Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ: خوراک کی تقسیم کے مرکز پر اسرائیلی حملے، ۴؍ فلسطینی جاں بحق

Updated: May 18, 2026, 5:20 PM IST | Gaza

غزہ پٹی میں جاری جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم چار فلسطینی ہلاک اور چار زخمی ہو گئے۔ طبی ذرائع کے مطابق تین افراد دیر البلاح میں خوراک تقسیم کرنے والے مرکز پر ڈرون حملے میں مارے گئے جبکہ ایک شخص خان یونس میں ہلاک ہوا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے خان یونس کے مشرقی علاقوں میں پیش قدمی کرتے ہوئے مکانات بھی منہدم کیے، جس کے باعث متعدد خاندانوں کو نقل مکانی کرنا پڑی۔

Photo: X
تصویر: ایکس

غزہ پٹی میں جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود اسرائیلی حملے جاری ہیں، اور تازہ ترین فضائی کارروائیوں میں کم از کم چار فلسطینی ہلاک جبکہ چار دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ طبی ذرائع نے اتوار کو بتایا کہ وسطی غزہ کے شہر دیر البلاح میں اسرائیلی حملے کے نتیجے میں تین فلسطینی جاں بحق ہوئے۔ عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی ڈرون نے الاقصیٰ شہداء اسپتال کے قریب قائم خوراک تقسیم کرنے والے مرکز کو نشانہ بنایا جہاں شہری امدادی سامان حاصل کرنے کے لیے جمع تھے۔ طبی ذرائع کے مطابق ایک اور حملہ جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں کیا گیا جہاں فلسطینیوں کے ایک اجتماع کو اسرائیلی ڈرون نے نشانہ بنایا۔ اس حملے میں ایک فلسطینی ہلاک جبکہ چار افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی طبی مراکز منتقل کیا گیا جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

فلسطین کا مسجدِ اقصیٰ کے قریب املاک پر قبضے کے اسرائیلی منصوبے کی مذمت

دوسری جانب مقامی ذرائع اور عینی شاہدین نے بتایا کہ اتوار کی صبح اسرائیلی فوجی گاڑیاں خان یونس کے مشرق میں واقع بنی سہیلہ قصبے کی جانب بڑھیں۔ علاقے میں شدید فائرنگ اور توپ خانے کی گولہ باری کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوجی گاڑیوں نے الرقاب اور الفجم محلوں میں موجود کنکریٹ رکاوٹوں کو مزید مغرب کی جانب دھکیل دیا۔ ان رکاوٹوں کو نام نہاد ’’یلو لائن‘‘ کہا جاتا ہے، جو اسرائیلی کنٹرول والے علاقوں اور ان حصوں کے درمیان حد بندی کرتی ہے جہاں فلسطینی شہریوں کو رہنے کی اجازت دی گئی تھی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی بلڈوزروں نے کارروائی کے دوران متعدد رہائشی مکانات بھی مسمار کر دیے، جس کے بعد کئی خاندانوں نے وسطی اور مغربی خان یونس کی جانب نقل مکانی شروع کر دی۔

یہ بھی پڑھئے: اقوام متحدہ کی نمائندہ کا اسرائیل پر فلسطینیوں کے خلاف منظم تشدد کا الزام

’’یلو لائن‘‘ اس سرحدی حد بندی کو کہا جاتا ہے جو جنگ بندی منصوبے کے دوسرے مرحلے کے تحت اسرائیلی افواج کے جزوی انخلا کے بعد قائم کی گئی تھی۔ اس منصوبے کا اعلان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کیا تھا۔ اگرچہ ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو جنگ بندی نافذ ہوئی تھی، تاہم غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملے مکمل طور پر نہیں رکے۔ وزارت کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک ۸۷۰؍ سے زائد فلسطینی جاں بحق اور ۲۵۴۰؍ سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک اسرائیلی حملوں میں ۷۲۶۰۰؍ سے زائد فلسطینی جاں بحق اور ۱۷۲۰۰۰؍ سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور امدادی ادارے غزہ کی بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر مسلسل تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔ امدادی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ جاری بمباری، نقل مکانی اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی نے غزہ میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK