• Tue, 15 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ: اسپتالوں میں قبل ازوقت پیدائش کا بحران، انکیوبیٹر کم پڑگئے

Updated: September 15, 2026, 9:36 AM IST | Gaza

قبل از وقت پیدائش میں اضافہ، غذائی قلت اور طبی سہولتوں کی کمی نے نوزائیدہ بچوں کے شعبوں پر غیر معمولی دباؤ ڈال دیا؛ خان یونس کے ایک اسپتال میں ۵۴؍ نومولود ۲۷؍ بچوں کی گنجائش والے یونٹ میں زیر علاج۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

غزہ کے اسپتالوں میں قبل از وقت پیدا ہونے والے نومولود بچوں کی تعداد بڑھنے اور طبی آلات کی شدید کمی کے باعث نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ گنجائش سے کئی گنا زیادہ مریضوں کا علاج کرنے پر مجبور ہیں۔ خان یونس کے ناصر میڈیکل کمپلیکس کے التّحرير اسپتال میں نوزائیدہ بچوں کا شعبہ اس وقت اپنی تاریخ کی شدید ترین بھیڑ کا سامنا کررہا ہے، جہاں ۴؍ ستمبر کو مزید ۱۰؍ قبل از وقت بچے داخل کیے جانے کے بعد زیر علاج نومولودوں کی تعداد ۵۴؍ ہوگئی۔

اسپتال کے ماہر اطفال درویش ابو الخیر کے مطابق یونٹ کی گنجائش صرف ۲۷؍ بچوں کی ہے، یعنی موجودہ تعداد مقررہ گنجائش کے تقریباً ۲۰۰؍فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ جگہ اور انکیوبیٹر کم پڑنے کے باعث بعض صورتوں میں ایک ہی انکیوبیٹر میں ایک سے زیادہ نومولودوں کو رکھنا پڑرہا ہے۔ اسپتال میں ادویات اور آکسیجن کی بھی شدید قلت ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اسرائیلی وزیر ثقافت کا ’نازا‘ کے فلم سازوں کی شہریت منسوخ کرنے کی دھمکی

ڈاکٹر کے مطابق قبل از وقت پیدائش اور پیدائشی پیچیدگیوں میں اضافہ اس دباؤ کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو حاملہ خواتین میں غذائی قلت، خراب ہوتی صحت اور جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات سے جوڑا ہے۔ یہ طبی جائزہ متعلقہ ڈاکٹر کی جانب سے پیش کیا گیا ہے، جبکہ مجموعی طور پر غزہ کا صحت کا نظام طویل عرصے سے ادویات، ایندھن، طبی آلات اور عملے کی کمی سے دوچار ہے۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اگست ۲۰۲۶ء میں غزہ میں ۵۴۹۳؍بچوں کی پیدائش ہوئی، جو ۲۰۲۶ء کے دوران ایک ماہ میں سب سے زیادہ پیدائشیں ہیں۔ اقوام متحدہ کی یونیسف نے بھی رواں سال بتایا تھا کہ قبل از وقت اور کم وزن بچوں کی پیدائش میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور تقریباً ہر ۵؍ میں سے ۱؍ نومولود کو انتہائی نگہداشت یا جسمانی حرارت برقرار رکھنے والی خصوصی طبی سہولت درکار ہے۔

انکیوبیٹرز کی کمی غزہ میں نئی نہیں بلکہ جنگ کے دوران مسلسل سنگین ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق جنگ سے پہلے غزہ میں ۸؍ نوزائیدہ انتہائی نگہداشت یونٹوں میں مجموعی طور پر ۱۷۸؍ انکیوبیٹر موجود تھے، لیکن نومبر ۲۰۲۴ء تک شمالی غزہ کے۳؍ یونٹ تباہ ہونے کے بعد یہ تعداد گھٹ کر ۵۴؍ رہ گئی۔ طبی عملے نے اس عرصے میں بعض اسپتالوں میں ۳؍ یا ۴؍ نومولودوں کو ایک ہی انکیوبیٹر میں رکھنے کے واقعات بھی رپورٹ کیے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹیٹ برادرز کی شاہانہ زندگی محض دکھاوا، لگژری گاڑیاں اور گھڑیاں کرائے کی نکلی

یونیسف نے مئی ۲۰۲۶ء میں بتایا تھا کہ غزہ میں بڑی تعداد میں بچے قبل از وقت، غذائی قلت کے ساتھ یا ہنگامی حالات میں پیدا ہورہے ہیں اور نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ محدود آلات کے ساتھ گنجائش سے زیادہ مریض سنبھال رہے ہیں۔ تنظیم نے نومبر کے بعد غزہ کے اسپتالوں کو ۳؍ وینٹی لیٹر اور 3 انکیوبیٹر فراہم کیے تھے، تاہم ضرورت اس سے کہیں زیادہ ہے۔

بحران صرف انکیوبیٹرز تک محدود نہیں۔ غزہ میں بجلی کی مستقل فراہمی نہ ہونے کے باعث اسپتال جنریٹرز پر انحصار کرتے ہیں، لیکن ایندھن، انجن آئل اور پرزہ جات کی کمی سے یہ نظام بھی خطرناک حد تک متاثر ہورہا ہے۔ ناصر اسپتال میں ۴؍ جنریٹرز میں سے ایک پہلے ہی بند ہوچکا ہے اور باقی میں سے ۲؍ شدید دباؤ میں کام کررہے ہیں۔ تکنیکی عملے کو جنریٹرز کا انجن آئل معمول کے ۲۵۰؍ گھنٹے کے بجائے تقریباً ۱۰۰۰؍ گھنٹے بعد تبدیل کرنا پڑرہا ہے۔

غزہ سٹی کے الاحلی عرب اسپتال میں بھی ۱۰؍ ستمبر کو مرکزی جنریٹر خراب ہونے کے بعد سی ٹی اسکین اور ایکسرے سمیت اہم طبی خدمات معطل کرنا پڑیں، جبکہ کئی آپریشن مؤخر ہوئے۔ اسپتال روزانہ تقریباً ۱۰۰۰؍ مریضوں کو خدمات فراہم کرتا ہے اور ہنگامی زچگی کی سہولت بھی دیتا ہے۔

طبی بحران کے درمیان آکسیجن کی قلت بھی بڑھ رہی ہے۔ غزہ کے صحت حکام نے گھروں اور خیموں میں زیر علاج مریضوں کے لیے بیرونی آکسیجن سلنڈر دوبارہ بھرنے کی بعض خدمات روک دی ہیں تاکہ محدود آکسیجن کو انتہائی نگہداشت، نوزائیدہ بچوں کے انکیوبیٹرز اور آپریشن تھیٹروں کے لیے محفوظ رکھا جاسکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK