کورین گیم کھیلنے کی لت میں مبتلا ۳؍ سگی بہنوں کی خودکشی سے غیر معمولی تشویش، پولیس جانچ میں مصروف۔ والدین کو اس لت کے خلاف باخبر رہنے کی ضرورت ہے
EPAPER
Updated: February 04, 2026, 11:02 PM IST | Ghaziabad
کورین گیم کھیلنے کی لت میں مبتلا ۳؍ سگی بہنوں کی خودکشی سے غیر معمولی تشویش، پولیس جانچ میں مصروف۔ والدین کو اس لت کے خلاف باخبر رہنے کی ضرورت ہے
شہر کے تھانہ ٹیلا موڑ علاقے میں واقع بھارت سٹی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک ہی خاندان کی تین نابالغ سگی بہنوں نے مبینہ طور پر عمارت کی نویں منزل سے چھلانگ لگا کر اپنی جان دے دی۔ اس دل دہلا دینے والے سانحہ کے بعد پورے علاقے میں غم اور سناٹا چھا گیا ہے۔ پولیس نے جانچ شروع کر دی ہے اور ہر پہلو سے تفتیش کر رہی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ تینوں بہنیں ایک آن لائن ٹاسک پر مبنی کوریائی ’’لوَر گیم‘‘ سے منسلک اور کافی عرصے سے اس میں سرگرم تھیں۔ پولیس نے خود کشی کے سبب کی ہنوز تصدیق نہیں کی ہے اور کسی گیم یا آن لائن دباؤ کے زاویئے سے بھی تفتیش کررہی ہے لیکن اس واقعہ نے ایک مرتبہ پھر ویڈیو گیمز کی لت کو موضوع بحث بنا دیا ہے۔
ڈیجیٹل دَور میں جہاں ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان بنایا ہے وہیں اس کے ہولناک منفی اثرات نے تہلکہ مچا دیا ہے، خاص طور پر ویڈیو گیمز کی بڑھتی لت نے ماہرین نفسیات، ڈاکٹروں، والدین اور سماج کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق گیمنگ اب صرف ایک مشغلہ نہیں بلکہ بعض افراد، جن میں بچوں، نوعمروں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد ہے، کیلئے یہ عادت ایک سنگین نفسیاتی لت بن چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ویڈیو گیمز کو اس انداز سے ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ کھلاڑی زیادہ سے زیادہ وقت اسکرین کے سامنے گزارے۔ گیم بنانے والی کمپنیاں جدید طرزِ نفسیات اور انسانی رویوں پر مبنی تحقیق کا استعمال کرتے ہوئے ایسے نظام تیار کرتی ہیں جو دماغ کو بار بار کھیل کی طرف مائل کرے۔ ماہرین کے مطابق گیمنگ کی لت کا سب سے بڑا سبب دماغ کا انعامی نظام (ریوارڈ سسٹم) ہے۔ جب کوئی کھلاڑی گیم میں کوئی لیول مکمل کرتا ہے، انعام جیتتا ہے یا کسی مشکل مرحلے میں کامیاب ہوتا ہے تو دماغ میں ’’ڈوپامین‘‘ نامی کیمیکل خارج ہوتا ہے۔ یہی کیمیکل خوشی، جوش اور کامیابی کا احساس پیدا کرتا ہے۔ لگاتار اور تیز رفتار انعامات ملنے کی وجہ سے دماغ اس احساس کا عادی ہوجاتا ہے۔نتیجتاً حقیقی زندگی کی سادہ خوشیاں جیسے کتاب پڑھنا، دوستوں سے ملنا یا گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنا کم پرکشش محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہی عادت رفتہ رفتہ گیم پر مکمل انحصار اور پھر لت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
کئی آن لائن گیمز میں انعامات یقینی نہیں ہوتے بلکہ کبھی جیت کبھی ہار کا سامنا ہوتا ہے۔ نفسیات میں اسے ’’ویریبل ریوارڈ سسٹم‘‘ کہا جاتا ہےجو جوا کھیلنے کی عادت سے مشابہ سمجھا جاتا ہے۔ کھلاڑی کو ہر بار اُمید ہوتی ہے کہ اگلی بار بڑا انعام مل جائے گا اور یہی امید اسے کھیل جاری رکھنے پر مجبور کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض ماہرین ویڈیو گیمز کی لت کو جوا اور منشیات کی لت کے نفسیاتی پیٹرن سے ملتا جلتا قرار دیتے ہیں۔
تحقیقی جائزوں کے مطابق اگر کوئی فرد روزانہ آٹھ سے دس گھنٹے گیمنگ میں صرف کر رہا ہو یا ہفتے میں تیس گھنٹے سے زیادہ کھیل رہا ہو تو یہ خطرے کی علامت ہو سکتی ہے۔ ایسے افراد میں عام طور پر درج ذیل علامات دیکھی جاتی ہیں، کھیلنے کا موقع نہ ملنے پر چڑچڑاپن یا غصہ ، نیند میں شدید کمی، کھانے پینے میں لاپروائی، تعلیمی یا پیشہ ورانہ کارکردگی میں گراوٹ، گھر والوں اور دوستوں سے دوری، بعض معاملات میں گیمرز کئی کئی گھنٹے بغیر وقفےکے کھیلتے رہنا وغیرہ سے جسمانی کمزوری اور ذہنی تھکن بڑھ جاتی ہے۔
عالمی سطح پر ہونے والی متعدد تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ شدید گیمنگ کی لت دماغ کے ان حصوں کو متاثر کر سکتی ہے جو فیصلہ سازی، خود پر قابو اور جذباتی توازن سے متعلق ہوتے ہیں۔ یہی حصے منشیات یا جوا کھیلنے کے عادی افراد میں بھی متاثر پائے گئے ہیں۔ ویڈیو گیم کھیلنے کی عادت کا تعلق ڈپریشن، بے چینی اور سماجی تنہائی سے بھی جوڑا گیا ہے۔