Inquilab Logo Happiest Places to Work

معروف سماجی شخصیت ارشد صدیقیانتقال کرگئے

Updated: June 13, 2026, 4:31 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

مختصر علالت کے بعد داعی ٔ اجل کولبیک کہا، مرین لائنس قبرستان میں  سپرد خاک کئے گئے۔

Arshad Siddiqui. Photo: INN
ارشد صدیقی۔ تصویر: آئی این این

معروف سماجی خدمت گار اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے چیئرمین ارشد صدیقی جمعہ کو مختصر علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔ انہوں  نے مختصر علالت کے بعد جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب تقریبا ساڑھے۳؍ بجے داعی ٔ اجل کو لبیک کہا۔ ان کی عمر ۷۰؍سال تھی۔ ان کی تدفین مرین لائنس بڑا قبرستان میں جمعہ کو عصر کی نماز سے قبل عمل میں آئی۔ تجہیز وتکفین میں مختلف شعبہ ہائے حیات کی اہم شخصیات، متعلقین، علماء اور شناسا موجود تھے۔ پسماندگان میں ۲؍ بیٹے فیصل صدیقی اور فہد صدیقی اور بیٹی ثناء صدیقی شامل ہیں۔ 
ارشد صدیقی کے انتقال کی خبر عام ہوتے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچنے والے متعلقین کا تانتا بندھ گیاجبکہ بڑی تعداد براہ راست جنازہ میں شرکت کیلئے بڑا قبرستان پہنچی۔ ارشد صدیقی ممبئی کے معروف تاجر، سماجی کارکن اور سیاسی شخصیت تھے۔ ان کا آبائی وطن موضع بھرولی ضلع اعظم گڑھ تھا جہاں   سے ان کے والد الیاس اعظمی ۲؍ بار رکن پارلیمنٹ بھی رہے۔ جنازہ ساڑھے۴؍بجے ان کی رہائش گاہ سے اٹھایا گیا اور عصر کی نماز سے پہلے تدفین عمل میں آئی۔ مرحوم کچھ عرصہ سے علیل تھے، علاج جاری رہا مگر افاقہ نہ ہوا اور بالآخر وقت موعود آن پہنچا اور حرکت قلب بند ہونے روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔ ارشد صدیقی نے خدمت خلق کے حوالے سے اپنی نمایاں شناخت بنائی تھی۔ وہ آخری وقت تک ضرورت مندوں کی حاجت روائی کرتے رہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کو بجلی تقسیم کا اختیار دینے کی تجویز

انہوں نے سماجی سطح پر نمایاں خدمات انجام دیں، تعلیم کے فروغ کیلئے بھی کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ مدارس ومساجد کی تعمیر اور علماء کے تعاون میں  وہ ہمیشہ پیش پیش رہے۔ 
ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے سربراہ کی حیثیت سے ملک وبیرون ملک ان کی خدمات کا دائرہ وسیع ہے۔ ممبئی کے فرقہ وارانہ فسادات میں بھی ان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ گجرات میں تباہ کن زلزلے میں ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے ذریعے بڑے پیمانے میڈیکل کیمپ لگوائے گئے تھے جبکہ عراق جنگ کے دوران ہندوستان سے چارٹرڈ طیارہ کے ذریعے طبی امداد پہنچائی گئی تھی۔ اپنی تنظیم کے توسط سے انہوں  نے روہنگیا مظلومین کی مدد کی، اتراکھنڈ میں بادل پھٹنے کے بعد میڈیکل ٹیم کے ساتھ متاثرین اور یاتریوں کی خدمت کی، لاک ڈاؤن میں پریشان حال افراد کی خبرگیری کی اور خاص طور پر آکسیجن کےسلنڈر بڑی تعداد میں مہیا کرواکر کئی قیمتی زندگیوں کو بچانے کاکار ِخیر انجام دیا۔ متاثرین کی راحت رسانی میں وہ ہمیشہ صف اوّل میں رہے۔ 
ارشد صدیقی کے عرب شیوخ سے بھی گہرے مراسم تھے۔ انہوں نے نہ صرف کئی لوگوں کو بڑی ذمہ داریوں اور اہم عہدوں تک پہنچایا بلکہ بعض قومی سطح کے سیاسی لیڈروں کی بھی مدد کی مگر اس کی تشہیر سے ہمیشہ بچتے رہے۔ یہی وہ اوصاف تھے جن کی وجہ سے آپ کو سیاسی، سماجی، مذہبی اور تجارتی ہر طبقے میں عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ سنیچر (آج) کی شب میں مرحوم کی رہائش گاہ قلابہ میں تعزیتی نشست منعقد کی جائے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK