ملک کے معروف صنعت کار اور اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے اتوار کو ضلع کے پیر پینتی میں گروپ کے زیر تعمیر سپر کریٹیکل پاور پروجیکٹ کا موقع پر جا کر معائنہ کیا۔
EPAPER
Updated: February 22, 2026, 10:05 PM IST | Bhagalpur
ملک کے معروف صنعت کار اور اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے اتوار کو ضلع کے پیر پینتی میں گروپ کے زیر تعمیر سپر کریٹیکل پاور پروجیکٹ کا موقع پر جا کر معائنہ کیا۔
ملک کے معروف صنعت کار اور اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے اتوار کو ضلع کے پیر پینتی میں گروپ کے زیر تعمیر سپر کریٹیکل پاور پروجیکٹ کا موقع پر جا کر معائنہ کیا۔سرکاری ذرائع کے مطابق اڈانی پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت ایک روزہ دورے پر پیر پینتی پہنچے اور کوئلہ پر مبنی ۲۴۰۰؍ میگاواٹ صلاحیت والے اس پاور پروجیکٹ میں جاری چار دیواری کی تعمیر، زمین کی ہمواری سمیت دیگر کاموں کا جائزہ لیا۔
ذرائع نے بتایا کہ اس دوران اڈانی نے منصوبے کے افسران کے ساتھ میٹنگ کر کے تعمیراتی کام کی پیش رفت کی تازہ جانکاری حاصل کی اور کام میں تیزی لانے کی ہدایت دی۔ اس سے قبل انہوں نے منصوبے کی ہموار کی گئی زمین پر شجرکاری بھی کی۔
ذرائع کے مطابق اڈانی گروپ کے چیئرمین نے کچھ مقامی مسائل پر ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر نول کشور چودھری سے بھی بات چیت کی اور اس منصوبے کے تعمیراتی کام میں ضلع انتظامیہ کی جانب سے ملنے والے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ اس دوران پیرپینتی کے رکن اسمبلی مراری پاسوان نے مسٹر ادانی سے ملاقات کر کے ایک یادداشت بھی پیش کی۔ صنعت سے وابستہ ماہرین کے مطابق، گروپ کے چیئرمین کے اس دورے کو بہار میں ترقیاتی کاموں کے نقطہ نظر سے نہایت اہم مانا جا رہا ہے۔ پیرپینتی میں اڈانی گروپ کے اس توانائی منصوبے کا تعمیراتی کام ستمبر ۲۰۲۵ء میں وزیر اعظم نریندرمودی کے ہاتھوں آن لائن سنگ بنیاد رکھنے کے بعد شروع ہوا تھا۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں بہار میں کسی بھی صنعتی گروپ کی جانب سے کیا گیا یہ سب سے بڑا سرمایہ کاری منصوبہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اوساسونا کی ریئل میڈرڈ کے خلاف حیران کن فتح، خطاب کی دوڑ دلچسپ
اڈانی گروپ کا یہ منصوبہ پیر پینتی بلاک کے سرمت پور اور اس کے آس پاس کی تقریباً ۴۷۹؍ہیکٹر اراضی پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ یہ الٹرا سپر کریٹیکل پلانٹ ۲۴۰۰؍میگاواٹ پیداواری صلاحیت کا ہوگا۔ اس علاقے کے شمال میں گنگا ندی، جنوب میں نیشنل ہائی وے اور قریب ہی واقع پیرپینتی ریلوے اسٹیشن، لاجسٹک نقطہ نظر سے اس مقام کو نہایت موزوں بناتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ہنداور امریکہ کے درمیان عبوری تجارتی معاہدے پر بات چیت کی ری شیڈول
اس پلانٹ کی تعمیر کے دوران ۱۰؍ سے ۱۲؍ ہزار افراد کو اور منصوبہ شروع ہونے کے بعد تقریباً ۳۰۰۰؍ افراد کو روزگار کے مواقع حاصل ہوں گے۔ اس منصوبے پر اڈانی گروپ کی جانب سے ۳۰؍ ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ منصوبے کو پانچ برسوں میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ فی الحال چار دیواری اور زمین کی ہمواری کا کام جاری ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ میگا پروجیکٹ بہار کی بجلی کی ضروریات کو مضبوط کرے گا اور علاقائی روزگار، صنعتی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کو نئی رفتار فراہم کرے گا۔اڈانی صنعت کی دنیا کی ایک بڑی شخصیت ہیں اور ان کا یہ دورہ محض ایک معائنہ ہی نہیں، بلکہ ریاست میں اعتماد اور سرمایہ کاری کا مثبت پیغام بھی ہے۔