امریکہ اور چین نے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت چین نے اگلے تین سالوں تک ہر سال کم از کم۱۷؍ ارب امریکی ڈالر مالیت کی امریکی زرعی مصنوعات خریدنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
EPAPER
Updated: May 18, 2026, 6:04 PM IST | New York
امریکہ اور چین نے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت چین نے اگلے تین سالوں تک ہر سال کم از کم۱۷؍ ارب امریکی ڈالر مالیت کی امریکی زرعی مصنوعات خریدنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
امریکہ اور چین نے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت چین نے اگلے تین سالوں تک ہر سال کم از کم۱۷؍ ارب امریکی ڈالر مالیت کی امریکی زرعی مصنوعات خریدنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ خریداری اکتوبر ۲۰۲۵ء میں سویا بین کی خریداری کے حوالے سے کیے گئے گزشتہ وعدوں کے علاوہ ہوگی۔
تجارتی شعبے سے ہٹ کر، اس معاہدے کے تحت دو نئے دوطرفہ ادارے امریکہ-چین ٹریڈ بورڈ اور امریکہ- چین انویسٹمنٹ بورڈ بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔ ان اداروں کا مقصد صدر ٹرمپ کے دورۂ چین کے بعد دونوں ممالک کے درمیان معاشی ہم آہنگی کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ اس کے علاوہ فریقین نے ایران، شمالی کوریا اور آبنائے ہرمز سمیت اہم جیو پولیٹیکل (جغرافیائی و سیاسی) معاملات پر بھی یکساں موقف اپنانے کے اشارے دیے ہیں۔
دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے کی اس وسیع تر کوشش کے تحت چین نے امریکہ اور چین نے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت چین نے اگلے تین سالوں تک ہر سال کم از کم۱۷؍ ارب امریکی ڈالر مالیت کی امریکی زرعی مصنوعات خریدنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ امریکی بوئنگ طیاروں کے ابتدائی آرڈر کی منظوری بھی دی ہے، جو کہ ۲۰۱۷ء کے بعد بیجنگ کی جانب سے اس نوعیت کا پہلا بڑا فیصلہ ہے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے امریکہ میں اعلیٰ مہارت والی مینوفیکچرنگ ملازمتوں کو فروغ ملے گا اور ہوا بازی کے شعبے میں طویل مدتی تجارتی تعلقات مضبوط ہوں گے۔
یہ بھی پڑھئے:کانز ۲۰۲۶ء: ہاویئر بارڈیم کی ٹرمپ، نیتن یاہو، پوتن پر شدید تنقید
یہ اہم پیش رفت دونوں لیڈروں کے درمیان ہونے والے ان مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے عالمی اقتصادی استحکام کو بہتر بنانے اور باہمی سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا تھا۔ واشنگٹن نے ان مذاکرات کو اسٹریٹجک اور اقتصادی لحاظ سے انتہائی جامع قرار دیا ہے جبکہ وائٹ ہاؤس اسے ۲۰۱۷ء کے بعد کا سب سے اہم امریکہ-چین معاہدہ تسلیم کر رہا ہے۔اس تاریخی معاہدے کے بنیادی ستون کے طور پر قائم کیے جانے والے امریکہ-چین ٹریڈ بورڈ اور `امریکہ-چین انویسٹمنٹ بورڈ غیر حساس اشیاء کی دوطرفہ تجارت کی نگرانی کریں گے اور سرمایہ کاری سے جڑے مسائل کے حل کے لیے ایک ادارہ جاتی ڈھانچہ فراہم کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق، چین نے یٹریم ، اسکینڈیم ، نیوڈیمیم اور انڈیم جیسی نایاب معدنیات کی سپلائی چین کے حوالے سے امریکہ کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ چین ان نایاب دھاتوں کی پیداوار اور پروسیسنگ کے آلات و ٹیکنالوجی پر عائد پابندیوں اور حدود میں نرمی لانے پر بھی کام کرے گا۔
یہ بھی پڑھئے:اداکارہ صبا آزاد ’الفا میل‘ کے تصور کو نہیں مانتیں
زرعی شعبے کی بات کی جائے تو چین نے بیف (گائے کے گوشت) تیار کرنے والی امریکہ اور چین نے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت چین نے اگلے تین سالوں تک ہر سال کم از کم۱۷؍ ارب امریکی ڈالر مالیت کی امریکی زرعی مصنوعات خریدنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔۴۰۰؍ سے زائد امریکی کمپنیوں کی معیاد ختم ہونے والی فہرستوں کی تجدید کی ہے اور نئی کمپنیوں کو منظوری دے کر امریکی بیف کے لیے اپنی مارکیٹ کے دروازے دوبارہ کھول دیے ہیں۔ اس کے جواب میں امریکی محکمہ زراعت نے بھی برڈ فلو سے پاک تصدیق شدہ امریکی ریاستوں سے مرغی کے گوشت (پولٹری) کی درآمد دوبارہ شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے مزید بتایا کہ دونوں ممالک نے عالمی سطح کے بڑے جیو پولیٹیکل امور پر بھی باہمی تعاون کی توثیق کی ہے، جس میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی مخالفت اور شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی حمایت شامل ہے۔