Updated: August 27, 2026, 10:11 PM IST
| Gaza
حماس نے بیان دیا ہے کہ اسرائیل بچوں کی ان پتنگوں مزید کشیدگی کیلئے ایک بہانے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے پتنگوں کی بنیاد پر علاقوں کو خالی کرانے کی اسرائیلی دھمکیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں کے تحفظ کی اسرائیلی ذمہ داریوں کے پیش نظر ناقابل قبول قرار دیا۔ ان انتباہات کے بعد غزہ کے مقامی گروپس نے خاندانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کو پتنگیں اڑانے سے روکیں، اس خوف سے کہ بھٹک کر جانے والی پتنگوں کو نئے حملوں کے جواز کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اپنی پتنگیں پھاڑنے کے بعد فلسطینی بچہ رونے لگا۔ تصویر: ایکس
محصور فلسطینی علاقے غزہ پٹی میں ایک فلسطینی بچے نے اپنے خیمے کے باہر روتے ہوئے ایک ایک کرکے اپنی تمام پتنگیں پھاڑ دیں جو اس نے خود اپنے ہاتھوں سے بنائی تھیں۔ گزشتہ دنوں اسرائیل نے غزہ کے قریبی اسرائیلی علاقوں تک پتنگیں پہنچنے پر فلسطینیوں کے خلاف حملوں میں شدت لانے اور محصور علاقے سے رہائشیوں کو بے دخل کرنے کی دھمکی دی جس کے بعد بچے کو یہ اقدام اٹھانے پر مجبور ہونا پڑا۔
سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں اس بچے کو غصے سے پتنگیں پھاڑتے اور پھر روتے ہوئے اپنے خیمے کے پاس بیٹھتے دیکھا جا سکتا ہے۔ پتنگیں تباہ کرتے ہوئے بچہ کہتا ہے، ”نیتن یاہو کو خوش کرنے کیلئے، کاٹز کو خوش کرنے کیلئے، ٹرمپ کو خوش کرنے کیلئے، وہ ہمیں اس چیز سے محروم کرنا چاہتے ہیں جس سے ہم پیار کرتے ہیں۔ خدا کی قسم، میرا دل ٹوٹ رہا ہے۔“
یہ بھی پڑھئے: انتونیو غطریس نے غزہ اور سوڈان میں قحط کی تصدیق کو ’شرمناک سنگِ میل‘ قرار دیا
ویڈیو میں شدت جذبات سے رو دینے والے اس ۱۰ سالہ بچے کا نام محمد احمد المفتی ہے۔ غزہ میں اسرائیلی حملوں میں وہ اپنے والد کو کھو چکا ہے۔ اسرائیلی حملوں میں ان کا گھر بھی تباہ ہوچکا ہے اور وہ فی الحال ایک خیمے میں رہتا ہے۔ غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ جنگی کارروائیوں سے ہونے والی وسیع پیمانے پر تباہی کے درمیان، فلسطینی بچے تفریح کی سادہ شکلوں کی طرف متوجہ ہوئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں غزہ کے قریب واقع اسرائیلی علاقوں میں کئی پتنگوں کے پہنچنے کی اطلاعات کے بعد پتنگ بازی صہیونی ریاست کیلئے ایک سیکوریٹی تشویش بن گئی، جس کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو نے اتوار کے روز دھمکی دی کہ اگر پتنگیں، غبارے اور ڈرون اسرائیلی علاقوں تک پہنچتے رہے تو غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف حملوں میں شدت لائی جائے گی اور جبری انخلا کرایا جائے گا، جبکہ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیل پتنگ کے ساتھ ڈرون جیسا ہی سلوک کرے گا خواہ وہ بارودی مواد لے جائے یا نہ لے جائے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ بندی کے ۳۱۵؍ دن میں ۴۳۷۹؍ اسرائیلی خلاف ورزیاں
تاہم، اسرائیلی فوج نے برآمد ہونے والی چار پتنگوں کا معائنہ کرنے کے بعد کہا کہ ان میں کوئی مشکوک مواد نہیں پایا گیا اور نہ ہی وہ کسی موقع پر خطرہ بنی تھیں، نیز اس نے اس بات کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا کہ ان پتنگوں کے پیچھے حماس کا ہاتھ تھا۔ حماس نے کہا کہ یہ پتنگیں محض بچوں کے اڑانے والے کھلونے تھیں۔ فلسطینی مسلح تنظیم نے مزید کہا کہ کہ اسرائیل ان پتنگوں مزید کشیدگی کیلئے ایک بہانے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے پتنگوں کی بنیاد پر علاقوں کو خالی کرانے کی اسرائیلی دھمکیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں کے تحفظ کی اسرائیلی ذمہ داریوں کے پیش نظر ناقابل قبول قرار دیا۔ ان انتباہات کے بعد غزہ کے مقامی گروپس نے خاندانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کو پتنگیں اڑانے سے روکیں، اس خوف سے کہ بھٹک کر جانے والی پتنگوں کو نئے حملوں کے جواز کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں عالمی تحفظ کی تعیناتی ضروری: اقوام متحدہ
واضح رہے کہ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، ۱۰ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود جاری اسرائیلی حملوں میں ۱۲۹۶ فلسطینی شہید اور ۴۲۹۶ دیگر زخمی ہو چکے ہیں۔ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک، غزہ میں اسرائیل کی جنگ نے ۷۳ ہزار سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے ہیں اور ایک لاکھ ۷۴ ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔