Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ میں کوڑے کرکٹ کے بحران کے باعث ماحولیاتی اور صحت کی تباہی کا خطرہ

Updated: April 17, 2026, 7:04 PM IST | Gaza

غزہ میں کوڑے کرکٹ کے بحران کے باعث ماحولیاتی اور صحت کی تباہی کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے، جبکہ حکام نے خبردار کیا ہے کہ کوڑے کی نکاسی کا انتظام مکمل طور پر تباہی کے قریب ہے۔

Piles of garbage are seen everywhere in Gaza. Photo: X
غزہ میں جابجا کوڑے کا انبار دکھائی دیتا ہے۔ تصویر: ایکس

غزہ کے مقامی حکام نے جمعرات کو بتایا کہ غزہ ماحولیاتی اور صحت کی سنگین تباہی کا سامنے کر رہا ہے، کیونکہ کوڑا کرکٹ سڑکوں، رہائشی محلوں اور بے گھر کیمپوں میں لگاتار بڑھ رہا ہے۔غزہ کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں ٹھوس فضلہ انتظامیہ کی مشترکہ کونسل کے سربراہ احمد الصوفی نے بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے بڑے کوڑے دان کے مقامات کو بند کرنے اور ایندھن اور آلات پر پابندیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والا بحران غزہ کے فضلہ انتظامی نظام کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کر چکا ہے۔الصوفی نے کہا کہ بلدیات اب کوڑے کے مختص مقام تک نہیں پہنچ پاتیں، جس کی وجہ سے کوڑا کرکٹ گھروں اور بے گھر فلسطینیوں کے خیموں کے قریب جمع ہو رہا ہے، جس سے بیماریاں پھیلنے کے حالات پیدا ہو رہے ہیں۔
بعد ازاں انہوں نے کہا کہ مناسب فضلہ نکاسی نہ ہونے کے باعث چوہوں اور کیڑوں مکوڑوں کا پھیلاؤ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔الصوفی نے فوری بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ الفخاری کوڑے کے مقام تک جانے والی سڑکیں کھولی جائیں، اس جگہ تک روزانہ رسائی دی جائے، اور ایندھن، بھاری مشینری اور جراثیم کش دواؤں کو بغیر کسی پابندی کے داخل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بلدیات اور فضلہ کونسل انتہائی مشکل حالات میں کام کر رہی ہیں، جہاں کوڑا اٹھانے والی گاڑیاں بوسیدہ ہو چکی ہیں اور ایندھن، تیل، بیٹریوں اور پرزوں کی شدید قلت ہے۔ جبکہ ان کا کہنا تھا کہ ان اشیاءکے داخلے پر پابندی نے زیادہ تر مشینری کو بے کار کر دیا ہے اور فضلہ کو لوگوں کی زندگیوں کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ بنا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ بندی پیش رفت کیلئے امریکہ اور حماس کے درمیان براہِ راست مذاکرات : رپورٹ

دوسری جانب فلسطینی وزیر صحت ماجد ابو رمضان نے غزہ میں چوہوں کے پھیلاؤ میں خطرناک اضافے سے خبردار کیا ہے۔اس کے علاوہ  عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مشرقی بحیرہ روم کے علاقائی ڈائریکٹر حنان بلخی نے خبردار کیا کہ غزہ میں بیماریوں کا پھیلاؤ پورے خطے کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔تاہم غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، ۱۰؍ اکتوبر۲۰۲۵ء سے جاری جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں میں کم از کم۷۶۵؍ فلسطینی شہید اور ۲۱۴۰؍زخمی ہو چکے ہیں۔جبکہ اس سے قبل دو سال سے زائد جاری نسل کشی کی جنگ میں۷۲؍ ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہوئے،اور۱۷۲۰۰۰؍ سے زائد زخمی ہوئے ہیں، اس کے علاوہ غزہ کا تقریباً۹۰؍ فیصد شہری بنیادی دھانچہ تباہ ہو چکا ہے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK