جے جے، نائر ، کے ای ایم ، سائن ، کوپراور دیگر اسپتالوں میں مریض،ان کے رشتہ دار، ریسیڈنٹ ڈاکٹرس، طب کے طلبہ اور ٹرینی نرسیں محدود پکوانوں پر گزارا کر نے پر مجبور ہیں۔
گیس کی قلت۔ تصویر:آئی این این
امریکہ - اسرائیل - ایران جنگ سے گیس کی کمی ہونے پر شہر و مضافات کے متعدد سرکاری اور بی ایم سی اسپتالوں جے جے، نائر ، کے ای ایم ، سائن اور کوپر وغیرہ کے نجی کینٹین کا مینو بری طرح متاثر ہواہے جس کی وجہ سے مریض، ان کے رشتہ دار، ریسیڈنٹ ڈاکٹرس، طب کے طلبہ اور ٹرینی نرسیں محدود پکوان، دال کھچڑی، سینڈوچ اور چائے پر گزارا کر نے پر مجبور ہیں ۔گیس کی شدید قلت سے کچھ کینٹین بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گئی ہیں ۔
مذکورہ بڑے سرکاری اور میونسپل اسپتالوں میں روزانہ ہزاروں مریض علاج کیلئے آتے ہیں۔ چونکہ بہت سے مریض اور ان کے رشتہ دار اسپتال پہنچنے کیلئے علی الصباح گھروں سے نکلتے ہیں ،اس لئے وہ ناشتے اور کھانے کیلئے بنیادی طور پر اسپتال کے احاطے میں موجود کینٹین پر منحصر ہوتے ہیں ۔ چونکہ اسپتال انتظامیہ صرف اسپتال میں زیر علاج مریضوں کو کھانا فراہم کرتا ہے اس لئے یہ کینٹین مریضوں کے رشتہ داروں کا سب سے بڑا سہارا ہوتے ہیں ۔
کے ای ایم، سائن، نائر اور کوپر اسپتالوں میں مریضوں کے کھانا پکانے کیلئے پائپ گیس کا استعمال کیا جاتا ہے اس لئے زیر علاج مریضوں کے کھانا پکانے میں کوئی پریشانی نہیں ہے لیکن کمرشیل سلنڈروں کی قلت سے اسپتال کے احاطے میں موجود پرائیویٹ کینٹین میں سلنڈروں کا ذخیرہ ختم ہو رہا ہے ۔ نتیجتاً گزشتہ۲،۳؍ روز سے کینٹین میں تلی ہوئی اشیاء پر مکمل پابندی عائد ہے ۔ صرف دال کھچڑی، سینڈوچ، چائے اور بسکٹ ہی فروخت ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے اوپی ڈی میں آنے والے مریض، اسپتال میں داخل مریضوں کےرشتہ دار، ریسیڈنٹ ڈاکٹرس، میڈیکل اسٹوڈنٹس اور ٹرینی نرسیں محدود کھانے پینےکی اشیاء پر اکتفا کر رہے ہیں ۔
کے ای ایم اسپتال میں واقع کینٹین کے مالک اُدئے شیٹی نے اس نمائندے کو بتایا کہ ’’ گیس کی قلت سے بڑی پریشانی ہو رہی ہے ۔ کینٹین ضابطے کے مطابق ہمیں اسپتال میں آنے والوں کے کھانے پینے کی اشیاء کا انتظام کرنا ہے لیکن گیس نہ ملنے سے گزشتہ ایک ہفتہ سے کسی روز کینٹین بندکرنی پڑ رہی ہے توکسی دن ہاف ڈے جاری رہتا ہے۔ سلنڈر نہ ملنے سے تلی ہوئی اشیاء بنانا بند کر دیا گیاہے ۔گیس کی قلت اور قیمت بڑھنے کے باوجود ہم نے اشیاء کی قیمتوںمیں اضافہ نہیں کیا ہے ۔ ‘‘
نائر اسپتال کی سینٹرل کینٹین کے مالک نارائن پجاری کے مطابق ’’ میرے کینٹین میں ایک پائپ گیس کی سہولت ہے جس کےجاری ہونے سے آسانی ہو رہی ہے ورنہ بہت تکلیف ہوتی لیکن ایک پائپ لائن گیس سے ضرورت پوری نہیں ہو رہی ہے اس لئے میں اپنے طور پر سلنڈر کا انتظام کر رہا ہوں ، اس کے باوجود مینو میں کمی کرنی پڑی ہے ۔‘‘
کچھ اسپتالوں کے کینٹین میں صرف ایک یا دو سلنڈر رہ گئے ہیں۔ اس وجہ سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر آئندہ ۲؍ روز میں گیس کی سپلائی بحال نہ کی گئی تو یہ کینٹین بند کرنے پڑسکتے ہیں۔اس بارے میں جے جے اسپتال کے ڈین ڈاکٹر اجے بھنڈروار نے کہاہے کہ ’’اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔‘‘