Updated: October 01, 2026, 10:07 PM IST
| London
اسکاٹش گرینز نے برطانوی حکومت سے فلسطین ایکشن پر عائد پابندی واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی ترجمان میگی چیپ مین نے کہا کہ غزہ کی صورتحال پر آواز اٹھانے والے لوگوں کے حقوق کا احترام کیا جانا چاہئے اور پُرامن احتجاج و آزادیٔ اظہار کا تحفظ ضروری ہے۔
اسکاٹش گرینز نے جمعرات کو برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین ایکشن گروپ پر عائد پابندی واپس لے۔ یہ مطالبہ برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حکومت ان لاکھوں لوگوں کی آواز سن رہی ہے جو فلسطینی عوام کی حالتِ زار سے متاثر اور مشتعل ہوئے ہیں۔ اسکاٹش گرینز کی ترجمان میگی چیپ مین نے برطانوی اخبار ’دی نیشنل‘ کے حوالے سے کہا، ’’جن لوگوں نے مارچ کیا، منظم ہوئے اور اسرائیل کی جانب سے نسل کشی کے خلاف آواز اٹھائی، انہوں نے فلسطین کے مسئلے کو سیاسی ایجنڈے پر لانے میں مدد کی ہے۔ انہیں سنا جانا چاہئے اور ان کے حقوق کا احترام کیا جانا چاہئے۔‘‘ ان کا یہ بیان ملی بینڈ کے اس بیان کے بعد آیا جس میں انہوں نے رواں ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ حکومت اس ملک اور دنیا کے دیگر حصوں میں موجود ان لاکھوں لوگوں کی آواز سن رہی ہے جو فلسطینی عوام کی حالتِ زار سے متاثر اور مشتعل ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’آپ درست تھے۔ اور (وزیر اعظم) اینڈی (برنہم) کی قیادت میں ہم نے اپنے طریقۂ کار کو ازسرنو ترتیب دیا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: کرسٹا پائیک کی سزائے موت: دو جان لیوا انجکشن سے بچ گئی، اسپتال منتقل
چیپ مین نے کہا کہ ملی بینڈ کا یہ اعتراف درست ہے کہ غزہ میں ہونے والی تباہی دیکھنے والے اور حکومت سے کارروائی کا مطالبہ کرنے والے لاکھوں افراد میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ اگر برطانوی حکومت فلسطین کے حوالے سے اپنی سیاسی پالیسی میں تبدیلی کے بارے میں ’’سنجیدہ‘‘ ہے تو اسے فلسطین ایکشن پر عائد پابندی واپس لینی ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’’یہ اعتراف اس وقت تک کھوکھلا محسوس ہوگا جب تک لیبر پارٹی ایسی پابندی برقرار رکھتی ہے جس کے تحت نسل کشی اور دیگر جنگی جرائم کے خلاف آواز اٹھانے، بینرز لہرانے اور ٹی شرٹس پہننے پر سیکڑوں افراد کو مجرم قرار دیا گیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’اگر لیبر حکومت واقعی اپنا راستہ تبدیل کرنے میں سنجیدہ ہے تو اسے فلسطین ایکشن کو کالعدم قرار دینے کا عمل ختم کرنا ہوگا اور آزادیٔ اظہار اور پُرامن احتجاج کے ہمارے بنیادی حقوق کا دفاع کرنا ہوگا۔‘‘ چیپ مین نے برطانوی حکومت سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی تمام فروخت پر پابندی عائد کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا کہ برطانیہ ’’فلسطینی عوام کے جبر میں مزید شریک نہ رہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: فرانس: ہائی اسکولوں کی ناکہ بندی جاری، احتجاج یونیورسٹیوں تک پھیل گیا
واضح ہو کہ فلسطین ایکشن پر پابندی کے فیصلے کے بعد اس گروپ کی حمایت کے الزام میں ہزاروں افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ پولیس کے مطابق فلسطین ایکشن پر ۵؍ جولائی ۲۰۲۵ء کو دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس سے قبل گروپ کے ارکان نے رائل ایئر فورس کے ایک اڈے میں داخل ہوکر ۲؍ طیاروں پر اسپرے پینٹ کیا تھا، جس سے تقریباً ۷؍ ملین پاؤنڈ (۹ء۴؍ ملین ڈالر) کا نقصان ہوا تھا۔ ہائی کورٹ نے فروری میں اس پابندی کو غیر متناسب اور غیر قانونی قرار دیا تھا، تاہم گزشتہ ماہ کورٹ آف اپیل نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پابندی برقرار رکھی۔ تاہم جولائی میں برطانیہ کی اعلیٰ ترین عدالت نے فلسطین ایکشن کی شریک بانی ہدا عموری کو کورٹ آف اپیل کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کی اجازت دے دی جس میں گروپ پر پابندی برقرار رکھنے کی توثیق کی گئی تھی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی برطانیہ میں پُرامن احتجاج کے خلاف بڑھتی ہوئی کارروائی پر تنقید کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطین ایکشن کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔