Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل: فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کا قانون نافذ

Updated: May 18, 2026, 6:06 PM IST | Tel Aviv

اسرائیل میں فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے سے متعلق متنازع قانون نافذ العمل ہو گیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ اوی بلوت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اس قانون کے نفاذ کیلئے فوجی حکم نامے پر دستخط کیے۔ نئے قانون کے تحت ایسے مقدمات میں جہاں اسرائیلی ہلاکتیں ہوئی ہوں، عدالتوں کو سزائے موت کو بنیادی سزا کے طور پر لاگو کرنا ہوگا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اسرائیل میں فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کی اجازت دینے والا متنازع قانون اتوار سے نافذ العمل ہو گیا، جس کے بعد انسانی حقوق تنظیموں، قانونی ماہرین اور فلسطینی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ Avi Bluth نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اس اقدام کے نفاذ کے لیے ضروری فوجی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔ فوجی حکم نامے کے مطابق ایسے مقدمات جن میں حملوں کے نتیجے میں اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے ہوں، متعلقہ عدالتیں سزائے موت کو ’’واحد دستیاب سزا‘‘ کے طور پر نافذ کریں گی، الا یہ کہ عدالت کسی ’’خصوصی صورتحال‘‘ کی بنیاد پر عمر قید کی سزا دینے کا فیصلہ کرے۔

یہ بھی پڑھئے: کانز ۲۰۲۶ء: ہاویئر بارڈیم کی ٹرمپ، نیتن یاہو، پوتن پر شدید تنقید

اسرائیلی اخبار ہاریٹز نے رپورٹ کیا کہ قانون مقبوضہ مغربی کنارے کی عدالتوں کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ اسرائیلیوں کے قتل کے مرتکب فلسطینیوں کے خلاف ’’ریاست اسرائیل کے وجود سے انکار‘‘ کی بنیاد پر سزائے موت سنا سکیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ قانون کی زبان اور نظریاتی شرائط اسے عملی طور پر صرف فلسطینیوں پر لاگو کرتی ہیں، جبکہ انتہا پسند یہودی آبادکاروں کے خلاف اس قانون کا استعمال ’’انتہائی مشکل یا تقریباً ناممکن‘‘ ہوگا۔ ہاریٹز کے مطابق اسرائیلی قانونی اور سیکوریٹی ماہرین نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی پارلیمان کی قانون سازی کا اطلاق ان افراد پر کیا جا رہا ہے جو اسرائیلی شہری نہیں ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اتوار کو کنیسٹ کی قومی سلامتی کمیٹی میں ہونے والی بحث کے دوران متعدد قانونی حکام نے خبردار کیا کہ مقبوضہ علاقوں میں سویلین قوانین نافذ کرنا اسرائیل کی دیرینہ پالیسی سے ایک بڑی تبدیلی ہے۔

یہ قانون مارچ میں کابینہ سے منظور ہوا تھا، جس کے تحت اسرائیلیوں کے خلاف مہلک حملوں میں ملوث فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کو بنیادی سزا قرار دیا گیا۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی پارلیمان نے ایک خصوصی فوجی عدالت کے قیام کی بھی منظوری دی، جس کے ذریعے ان افراد کے مقدمات چلائے جائیں گے جنہیں اسرائیل نے ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے حملوں میں حماس کے ایلیٹ یونٹ کا رکن قرار دیا ہے۔ فلسطینی اور اسرائیلی انسانی حقوق تنظیموں کے مطابق اس وقت ۹۶۰۰؍ سے زائد فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں، جن میں تقریباً ۳۵۰؍ بچے اور ۷۳؍ خواتین شامل ہیں۔ حقوق گروپوں کا الزام ہے کہ قیدیوں کو اذیت، بھوک، طبی غفلت اور سخت حالات کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: خوراک کی تقسیم کے مرکز پر اسرائیلی حملے، ۴؍ فلسطینی جاں بحق

انسانی حقوق کے کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ نئے قانون سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور اس سے بین الاقوامی انسانی حقوق قوانین اور مقبوضہ علاقوں میں عدالتی نظام کے حوالے سے نئے سوالات جنم لیں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے سخت سیکوریٹی پالیسیوں میں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ جنگ، مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی جھڑپیں اور فلسطینی قیدیوں کے معاملات پہلے ہی شدید عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK