لکھنؤ میں  ۵۰؍ سی اے اے مخالف مظاہرین پر گینگسٹر ایکٹ کا اطلاق

Updated: July 11, 2020, 4:04 AM IST | Lucknow

دس کو دوبارہ گرفتار کیا جاچکاہے، پولیس نے جواز پیش کیا کہ آتشزنی اور توڑ پھوڑ کے ملزمین کے خلاف سخت قانون کے تحت معاملہ درج کیاگیا ہے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 دسمبر ۲۰۱۹ء میں  شہریت ترمیمی ایکٹ، این پی آر اور این آرسی کے خلاف مظاہرہ کرنے والے کم از کم ۵۰؍ افراد کے خلاف لکھنؤ پولیس نے سخت ترین قانون گینگسٹر ایکٹ کے تحت معاملہ درج کرلیا ہے۔ان میں  سے ۱۰؍ کو دوبارہ گرفتار بھی کیا جاچکاہے۔ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق لکھنؤ پولیس کے جوائنٹ کمشنر نیلبجا چودھری نے مظاہرین پر گینگسٹر ایکٹ کے اطلاق کا یہ جواز پیش کیا ہے کہ یہ سخت قانون ان لوگوں پر لگایا گیا ہےجو مظاہروں  کے دوران آتشزنی اور توڑ پھوڑ میں  ملوث پائے گئے ہیں ۔ ان کے مطابق ’’ہم نے پولیس اسٹیشنوں  کو ہدایت دی ہے کہ آتشزنی اور توڑ پھوڑ میں  ملوث افراد پر اس ایکٹ کو لگایا جائے۔‘‘
 واضح رہے کہ گینگسٹر ایکٹ ٹھاکر گنج، قیصر باغ اور حسن گنج پولیس اسٹیشن کے حدود میں  منعقد ہونے والے مظاہروں   کے شرکاء پر لگایاگیا ہے۔ ٹھاکر گنج میں  ۲۵؍ مظاہرین کے خلاف گینگسٹر ایکٹ عائد کیاگیا ہے جبکہ قیصر باغ اور حسن پور میں ۱۵-۱۵؍افراد کو اس قانون کے تحت ملزم بنایا گیا ہے۔
 اتر پردیش سرکار شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف صدائےا حتجاج بلند کرنے کے اپنے جمہوری حق کا استعمال کرنے والے مظاہرین کے ساتھ پہلے دن سے انتہائی ظالمانہ طرز عمل اپنا رہی ہے جس کی وجہ سے اس پر شدید تنقیدیں  ہورہی ہیں ۔ الزام ہے کہ اتر پردیش میں  پرامن مظاہرہ کرنے والوں  کو پولیس نے نشانہ بنایا جس کے بعد تشدد پھوٹ پڑا اور پھر اس تشدد کیلئے مظاہرین کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے پہلے ان کی بڑی پیمانے پر گرفتاری ہوئی پھر تشدد کے دوران نقصان کی بھرپائی کیلئے مظاہرین کی املاک ضبط کرنے کی انتہائی سخت کارروائی بھی شروع کردی گئی ہے۔اس دوران پولیس کے ذریعہ توڑ پھوڑ کے متعدد ویڈیو سامنے آئے مگر ان کے تعلق سے کوئی کارروائی نہیں  کی گئی ہے۔ البتہ ۵۷؍ مظاہرین سے ایک کروڑ سے زائد کا ہرجانہ وصول کرنے کی تیاری ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK