• Thu, 01 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۲۰۰۸ء احمد آباد بم دھماکہ: سپریم کورٹ نے احمد بریلوی کی سزائے موت پر روک لگائی

Updated: October 01, 2026, 10:08 PM IST | New Delhi

سپریم کورٹ نے جمعرات کو ۲۰۰۸ء کے احمدآباد بم دھماکے کے معاملے میں ایک مجرم کی سزائے موت پر روک لگا دی ہے۔ مجرم نے گجرات ہائی کورٹ کی جانب سے سنائے گئے سزائے موت کے فیصلے کو یہ کہتے ہوئے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا کہ انہیں محض الزام کی بنیاد سزا سنائی گئی ہے ۔

Supreme Court of India. Photo: INN
سپرریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این

 احمد بریلوی ان ۳۸؍ مجرموں میں شامل ہیں جنہیں ۲۰۲۲ء میں ایک خصوصی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔ سپریم کورٹ نے جمعرات کو ۲۰۰۸ء کے احمد آباد بم دھماکوں کے معاملے میں سزائے موت پانے والے ۳۸؍ مجرموں میں سے ایک، احمد باوا ابوبکر بریلوی کی سزائے موت پر روک لگا دی ہے۔جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس اگسٹین جارج مسیح پر مشتمل بنچ نے یہ حکم احمد بریلوی کی اس درخواست پر سماعت کے دوران دیا جس میں انہوں نے گجرات ہائی کورٹ کےسزائے موت کے فیصلےکو چیلنج کیا تھا۔سماعت کے دوران بریلوی کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ،’’میرے موکل کو مکمل طور پر صرف سازش کے الزام کی بنیاد پر سزا سنائی گئی ہے۔‘‘اس دلیل کا نوٹس لیتے ہوئے جسٹس وکرم ناتھ نے کہا، ’’ٹھیک ہے، ان کی سزا کی تعمیل پر فی الحال روک لگا دی جاتی ہے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: ضمانت یا مجرمانہ مقدمات کی سماعت میں جج اپنے ذاتی اخلاقی نظریات مسلط نہ کریں: سپریم کورٹ

واضح رہے کہ احمد آباد سیریل بم دھماکے ۲۶؍ جولائی ۲۰۰۸ء کو ہوئے تھے، جب شہر کے مختلف علاقوں میں پے در پے دھماکے ہوئے تھے۔ ان دھماکوں میں ۵۶؍ افراد ہلاک اور ۲۰۰؍ سے زائد زخمی ہوئے تھے۔فروری ۲۰۲۲ء میں گجرات کی ایک خصوصی عدالت نے اس کیس میں ۴۹؍ ملزمان کو مجرم قرار دیا تھا۔ عدالت نے ان میں سے ۳۸؍ کو سزائے موت اور۱۱؍ کو عمر قید کی سزا سنائی تھی، جبکہ ۲۸؍ دیگر افراد کو بری کر دیا تھا۔اس کے بعد گجرات ہائی کورٹ نے سزاؤں کے خلاف اپیلوں اور ریاست کی جانب سے سزائے موت کی توثیق کیلئے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ بعد ازاں جولائی ۲۰۲۶ء میں گجرات ہائی کورٹ نے تمام ۳۸؍ مجرموں کی سزاؤں اور سزائے موت کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: یوپی پولیس سپریم کورٹ میں پھر رُسوا ہوئی، تحلیل کردینے کا انتباہ

تاہم بریلوی نے ہائی کورٹ کے اسی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ۔جمعرات کو ہونے والی سماعت کے دوران بریلوی کے وکیل نے گجرات ہائی کورٹ کے فیصلے کی ترجمہ شدہ کاپی فراہم کرنے کی درخواست کی اور نشاندہی کی کہ ٹرائل کورٹ کا تمام ریکارڈ گجراتی زبان میں ہے۔سپریم کورٹ نے اس درخواست پر ریاستِ گجرات کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس کا جواب طلب کیا ہے اور ساتھ ہی سزائے موت پر روک لگا دی ہے۔اس کیس میں اشون ویشنو، ایم ایس مکرم، اشوتوش ٹھاکر، امِت کمار، ہرش جھا، یشسوی داساری اور اتّم پنوار، ان وکیلوںنے احمد بریلوی کی طرف سے پیروی کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK