• Thu, 01 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی پابندی کے بعد تہران کی بین الاقوامی پروازوں میں ۴۲؍ فیصد کمی

Updated: October 01, 2026, 10:06 PM IST | Tehran

امریکی پابندیوں کے بعد ایران کے دارالحکومت تہران سے آنے اور جانے والی بین الاقوامی پروازوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ فلائٹ ٹریکنگ پلیٹ فارم فلائٹ رڈار ۲۴؍ کے اعداد و شمار کے مطابق، تہران کے امام خمینی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے بین الاقوامی فضائی ٹریفک میں تقریباً ۴۲؍ فیصد کمی ہوئی ہے۔

Air Iran.Photo:INN
ایئر ایران۔ تصویر:آئی این این

امریکی پابندیوں کے بعد ایران کے دارالحکومت تہران سے آنے اور جانے والی بین الاقوامی پروازوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ فلائٹ ٹریکنگ پلیٹ فارم   فلائٹ رڈار ۲۴؍ کے اعداد و شمار کے مطابق، تہران کے امام خمینی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے بین الاقوامی فضائی ٹریفک میں تقریباً ۴۲؍ فیصد کمی ہوئی ہے، تاہم چین، ترکی، روس، پاکستان، قطر اور بعض دیگر ممالک کے لیے پروازیں اب بھی جاری ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ۲۳؍ستمبر کو امریکی پابندی نافذ ہونے کے بعد امام خمینی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر روزانہ اوسطاً  ۵۳؍بین الاقوامی پروازیں  چل رہی ہیں، جبکہ پابندی سے قبل روزانہ پروازوں کی اوسط تعداد تقریباً ۹۱؍ تھی۔ اس طرح تہران کے فضائی رابطوں میں تقریباً نصف کے قریب کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:عالیہ بھٹ ارتھ شاٹ پرائز ۲۰۲۶ء کی ممبئی تقریب میں شرکت کریں گی

پابندیوں کے باوجود تہران سے بعض اہم بین الاقوامی فضائی راستے برقرار ہیں۔  چین  کے لیے پروازوں کی تعداد میں خاص کمی نہیں ہوئی اور وہاں سے تہران آنے جانے والی پروازوں کی اوسط تعداد تقریباً ۸؍ روزانہ  رہی ہے۔ اسی طرح  ترکی  تہران سے سب سے مصروف بین الاقوامی راستوں میں شامل ہے، اگرچہ پابندی کے بعد اس روٹ پر پروازوں میں تقریباً   ۱۹؍ فیصد کمی  ہوئی ہے۔
فلائٹ ٹریکنگ کے مطابق  آرمینیا، روس، افغانستان، پاکستان، تھائی لینڈ، تاجکستان، ویتنام، ملائیشیا اور قطر  کے لیے بھی مختلف سطح پر فضائی رابطے برقرار ہیں۔ تاہم ہر روٹ پر پروازوں کی تعداد یکساں نہیں ہے اور بعض مقامات کے لیے شیڈول میں نمایاں تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ امریکی پابندی کے بعد تہران کے کئی اہم فضائی رابطے مکمل طور پر یا بڑی حد تک متاثر ہوئے ہیں۔  متحدہ عرب امارات، عمان، آذربائیجان اور جارجیا  کے لیے ایرانی ایئرلائنز کی پروازیں بند ہوگئی ہیں۔ خاص طور پر تہران اور دبئی کے درمیان ۲۳؍ ستمبر کو تین تین پروازیں چلنے کے بعد اس روٹ پر کوئی پرواز نہیں چل سکی، جبکہ متحدہ عرب امارات نے امریکی پابندی پر عمل درآمد کرتے ہوئے ایرانی پروازیں معطل کردی ہیں۔
عراق کے ساتھ بھی فضائی رابطے متاثر ہوئے ہیں۔ ۲۵؍ستمبر کے بعد تہران اور عراق کے درمیان پروازیں نہیں چلیں، تاہم عراقی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق امریکہ نے عراق کی قومی ایئرلائن کو  نجف اور ایران کے درمیان پروازیں  شروع کرنے کی اجازت دی ہے، جن کے اکتوبر میں شروع ہونے کی توقع ہے۔ امریکہ نے ایرانی ایوی ایشن سیکٹر کے خلاف سخت پابندیاں عائد کی ہیں اور غیر ملکی کمپنیوں کو بھی ایرانی ایئرلائنز کے ساتھ کاروبار کرنے کی صورت میں پابندیوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں کئی ممالک نے ایرانی طیاروں کے اپنے ہوائی اڈوں تک رسائی محدود یا معطل کردی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے ۲۴؍ ستمبر کو ایرانی ایئرلائنز کی تمام پروازیں  تاحکمِ ثانی  معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:نتیش سیواچ نے۶۴؍ سال کا انتظار ختم کیا، گریکو رومن کشتی کا چاندی کا تمغہ جیتا

ایران کی بڑی ایئرلائنز میں شامل  ماہان ایئر  نے بھی ۲۰؍ ستمبر کے بعد ترکی کے لیے پروازیں نہیں چلائیں، اگرچہ بعض دیگر ایرانی ایئرلائنز نے تہران اور ترکی کے درمیان اپنی پروازوں میں اضافہ کیا ہے۔ تہران کی بین الاقوامی فضائی ٹریفک میں موجودہ کمی صرف امریکی پابندیوں کا نتیجہ نہیں ہے۔ فروری کے اواخر میں اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے بعد ایران نے اپنا فضائی حدود کا نظام مکمل طور پر بند کردیا تھا، جس کے بعد پروازوں کی بحالی کے باوجود بین الاقوامی فضائی رابطے پہلے کی سطح پر نہیں پہنچ سکے تھے۔ پابندیوں نے اس صورتحال کو مزید متاثر کیا ہے۔
فلائٹ ٹریکنگ کے مطابق امریکی پابندی سے قبل ستمبر کے ایک عام ہفتے میں تہران سے تقریباً ۱۸؍ ممالک  کے لیے فضائی رابطے موجود تھے۔ موجودہ صورتحال میں متعدد روٹس بند ہونے کے باوجود ایشیا اور پڑوسی ممالک کے کچھ اہم فضائی راستے برقرار ہیں۔ تاہم  فلائٹ رڈار۲۴؍کے اعداد و شمار میں ایسی پروازیں شامل نہ ہونے کا امکان بھی موجود ہے جن کے ٹرانسپونڈر سگنلز دستیاب نہیں تھے یا جن کی روانگی اور لینڈنگ کے اوقات قابلِ اعتماد طور پر ریکارڈ نہیں ہوسکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK