• Fri, 02 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گوتم اڈانی اور چار اڈانی گروپ کمپنیوں نے سیبی کا شیئر ہولڈنگ معاملہ ۴۸ء۱؍ کروڑ میں نمٹایا

Updated: September 29, 2026, 9:08 PM IST | Mumbai

ہندوستانی سرمایہ بازار کے نگران ادارے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (SEBI) نے اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی، گروپ کی چار کمپنیوں اور دیگر افراد سے متعلق کم از کم عوامی حصص رکھنے کے ضابطوں سے جڑے معاملے کو مجموعی طور پر ۴۸ء۱؍کروڑ روپے کی ادائیگی کے ذریعے نمٹانے کی اجازت دے دی ہے۔

Gautam Adani.Photo:INN
گوتم اڈانی۔ تصویر:آئی این این

ہندوستانی سرمایہ بازار کے نگران ادارے  سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (SEBI)  نے اڈانی گروپ کے چیئرمین  گوتم اڈانی، گروپ کی چار کمپنیوں اور دیگر افراد سے متعلق کم از کم عوامی حصص رکھنے کے ضابطوں سے جڑے معاملے کو مجموعی طور پر ۴۸ء۱؍کروڑ روپے  کی ادائیگی کے ذریعے نمٹانے کی اجازت دے دی ہے۔ اس تصفیے کے تحت گوتم اڈانی سمیت ۱۴؍ افراد اور چار کمپنیوں نے کارروائی ختم کرنے کے لیے مجموعی رقم ادا کی۔

یہ بھی پڑھئے:سری چرنی نے ویمنز ٹی۲۰؍ انٹرنیشنل رینکنگ میں نیا ریکارڈ قائم کیا

 یہ معاملہ درج شدہ کمپنیوں میں  کم از کم عوامی حصص (Minimum Public Shareholding)  برقرار رکھنے کے ضابطے سے متعلق تھا۔ ہندوستان میں درج شدہ کمپنیوں کے لیے کم از کم  ۲۵؍فیصد حصص عوامی ملکیت میں رکھنا  ضروری ہے۔سیبی نے جن کمپنیوں سے متعلق کارروائی شروع کی، ان میں  اڈانی انٹرپرائزز، اڈانی پاور، اڈانی پورٹس اینڈ اسپیشل اکنامک زون  اور سابقہ  اڈانی ٹرانسمیشن، جو اب اڈانی انرجی سالیوشنز کے نام سے جانی جاتی ہے، شامل ہیں۔ سیبی کے مطابق ان کمپنیوں کے خلاف شکایات  جون اور جولائی ۲۰۲۰ء میں موصول ہوئی تھیں۔ بعد ازاں معاملے کی جانچ کی گئی اور ستمبر  ۲۰۲۴ء میں متعلقہ فریقوں کو وجہ بتاؤ نوٹس بھی جاری کیے گئے۔ اہم بات یہ ہے کہ سیبی کے تصفیہ حکم میں مبینہ خلاف ورزی کے بارے میں کوئی حتمی ضابطہ جاتی نتیجہ درج نہیں کیا گیا۔ اسی طرح کمپنیوں کو حصص کی ملکیت سے متعلق کوئی اصلاحی انکشاف کرنے کی ہدایت بھی نہیں دی گئی۔ یعنی ۴۸ء۱؍کروڑ روپے کی ادائیگی کو کسی خلاف ورزی کے ثابت ہونے کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔ معاملہ تصفیہ کے طریقہ کار کے تحت ختم کیا گیا ہے۔ اس کارروائی میں شامل چار اڈانی گروپ کمپنیاں یہ ہیں:  اڈانی انٹرپرائزز، اڈانی پاور، اڈانی پورٹس اینڈ اسپیشل اکنامک زون،  اڈانی ٹرانسمیشن، جو اب  اڈانی انرجی سالیوشنز  ہے۔ ان کمپنیوں کے ساتھ گوتم اڈانی اور دیگر ڈائریکٹروں کے خلاف بھی کارروائی ہوئی تھی۔ مجموعی طور پر ۱۳؍ دیگر افراد بھی تصفیے میں شامل رہے۔

یہ بھی پڑھئے:مراکشی گلوکار سعد لمجرد کو عصمت دری کے مقدمے میں ۱۰ ؍ سال قید

اسی سلسلے میں  ونود اڈانی سے متعلق ایک الگ اہم پیش رفت بھی سامنے آئی ہے۔ سیبی نے غیر ملکی سرمایہ کاری کے دو ذرائع کے ذریعے اڈانی گروپ کی کمپنیوں میں سرمایہ کاری پر مؤثر کنٹرول سے متعلق بنیادی الزامات کو ثابت شدہ نہیں پایا۔سیبی کے مطابق ونود اڈانی کا ان غیر ملکی اداروں میں کردار مشاورتی نوعیت کا تھا اور صرف مشاورتی کردار کو خود بخود کمپنی پر کنٹرول کے مترادف نہیں قرار دیا جا سکتا۔
 یہ معاملہ سیبی کی ان متعدد تحقیقات کے وسیع سلسلے کا حصہ تھا جو امریکی شارٹ سیلر  ہنڈن برگ ریسرچ  کی جنوری ۲۰۲۳ء کی رپورٹ کے بعد اڈانی گروپ سے متعلق شروع کی گئی تھیں۔ ہنڈن برگ نے اڈانی گروپ پر اسٹاک کی قیمتوں میں مبینہ ہیرا پھیری سمیت کئی الزامات عائد کیے تھے، جنہیں اڈانی گروپ نے مسترد کر دیا تھا۔ سیبی کی جانب سے حالیہ مہینوں میں اڈانی گروپ سے متعلق متعدد معاملات تصفیے کے ذریعے نمٹائے گئے ہیں، تاہم مختلف معاملات کی نوعیت الگ الگ ہے اور ہر حکم کو اسی مخصوص کارروائی کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK