اس کے باوجود مزید امداد کی اشد ضرورت اب بھی برقرار ہے۔اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے اب تک۱۰؍ ہزار سے زیادہ امدادی ٹرک غزہ پہنچائے گئے ہیں۔
غزہ میں کھانا بنانے کیلئے لکڑیاںکاٹی جارہی ہیں۔ تصویر: اےپی/پی ٹی آئی
غزہ میں حالیہ جنگ بندی کے نتیجے میں۱۰؍ لاکھ سے زیادہ بچوں کی زندگی میں واضح بہتری آئی ہے اور مجموعی طور پر خوراک تک رسائی میں اضافہ ہوا ہے لیکن مزید امداد کی اشد ضرورت اب بھی برقرار ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) اور عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کے دو اعلیٰ عہدیداروں نے غزہ میں ایک ہفتے کا دورہ کرنے کے بعد بتایا ہے کہ۱۰؍ اکتوبر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے اب تک۱۰؍ ہزار سے زیادہ امدادی ٹرک غزہ پہنچائے گئے ہیں جو وہاں آنے والی مجموعی انسانی امداد کا تقریباً ۸۰؍ فیصد ہے۔
یونیسف کے ڈپٹی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر برائے انسانی امداد ٹیڈ چیبان نے بتایا ہے کہ ۳؍ماہ میں خوراک کی بڑی مقدار میں فراہمی کے نتیجے میں قحط جیسے حالات پر قابو پا لیا گیا ہے۔
ڈبلیو ایف پی کے ڈپٹی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کارل سکو کا کہنا ہے کہ دورے میں انہوں نے جن خاندانوں سے ملاقات کی ان میں سے بیشتر کو دن میں کم از کم ایک یا دو مرتبہ کھانا میسر تھا۔ غزہ کی منڈیوں میں تجارتی اشیاء دوبارہ نظر آنی شروع ہو گئی ہیں جن میں سبزیاں، پھل، مرغی اور انڈے بھی شامل ہیں۔ بچوں کو دو سالہ جنگ کے صدمے اور ذہنی دباؤ سے نکلنے میں مدد دینے کے لئے تفریحی سامان بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔
یونیسف اور اس کے شراکت داروں نے ۱۶؍ لاکھ سے زیادہ افرادکے لئے پینے کا صاف پانی فراہم کیا ہے اور۷؍ لاکھ افراد میں کمبل اور گرم کپڑے تقسیم کئے ہیں۔ علاوہ ازیں غزہ شہر کے الشفا اسپتال میں بچوں کے لئے انتہائی نگہداشت کی سہولیات بھی بحال کر دی گئی ہیں۔
بچوں کو معمول کے حفاظتی ٹیکے لگانے کے لئے غزہ بھر میں دوسری مہم جاری ہے جبکہ مزید ۷۲؍ غذائی مراکز قائم کئے گئے ہیں جس کے بعد ان کی مجموعی تعداد۱۹۶؍ ہو گئی ہے۔
ٹیڈ چیبان نے کہا ہے کہ یہ کامیابیاں معنی رکھتی ہیں اور اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب لڑائی بند ہو جائے، سیاسی عزم برقرار رہے اور انسانی امداد تک رسائی ممکن ہو تو کیا کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
کارل سکو نے بتایا ہے کہ ڈبلیو ایف پی نے جنگ شروع ہونے کے بعد گزشتہ۱۰۰؍ ایام میں پہلی مرتبہ ہر ماہ۱۰؍ لاکھ سے زیادہ افراد کو مکمل خوراک فراہم کی ہے۔ روزانہ۴؍ لاکھ افراد کو گرم کھانا فراہم کیا جا رہا ہے اور۲۵۰؍ عارضی تعلیمی مراکز میں۲؍ لاکھ۳۰؍ ہزار بچوں کو بھی کھانے پینے کی اشیاء دی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ سیکڑوں امدادی مراکز اور تقریباً ۲۰؍ امدادی گودام بھی فعال ہیں۔دیگر امدادی تنظیمیں بھی ادارے کی سہولیات کے ذریعے خیمے، کمبل، گدے اور دیگر ضروری سامان غزہ میں پہنچا رہی ہیں۔
ان کے مطابق ادارہ امدادی قافلوں کی باقاعدہ آمد میں بھی سہولت فراہم کر رہا ہے اور سامان ذخیرہ کرنے کی مشترکہ گنجائش بڑھا رہا ہے تاکہ امداد کو آبادی کے قریب رکھا جا سکے جبکہ۶۰؍ ہزار خاندانوں کے لئے نقد امداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔اگرچہ غزہ میں امداد کی مقدار بڑھ گئی ہے لیکن یہ اب بھی وسیع ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ناکافی ہے۔ ٹیڈ چیبان نے کہا ہے کہ یہ صورتحال خاص طور پر بچوں کیلئے اب بھی انتہائی نازک اور جان لیوا ہے۔اکتوبر کے اوائل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد اب تک۱۰۰؍ سے زیادہ بچوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ ایک لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔