اکھلیش یادو نے کہا کہ ایس آئی آر کے نام پر فارم نمبر ۷؍ کے ذریعہ بڑے پیمانے پر اقلیتوں اور ’او بی سیز‘ کے ووٹ کاٹے جا رہے ہیں
EPAPER
Updated: February 03, 2026, 7:34 AM IST | Lucknow
اکھلیش یادو نے کہا کہ ایس آئی آر کے نام پر فارم نمبر ۷؍ کے ذریعہ بڑے پیمانے پر اقلیتوں اور ’او بی سیز‘ کے ووٹ کاٹے جا رہے ہیں
سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے اتر پردیش میں جاری’ایس آئی آر‘ کے دوران ووٹر لسٹ سے نام خارج کرنے کیلئے استعمال ہونے والے فارم۔۷؍کے مبینہ غلط استعمال پر بی جے پی کے خلاف سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی طرف سے تعینات جعل ساز عناصر خود فارم۔۷؍ بنا رہے ہیں اور جعلی دستخطوں کے ذریعے پی ڈی اے طبقے سے تعلق رکھنے والے ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کروا رہے ہیں۔
پیر کو ایک پوسٹ کے ذریعے اکھلیش یادو نے اسے جمہوریت پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ طرزِ عمل تقریباً پورے صوبے میں عام ہے، لیکن الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے اب تک کوئی ٹھوس کارروائی سامنے نہیں آئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بار بار توجہ دلانے کے باوجود ایس آئی آر عمل کے دوران فارم۔۷؍ سے متعلق مبینہ بے ضابطگیاں رک نہیں پا رہی ہیں۔
سماجوادی پارٹی سربراہ نے کہا کہ فارم۔۷؍ کا غیر قانونی استعمال ایک سنگین جرم ہے اور الیکشن کمیشن کو چاہئے کہ اس کے غلط استعمال پر دی جانے والی سزاؤں سے متعلق عوامی اشتہارات جاری کرے تاکہ قصورواروں اور ان کے معاونین کو واضح انتباہ مل سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹی کے پی ڈی اے نگراں کارکنان اور باشعور ووٹر اپنے طور پر اس مبینہ دھوکہ دہی کو بے نقاب کر رہے ہیں لیکن کمیشن کو بھی اپنی ساکھ برقرار رکھنے کیلئے آگے آنا چاہئے۔ریاست میں ہونے والی اس مبینہ دھوکہ دہی کو ’میگا اسکیم‘ قرار دیتے ہوئے اکھلیش یادو نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ ریاست کے مختلف سطحوں پر اس معاملے کو اجاگر کرے اور حقائق کو سامنے لانے میں مدد کرے۔
اکھلیش یادو نے کہا کہ جن لوگوں کے نام پر اعتراضات ہو رہے ہیں، انہیں خود بھی اس بات کا علم نہیں ہے کہ ان کا نام درست ہونے کے باوجود کاٹا جا رہا ہے۔انہوں نے نیوز چینلوں، اخبارات، مقامی صحافیوں اور یوٹیوبر سے اپیل کی کہ وہ بی جے پی کے اس ’مہا گھوٹالے‘ کا پردہ فاش کریں، اس معاملے کو اپنی سطح پر پھیلائیں اور اس معاملے کو عوامی بنانے میں ہمارے ساتھ تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو پورے ملک کے سامنے لائیں اور ایماندارانہ صحافت کو سچ کے طور پر عوام تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل ملک کی جمہوریت کے مفاد میں ہے،اسلئے اس کی تحقیقاتی رپورٹنگ ضروری ہے تاکہ عوام کو سچائی کا پتہ چل سکے اور انتخابی عمل کی شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔ انہوں نے ایس آئی آر کے اس پورے معاملے کو ایک ’بڑی سازش‘قرار دیا۔