• Wed, 04 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اُترپردیش کے۲؍ کابینی وزیروں کے درمیان ’تو تو میں میں‘، سیاسی گلیاروں کا درجہ حرارت بڑھا

Updated: February 04, 2026, 11:01 AM IST | Lucknow

وزیراعلیٰ یوگی کے کابینی ساتھی اوم پرکاش راج بھر نے نام لئے بغیر دوسرے کابینی ساتھی انل راج بھر کے والد اور بھائی کو ’لوہا چور ‘ کہا تو انل نے کہا کہ کچھ سال قبل تک تو اوم پرکاش خود رکشا چلاتے تھے

Om Prakash Rajbhar
اوم پرکاش راج بھر

ان دنوں ملک کی سیاست میں کئی طرح کی اٹھا پٹخ چل رہی ہے۔ کہیں شنکرا چاریہ بمقابلہ یوگی ہے، تو کہیں یوجی سی کے حوالے سے اعلیٰ ذات اور پسماندہ طبقات میں رسہ کشی ہے تو کہیں کچھ اور چل رہا ہے۔ اسی دوران اترپردیش میں ۲؍ وزیروں کے درمیان ’تو تو میں میں‘ چل رہی ہے جس نے سردی کے موسم میں ریاست کا سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یوگی حکومت کے یہ دونوںوزیر ’راج بھر‘ ہیں اور دونوں کادعویٰ ہے کہ ’راج بھر‘ ووٹوں پر اِن کی اجارہ داری ہے۔ ان میں سے اوم پرکاش راج بھر ہیں جبکہ دوسرے انل راج بھر ہیں۔  
 ایک دن قبل انل راج بھر نے الزام عائد کیا تھا کہ کچھ لوگ ووٹ خرید کر اقتدار میں آتے ہیں۔اوم پرکاش راج بھر نے اس بیان پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے انل راج بھر کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’پورے ملک میں ووٹ بیچنے والی کوئی دکان ہے تو اس کا پتہ بتانا چاہے۔ اگر وہ مائی کے لعل ہیںتو بتا دیں۔ آج جو لوگ انگلیاں اٹھا رہے ہیں، وہ کبھی لوہا چوری کیا کرتے تھے۔۲۳؍ سال میں اوم پرکاش راج بھر نے جتنا کام کیا ہے،کیا کسی اور نےکیا؟‘‘
 ایسے میں انل راج بھر کیوں خاموش رہتے۔ انہوں نے اوپی راج بھر کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ’’ وہ کبھی بنارس میں آٹو رکشا چلایا کرتے تھے۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ لوہے کی سریہ خریدنے ہمارے گاؤں میں کب آئے؟لیکن اس بہانے وہ آج آپ تمام دکانداروں کو چور کہہ رہے ہیں۔ یہ غلط ہے۔‘‘
 ذاتی نوعیت کے اس طرح کے تلخ ریمارکس اور الزامات پر مبنی اس تنازع نے سیاسی تلخ کلامی کو نمایاں کردیا ہے۔اس کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی اور ریاست کا سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا۔پیر کی شام ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انل راج بھر نے کہا کہ اس طرح کی سیاست میں ماں کو گھسیٹنا بالکل غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ مائی کا لعل کہنا یا یہ کہ ماں   کے دودھ کو چیلنج کرنا کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر انسان اپنی ماں کا دودھ پی کر ہی بڑا ہوتا ہے۔  اپنی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’’ میرے والد فوج میں تھے، انہوں نے ملک کیلئے دو جنگیں لڑی تھیں، جس کے بعد اُس وقت کے وزیر اعظم نے انہیں تمغے سے نوازا تھا۔ میرا خاندان ایک سنہری تاریخ رکھتا ہے۔سبکدوشی کے بعد اگر کوئی شخص گھر چلانے کیلئے کوئی کاروبار شروع کرتا ہے تو اس میں غلط کیا ہے؟‘‘ 
 انہوں نے سوال کیا کہ کیا راج بھر، چوہان اور پرجاپتی برادری کے لوگ کاروبار نہیں کرتے؟کیا تمام تاجروں کو چور کہا جائے گا؟ اوم پرکاش راج بھر کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیا کبھی آپ میرے بھائی کی دکان پر سامان خریدنے گئے ہیں جس سے آپ کو علم ہو کہ وہاں کیا ہوا؟ اگر کچھ غلط ہوا بھی ہوتا تو اسی وقت احتجاج کیا جانا چاہئے تھا۔  
 اس طرح اپنا دفاع کرنے کے بعدانل راج بھر نے اوم پرکاش کو نشانہ بھی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بنارس کے سندھورا علاقے میں آٹو رکشاچلاتے تھے ، پھر انہیں کیسے پتہ چلا کہ کہاں سریہ چوری ہوتی ہے اور وہ کہاں بیچی جاتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی واضح ہدایت ہے کہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے،اسلئے میں کسی بھی قسم کے تنازع کو بڑھانانہیں چاہتا۔  
 ’ سارناتھ میں مہاراجا سہیل دیو جینتی پروگرام‘ کا حوالہ دیتے ہوئے انل راج بھر نے الزام لگایا کہ وہاں پر۱۵۔۱۰؍ افراد کو شراب پلا کر بھیجا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی وہ تقریر شروع کرتے، وہ لوگ نعرے بازی کرنے لگتے اور پروگرام میں خلل ڈالنے کی کوشش کرتے تھے، حالانکہ میں نے کسی پارٹی کا نام نہیں لیا تھا، نہ ہی کسی کے خلاف کچھ کہا تھا۔شنکراچاریہ کے حوالے سے انل راج بھر نے کہا کہ ان کا استقبال ہے۔ ہم  الہ آباد میں بھی ان کا استقبال کرنا چاہتے تھے لیکن اُس وقت انتظامیہ نے بھیڑ کے پیش نظر رتھ یاترا آگے بڑھانے سے منع کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ تیہ تھی کہ کسی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں ذمہ داری طے کرنا مشکل ہو جاتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK