وہائٹ ہاؤس نے اپنا موقف برقرار رکھا ہے کہ معاہدے تک پہنچنا ہی ایران کیلئے ”عقلمندی“ ہوگی۔ امریکی صدارتی محل نے اشارہ دیا ہے کہ اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو فوجی متبادلات میز پر موجود ہیں۔
EPAPER
Updated: February 19, 2026, 9:09 PM IST | Washington/Tehran/New York/Moscow
وہائٹ ہاؤس نے اپنا موقف برقرار رکھا ہے کہ معاہدے تک پہنچنا ہی ایران کیلئے ”عقلمندی“ ہوگی۔ امریکی صدارتی محل نے اشارہ دیا ہے کہ اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو فوجی متبادلات میز پر موجود ہیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو بریفنگ دینے والے قومی سلامتی کے اعلیٰ حکام کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فوج اس ہفتے کے آخر تک ایران پر ممکنہ حملوں کی تیاری کر رہی ہے۔ تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ابھی تک اس تعلق سے حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے اور ایران کے خلاف کسی بھی آپریشن کا وقت چند دنوں تک موخر کیا جاسکتا ہے۔
حکام نے میڈیا کو بتایا کہ وہائٹ ہاؤس کے اندر ہونے والی بات چیت کا مرکز فوجی کشیدگی اور کارروائی سے گریز کرنے کے سیاسی و اسٹریٹیجک نتائج کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر، پینٹاگون نے ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کے خدشات کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ سے کچھ فوجی اہلکاروں کو یورپ اور امریکہ منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات کا اعادہ کیا
مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی بڑے پیمانے پر فوجی موجودگی
مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی موجودگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت طیارہ بردار بحری بیڑہ یو ایس ایس ابراہم لنکن ایک درجن سے زائد امریکی جنگی جہاز خطے میں تعینات ہیں۔ دوسرا بیڑہ ’یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ‘ جو دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار جہاز ہے، تباہ کن بحری جہازوں کے ساتھ خطے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
اوپن سورس ٹریکنگ نے اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں اور ایندھن بھرنے والے طیاروں، جو طویل آپریشنز کو برقرار رکھنے میں مدد کرتے ہیں ہیں، کی فضائی سرگرمیوں میں اضافے کی بھی نشان دہی کی ہے۔ یہ سرگرمیاں اس وقت شروع ہوئیں جب واشنگٹن نے ایران کے اندرونی کریک ڈاؤن اور علاقائی تناؤ پر تشویش کا اظہار کیا، حالانکہ انتظامیہ نے نئے جوہری معاہدے کے لیے دباؤ بڑھانے سے قبل حملے کے منصوبوں کو عارضی طور پر روک دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ ایران کو ہرصورت جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے روکے گا: امریکی وزیر توانائی
اقوامِ متحدہ کا انتباہ: جوہری معاہدے کے لئے وقت ختم ہورہا ہے
اقوام متحدہ کی بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے خبردار کیا کہ جنیوا میں عمان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں کچھ پیش رفت کے باوجود سفارتی تصفیے کی مہلت ختم ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں ٹھوس مسائل پر بات چیت شروع ہو رہی ہے لیکن یہ اب بھی انتہائی پیچیدہ ہیں۔
وہائٹ ہاؤس نے اپنا موقف برقرار رکھا ہے کہ معاہدے تک پہنچنا ہی ایران کیلئے ”عقلمندی“ ہوگی۔ امریکی صدارتی محل نے یہ اشارہ بھی دیا کہ اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو فوجی متبادلات میز پر موجود ہیں۔ واشنگٹن ۲۰۱۸ء کے جوہری معاہدے کے متبادل کی تلاش میں ہے، جبکہ تہران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن اور توانائی کی شہری ضروریات سے وابستہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران اختلافات کے خاتمے کے لیے امریکہ کو آئندہ ۱۴؍ روز میں ٹھوس فارمولہ پیش کرے گا
روس کی کشیدگی کے خلاف تنبیہ
بگڑتے حالات کے درمیان روس نے فریقین سے تحمل کی اپیل کی ہے۔ روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے خبردار کیا کہ ایرانی جوہری مقامات پر مزید حملے، جوہری حادثات جیسے سنگین خطرات کا سبب بن سکتے ہیں۔ انہوں نے ایران پر کسی بھی فوجی کارروائی کو ”آگ سے کھیلنے“ کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ کوئی بھی تصادم خطے میں حالیہ سفارتی پیش رفت کو الٹ سکتا ہے۔ ماسکو تہران کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ روس نے زور دیا کہ وہ ’نیوکلیئر نان پرولیفریشن ٹریٹی‘ کے فریم ورک کے اندر ایسے حل کی حمایت کرتا ہے جو ایران کے حقوق کا تحفظ کرے اور ساتھ ہی جوہری سرگرمیوں کے پرامن رہنے کو یقینی بنائے۔