Updated: April 23, 2026, 6:06 PM IST
| Barcelona
فلسطینی حامی عالمی اتحاد فلوٹیلا نے بحیرۂ روم میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی سپلائی لے جانے والے جہازوں کو روکنے کا اعلان کیا ہے۔ ’’گلوبل سولیڈیرٹی فلوٹیلا‘‘ کے مطابق ۷۰؍ سے زائد کشتیوں پر مشتمل قافلہ غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا ہے، جس سے خطے میں تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
فلسطینیوں کے حق میں سرگرم بین الاقوامی اتحاد ’’گلوبل سولیڈیرٹی فلوٹیلا‘‘ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب جانے والے ان جہازوں کو روکیں گے جنہیں وہ فوجی سپلائی چین کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ پیر کو اس اتحاد کی ۲۰؍ سے زائد کشتیوں نے بحیرہ روم میں ایک بڑے کنٹینر جہاز ایم ایس سی مایا کو گھیر لیا، جو دنیا کے سب سے بڑے کارگو جہازوں میں شمار ہوتا ہے۔ منتظمین کا دعویٰ ہے کہ یہ جہاز ایسے مواد لے جا رہا تھا جو اسرائیلی فوجی صنعت میں استعمال ہو سکتا ہے۔ اس مہم کے اہم کارکن تھیاگو اویلا نے واضح الفاظ میں کہا کہ اب یہ کارروائی محض علامتی نہیں رہے گی بلکہ عملی رکاوٹ بنے گی۔ ان کے مطابق، ’’اب سے ہم ہر ایسے جہاز کو روکنے کی کوشش کریں گے جو غزہ کے راستے اسرائیلی فوجی سپلائی سے جڑا ہوگا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: این بی سی پول: امریکی جین زی میں فلسطینیوں کے لیے زبردست ہمدردی
یاد رہے کہ یہ فلوٹیلا ۱۲؍ اپریل کو بارسلونا سے روانہ ہوا تھا اور اب تک ۷۰؍ سے زائد کشتیوں اور تقریباً ایک ہزار کارکنوں پر مشتمل ہو چکا ہے۔ منتظمین اسے تاریخ کا سب سے بڑا غزہ یکجہتی مشن قرار دے رہے ہیں، جس میں مزید جہاز شامل ہونے کی توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔ قافلے میں شامل کشتیوں کی نوعیت بھی غیر معمولی ہے، ان میں طبی امداد، تعمیراتی سامان اور تعلیمی وسائل لے جانے والی خصوصی کشتیاں شامل ہیں۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں ایک مکمل پرائمری اسکول بنانے کے لیے بھی سامان لے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: پولینڈ قانون ساز نے پارلیمانی رکنیت ختم کرنے کا اسرائیلی مطالبہ مسترد کردیا
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ مقامی حکام کے مطابق، جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیلی کارروائیاں جاری رہی ہیں، جن کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے جاری تنازع میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد ۷۰؍ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ تھیاگو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی توجہ دیگر علاقائی کشیدگیوں، خصوصاً ایران امریکہ تنازع، کی طرف منتقل ہو چکی ہے، جس کے باعث غزہ کا بحران پس منظر میں چلا گیا ہے۔ ہم اسے نظر انداز نہیں ہونے دیں گے۔
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اس طرح کا فلوٹیلا مشن شروع کیا گیا ہو۔ گزشتہ سال بھی اسی نوعیت کی ایک کوشش کی گئی تھی، جس میں گریٹا تھنبرگ اور ایڈا کولاؤ سمیت عالمی شخصیات شامل تھیں۔ تاہم، اس مشن کو اسرائیلی فورسیز نے غزہ کے قریب روک دیا تھا اور شرکاء کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ تازہ مشن کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں کہ اگر فلوٹیلا واقعی جہازوں کو روکنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ بحیرہ روم میں براہ راست تصادم کا باعث بن سکتا ہے، جو پہلے ہی کشیدہ خطے کو مزید غیر مستحکم کر دے گا۔ اب دنیا کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ فلوٹیلا واقعی غزہ تک پہنچ پاتا ہے، یا ایک بار پھر اسے طاقت کے ذریعے روکا جائے گا۔