Inquilab Logo Happiest Places to Work

انتونیو غطریس نے غزہ اور سوڈان میں قحط کی تصدیق کو ’شرمناک سنگِ میل‘ قرار دیا

Updated: August 26, 2026, 7:08 PM IST | New York

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے سوڈان اور غزہ میں قحط کی تصدیق کو عالمی غذائی بحران کا شرمناک سنگِ میل قرار دیتے ہوئے سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ قحط کے باضابطہ اعلان کا انتظار کرنے کے بجائے پیشگی اقدامات کرے۔ انہوں نے شہریوں کو خوراک اور پانی سے محروم کرنے کی روک تھام اور غذائی نظام کے تحفظ کیلئے اقوام متحدہ کی قرارداد ۲۴۱۷؍ پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ بھی کیا۔

UN chief Antonio Guterres. Photo: X
اقوامِ متحدہ کے چیف انتونیو غطریس۔ تصویر: ایکس

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے منگل کو سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران سوڈان اور غزہ پٹی میں قحط کی تصدیق کو عالمی غذائی عدم تحفظ کے حوالے سے ایک ’’شرمناک سنگِ میل‘‘ قرار دیا۔ غطریس نے بتایا کہ ۲۰۲۵ء میں نہ صرف دوسری جنگِ عظیم کے بعد مسلح تنازعات کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی بلکہ عالمی سطح پر بھوک بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی، جبکہ کم از کم ۲۶؍ کروڑ ۶۰؍ لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خوراک کے شدید بحران سے دوچار ۱۳؍ اہم ترین علاقوں میں سے ۱۲؍ میں تشدد بدستور بھوک کی بنیادی وجہ ہے۔ عالمی غذائی پروگرام (WFP) کے قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر کارل اسکاؤ نے عالمی سطح پر جنگوں اور غذائی قلت کے تعلق کو واضح کرتے ہوئے کہا، ’’آبنائے ہرمز میں لنگر انداز ایک آئل ٹینکر کا مطلب سوڈان کے ایک بچے کیلئے روزانہ ایک کھانا کم ہونا ہو سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ سوڈان میں فروری کے بعد بنیادی غذائی اشیا کی قیمتوں میں تقریباً ۴۰؍ فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: عمران خان کو منظر سے مٹانے کی کوشش: مائیکل ایتھرٹن کی پاکستان حکومت پر تنقید

تین اہم بحری راستوں کا بحران

اسکاؤ نے ’’تین اہم بحری راستوں کے بحران‘‘ کا تصور پیش کیا، جس میں آبنائے ہرمز، بحیرۂ احمر اور بحیرۂ اسود شامل ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں پابندیوں کے باعث کھاد کی دستیابی میں شدید کمی آئی ہے، حالانکہ دنیا کی تقریباً ایک تہائی کھاد کی تجارت اسی راستے سے ہوتی ہے۔ ایران میں جنگ شروع ہونے کے بعد تیل کی قیمتوں میں ۳۶؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے استنبول کے ذریعے اناج کی ترسیل میں گزشتہ سال کے مقابلے میں ۴۰؍ فیصد کمی آئی ہے، جس کے باعث صومالیہ جیسے درآمدات پر انحصار کرنے والے ممالک کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ غطریس نے اعتماد سازی کیلئے محدود مدت پر مشتمل ایک اقدام کی تجویز دی، جس کے تحت ابتدا میں کھاد لے جانے والے بحری جہازوں کی غیر جانب دارانہ تصدیق اور رجسٹریشن پر توجہ دی جائے گی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ طریقہ کار عملی سہولت فراہم کرنے کیلئے ہے اور اسے خطے میں بحری آمدورفت کے حقوق کی مکمل بحالی کا متبادل نہیں سمجھا جا سکتا۔

خوراک کے نظام پر منظم حملے

ایکشن اگینسٹ ہنگر کی چیف ایگزیکٹو پیرین بینوا نے بتایا کہ اپریل ۲۰۲۳ء سے سوڈان میں غذائی نظام پر ۹۰۰؍ سے زائد حملے ہو چکے ہیں، جن میں بازاروں پر بمباری اور مویشیوں کی لوٹ مار بھی شامل ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سوڈان میں عورت ہونا بھوک کا شکار ہونے کے امکان کا ایک ’’اعداد و شمار کے لحاظ سے اہم اشارہ‘‘ بن چکا ہے۔ بینوا نے غذائی قلت کی شدت کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ خوراک تک رسائی ختم ہونے کے صرف تین ہفتوں کے اندر بچے اعضا کی ناکامی اور شدید جسمانی کمزوری کا شکار ہونا شروع ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: موہن بھاگوت کے نیویارک پروگرام کی مخالفت، میئر ظہران ممدانی بھی میدان میں آگئے

غطریس نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ قحط کے باضابطہ اعلان کا انتظار کرنے کے بجائے پیشگی اور مؤثر اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم قحط یا تباہ کن حالات کی باضابطہ تصدیق کا انتظار نہیں کر سکتے۔‘‘ انہوں نے اقوام متحدہ کی قرارداد ۲۴۱۷؍ پر مکمل عمل درآمد کی تجویز دی تاکہ شہریوں کو خوراک اور پانی سے محروم کرنے کی روک تھام کی جا سکے۔ انہوں نے کھیتوں، بندرگاہوں اور خوراک ذخیرہ کرنے کی مارکیٹوں کے تحفظ کا بھی مطالبہ کیا اور ان افراد کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کی تجویز دی جو غیر قانونی طور پر انسانی امداد کی رسائی روک رہے ہیں۔ اسکاؤ نے غزہ میں صورتحال کے حوالے سے ’’امید کی ایک ہلکی سی کرن‘‘ کا ذکر کیا، تاہم خبردار کیا کہ افغانستان میں فنڈز کی کمی کے باعث عالمی غذائی پروگرام غذائی قلت کا شکار ہر سات بچوں میں سے چھ کو امداد فراہم کرنے سے قاصر ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK