Updated: February 20, 2026, 10:07 PM IST
| London
نیسلے کے سی ای او فلپ ناوراٹل نے کمپنی میں جامع ڈاؤن سائزنگ اور تنظیمِ نو کا اعلان کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق کمپنی آئس کریم مارکیٹ سے نکلنے اور بوتل بند پانی کے شعبے سے جزوی انخلا پر غور کر رہی ہے جبکہ ہزاروں ملازمین کو فارغ کرنے کا منصوبہ بھی زیر بحث ہے۔
فوڈ اینڈ بیوریج کمپنی نیسلے کے سی ای او فلپ ناوراٹل نے اعلان کیا ہے کہ کمپنی ایک ’’جامع ڈاؤن سائزنگ اور ری اسٹرکچرنگ‘‘ کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق نیسلے آئس کریم مارکیٹ سے مکمل طور پر نکلنے اور بوتل بند پانی کے شعبے سے جزوی انخلا پر غور کر رہی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سوشل میڈیا پر غزہ سے متعلق بائیکاٹ مہمات زور پکڑ چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: پناہ گزیں کیمپ، ٹوٹے مکان، بکھرے خاندان مگر عزم بلند، ملبہ پر افطاری
۱۶؍ ہزار ملازمین کی برطرفی؟
اطلاعات کے مطابق کمپنی تقریباً ۱۶؍ ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جن میں ۱۲؍ ہزار وائٹ کالر ورکرز شامل ہیں۔ اگر یہ اعداد درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ حالیہ برسوں میں کمپنی کی سب سے بڑی افرادی قوت میں کمی ہوگی۔ تاہم، ان اعداد و شمار کی باضابطہ تفصیلات کمپنی کی جانب سے مکمل طور پر واضح نہیں کی گئیں۔
مالی دباؤ اور منافع میں کمی
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کمپنی کی مجموعی فروخت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں ۲؍ فیصد کمی آئی، جبکہ خالص منافع میں ۱۷؍ فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی۔ ماہرین کے مطابق عالمی معاشی سست روی، صارفین کے بدلتے رجحانات اور بائیکاٹ مہمات نے ملٹی نیشنل برانڈز پر دباؤ بڑھایا ہے۔ تاہم کمپنی کی تنظیمِ نو کو بعض تجزیہ کار اسٹریٹجک کاروباری فیصلے کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔