Inquilab Logo Happiest Places to Work

گیس سلنڈر کی قلت کے خلاف نالاسوپارہ میں احتجاج

Updated: March 26, 2026, 10:01 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

۲۰؍دن پہلے بُکنگ کرانےکےباوجود سلنڈر نہ ملنے سے صارفین سخت ناراض۔ گورائی ناکہ پر بیچ سڑک پر خالی سلنڈروں کے ساتھ مظاہرہ کیا۔

Protest In Nalasopara.Photo:INN
نالاسوپارہ میں احتجاج۔ تصویر:آئی این این
گیس سلنڈر کی قلت سے وسئی ، ویرا ر کے مکین بری طرح پریشان ہیں ۔ ۲۰؍ سے ۲۵؍ دن قبل بکنگ کروانے کے باوجود سلنڈر نہ ملنے سے صارفین میں حکومت کے تئیں ناراضگی پائی جا رہی ہے ۔ اس تعلق سے وسئی ،نالاسوپارہ اور ویرار وغیرہ میںگزشتہ چنددنوں میں احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔صارفین نے نالاسوپارہ کے گورائی ناکہ پربیچ سڑک پر خالی سلنڈر رکھ کر اس کے خلاف احتجاج کیا ۔ اس دوران گیس ایجنسیوں پر سلنڈر کیلئے لمبی لمبی قطاریں لگی  ہیں ۔
واضح رہے کہ جیسے جیسے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے ایندھن کا عالمی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، دیگر علاقوں کی طرح  وسئی ویرار کے رہائشیوں کو رسوئی گیس (ایل پی جی) کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ نالاسوپارہ میں صورتحال سنگین ہو گئی ہے ۔یہاں کے لوگ شہری انتظامیہ اور حکومت کے خلاف احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں ۔ان میں سے متعدد مکین ایسے ہیں جنہوں نے یکم مارچ کو سلنڈر بُک کرایا تھا لیکن۲۰، ۲۲؍ دن گزر جانے کے باوجود انہیں سلنڈر نہیں ملا ہے ۔ اسی وجہ سے یہاں کے گورائی ناکہ پر شہریوں نے اپنے خالی گیس سلنڈروں کو سڑک کے بیچ رکھ کر زبردست احتجاج کیا ۔
گورائی ناکہ کے ایک مکین نے کہا کہ ’’یکم مارچ کو سلنڈر بُک کرانے کے باوجود ابھی تک مجھے ڈیلیوری نہیں ملی ہے جس کی وجہ سے گزشتہ ۲۰؍دن سے گھر میں چولہا نہیں جل سکا ہے۔ باہر سے کھانا منگوانے پر مجبور ہوں لیکن ایک عام انسان ،جس کی آمدنی محدود ہو، اس کیلئے روزانہ ہوٹل سے مہنگا کھانا منگوانا ،ممکن نہیں ہے ۔چنانچہ سلنڈر نہ ملنے سے سخت پریشانی ہو رہی ہے ۔‘‘
 
 
وسئی گائوں کے سماجی کارکن سید دستگیر نے اس نمائندے کو بتایا کہ ’’ ۵؍کلو کے کمرشیل سلنڈر سے متعلق حکومت کے دوہرے رویہ پر عوام میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے ۔ پہلے راشن کی دکانوں سے یہ سلنڈر عوام میں تقسیم کیا گیا جس سے غریب خاندان کے لوگ ایندھن کی ضروریات پوری کرلیتے تھے لیکن جب سے ایندھن کا بحران ہوا ہے،حکومت نے اسے غیر قانونی قرار دے دیا ہے جس کی وجہ سے عوام کو یہ سلنڈر بھی نہیں مل پا رہا ہے ۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلنڈر غیر قانونی تھا تو حکومت نے پہلے کیوں قانونی طور پر اسے فراہم کیا ۔ ‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ’’ ۱۵؍ اور ۵؍ کلو کے دونوں ہی سلنڈروں کی ناکافی فراہمی سے عوام میں بڑی بے چینی پائی جا رہی ہے ۔ ان کیلئے کھانا پکانا مشکل ہوگیا ہے۔ غریب مزدور ہوٹل کا مہنگا کھانا کب تک برداشت کرسکیں گے۔ گیس نہ ہونے سے لوگ اپنے عزیز ،متعلقین ،رشتے داروں اور ہمسایوں کی مدد سے کھانے پینے کی ضروریات پوری کر رہے ہیں ۔ ‘‘
 
 
نالا سوپارہ کے ایک مکین نے کہا کہ ’’ گیس سلنڈر مہنگے داموں بلیک مارکیٹ میں فروخت کئے جا رہے ہیں جبکہ عام شہری قطاروں میں انتظار کر رہے ہیں ۔ اس بحران نے مزدور طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے ۔ موجودہ صورتحال کا کورونا اور لاک ڈائون کے دوران درپیش مشکلات سے موازنہ کرتے ہوئے، کچھ رہائشیوں نے یہاں تک مطالبہ کیا ہے کہ حکومت سبسڈی والے سفری ٹکٹ فراہم کرے تاکہ ایندھن کے بحران کے حل ہونے تک وہ اپنے آبائی گاؤں واپس جا سکیں ۔‘‘ابھی تک مقامی انتظامیہ کی جانب سے اس حوالے سے   باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے کہ گیس سپلائی کب بحال ہوگی ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK