہوں نے اپنا اسٹال خالی کردیا تھا۔ واضح رہے کہ تنازع کے بعد سامنے آنے والی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ یونیورسٹی سے اے آئی سمٹ میں اپنا اسٹال خالی کرنے کا کہا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ: گالگوٹیاس یونیورسٹی کے اسٹال سے چین کا تیار کردہ وائرل روبوڈوگ غائب: رپورٹ

یہ تنازع کیسے شروع ہوا؟

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب پروفیسر سنگھ کا ویڈیو جس میں وہ ”اورین“ (Orion) نامی روبوڈاگ کو یونیورسٹی کے ’سینٹر آف ایکسلینس‘ کے تیار کردہ پروجیکٹ کے طور پر متعارف کرا رہی تھیں، سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔ انہوں نے اس مشین کو خود مختار نقل و حرکت کے ساتھ نگرانی اور کیمپس مانیٹرنگ کے قابل قرار دیا۔ جلد ہی، سوشل میڈیا صارفین نے اس روبوڈاگ اور چینی روبوٹکس کمپنی Unitree کے تیار کردہ ماڈل کے درمیان مماثلت کی نشان دہی کی، جس سے یہ سوال کھڑا ہوگیا کہ آیا درآمد شدہ ٹیکنالوجی کو یونیورسٹی کی اپنی اصل تحقیق کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔ اپنے ابتدائی جواب میں، یونیورسٹی نے اس دعوے کی تردید کی تھی کہ اس نے روبوڈاگ تیار کیا ہے اور کہا تھا کہ یہ آلہ طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے نہ کہ یہ ان کی اپنی کوئی اختراع ہے۔

سوشل میڈیا صارفین نے اس واقعے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے تعلیمی اختراعی نظام کے لئے باعثِ شرمندگی قرار دیا گیا۔ ادارے نے صورتحال کا اعتراف کیا اور پیدا ہونے والی الجھن پر معذرت کی۔ پروفیسر سنگھ نے بھی اس مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنازع غیر واضح مواصلت کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے تبصرے جلد بازی اور جوش و خروش میں دیے گئے تھے، جس کی وجہ سے روبوٹ کی اصلیت کے بارے میں غلط تشریح کی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ: ہائی سیکوریٹی زون میں چوری سے ہلچل

یہ تنازع تاحال توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ صارفین اور مبصرین سمٹ میں پیش کئے گئے یونیورسٹی کے دیگر اختراعی منصوبوں کے دعوؤں کا بھی باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ ان رپورٹس کے بعد کہ پروفیسر سنگھ نے اپنی لنکڈ اِن پروفائل کی سیٹنگز کو ”اوپن ٹو ورک“ (کام کے لئے دستیاب) پر اپ ڈیٹ کر دیا ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر دعوے کئے جارہے ہیں کہ انہیں گالگوٹیاس یونیورسٹی سے نکال دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK