• Tue, 03 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

متھرا کے ایک مندر میں مسلمان ٹھیکیدار کو ریلنگ کا پروجیکٹ ملنے پر تنازع

Updated: February 03, 2026, 9:01 PM IST | Mathura

متھرا کے ایک مندر میں مسلمان ٹھیکیدار کو ریلنگ کا پروجیکٹ ملنے پر تنازع کھڑا ہوگیا، اس معاملے پر دائیں بازو کے ہندو گروپوں کے احتجاج اور تعصب اور منصفانہ سلوک پر وسیع بحث چھڑ گئی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

متھرا (اترپردیش) میں واقع ٹھاکر بانکے بہاری مندر میں مسلم ٹھیکیدار کو ریلنگ لگانے کا ٹھیکہ دیے جانے کے بعد ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جس پر دائیں بازو کے ہندو گروپوں کے احتجاج اور تعصب اور منصفانہ سلوک پر وسیع بحث چھڑ گئی ہے۔یہ کام ملک کےچند انتہائی کثیر تعداد میں عقیدتمندوںوالے مندروں میں سے ایک میں ہجوم کو منظم کرنے کے لیے داخلہ گیٹ سے لے کر باہر نکلنے کے گیٹ تک اسٹیل کی ریلنگ لگانے کا ہے۔ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ٹھیکیدار کا نام سامنے آیا اور مذہبی بنیادوں پر اعتراضات اٹھائے گئے۔
آن لائن شیئر کی گئی ویڈیوز میں ہندو گروپوں سے وابستہ افراد یہ پوچھتے دکھائی دیتے ہیں کہ ایک بڑے مندر کے اندر ایک مسلم کو کام کیسے دیا جا سکتا ہے۔ یہ کلپ تیزی سے پھیل گئی اور شدید رد عمل سامنے آئے۔ جبکہ کچھ نے احتجاج کی حمایت کی، بہت سے دیگر لوگوں نے اسے کھلا تعصب قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا۔سندیپ پاہل کی جانب سے اتوار کو فیس بک پر اپ لوڈ کی گئی ایک ویڈیو نے اس مسئلے کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ کلپ میں وہ پوچھتے ہیں، ’’اگر ہری دوار میں ہرکی پائوڑی پر مسلمانوں کو روکا جا سکتا ہے، تو پھر بانکے بہاری مندر میں مسلم کو ٹھیکہ کیسے دیا جا سکتا ہے؟‘‘ ان کے تبصروں نے آن لائن شدید رد عمل پیدا کیا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’نجی احاطے میں مذہبی اجتماع کیلئے اجازت ضروری نہیں‘‘

فیس بک پر سندیپ پہل کے ذریعے شئیر کئے ویڈیو میں دعوؤں کے مطابق، یہ ٹھیکہ میرٹھ کی ایک کمپنی کانکا کنسٹرکشن کو دیا گیا ہے۔ پہل نے الزام لگایا کہ کمپنی کے اہم شراکت داروں میں سے ایک کانگریس لیڈرسلیم خان ہے اور ٹھیکہ کے عمل میں سرکاری اثر و رسوخکا الزام لگایا، حالانکہ پہل نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ۔دریں اثناءمندر کے حکام نے احتجاج کے فرقہ وارانہ لہجے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔با اثر انتظامی کمیٹی کے رکن شیلندر گوسوامی نے کہا کہ توجہ کام پر ہونی چاہیے، نہ کہ کارکن کے عقیدے پر۔ انہوں نے کہا، ’’ہم ٹھیکے دیتے وقت مذہب نہیں دیکھتے۔ ٹھیکہ قواعد کے مطابق دیا گیا۔‘‘تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے گوسوامی نے مزید کہا، ’’یہ تاریخ میں درج ہے کہ مغل شہنشاہ اکبر سوامی ہری داس کی کرت سننے آئے تھے۔ وہ بھی مسلمان تھے۔ ہماری روایت نفرت کی حمایت نہیں کرتی۔‘‘بہت سے مقامی افراد نے اس رائے سے اتفاق کیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: اتراکھنڈ: مسلم دکاندار کے دفاع پر۲؍ ہندو شہریوں کے خلاف ایف آئی آر

مندر کے قریب ایک دکاندار نے کہا، ’’یہ لوہے کی ریلنگ کا معاملہ ہے، مذہب کا نہیں۔ یہاں مسلمان روزی کیوں نہیں کما سکے؟‘‘ ایک اور رہائشی نے تبصرہ کیا، ’’ایسے احتجاج صرف خوف پھیلاتے ہیں اور سماجی امن کو نقصان پہنچاتے ہیں۔‘‘ساتھ ہی تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ غم و غصہ تنگ ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے جہاں مسلمانوں کو عام کاروباری معاملات میں بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے نشاندہی کی کہ جب تعمیرات میں دوسری جگہوں پر مسلم مزدور استعمال ہوتے ہیں تو کوئی اعتراض نہیں اٹھایا جاتا، لیکن مندر سے متعلقہ کام کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بعد ازاں مندر کمیٹی نے تحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔ گوسوامی نے کہا، ’’اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ نہ دیں۔ مندر عقیدت کی جگہ ہے، سیاست کی نہیں۔‘‘واضح رہے کہ جیسے جیسے کام جاری ہے، اس واقعے نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ کس طرح مذہبی شناختکی بناء پر مسلمانوں کی عوامی زندگی میں شرکت کو روکا جاتا ہے، چاہے ضوابط کی پیروی کی گئی ہو اور کوئی قانون نہ ٹوٹا ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK