اسلامی انقلاب گارڈز کور کے ترجمان نے طاقتور ہتھیاروں کے استعمال پر امریکی بیان بازی کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ صرف ایک ’’وحشی تہذیب‘‘ اپنے سب سے بھاری بم کا نام رکھنے کے لیے مقدس لفظ ’’ماں‘‘ کا استعمال کرے گی۔
EPAPER
Updated: October 18, 2026, 5:04 PM IST | Tehran
اسلامی انقلاب گارڈز کور کے ترجمان نے طاقتور ہتھیاروں کے استعمال پر امریکی بیان بازی کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ صرف ایک ’’وحشی تہذیب‘‘ اپنے سب سے بھاری بم کا نام رکھنے کے لیے مقدس لفظ ’’ماں‘‘ کا استعمال کرے گی۔
پاسداران انقلاب اسلامی ایران(آئی آر جی سی) کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے امریکی فوج کے اپنے سب سے طاقتور غیر جوہری بم کو ’’مدر آف آل بم‘‘ کے طور پر نامزد کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’صرف ایک وحشی تہذیب اپنے سب سے بھاری بم کے لیے مقدس لفظ ماں استعمال کر سکتی ہے۔‘‘نفسیاتی دباؤ اور فوجی طاقت کے مظاہرے پر عوامی ردعمل پر تبصرہ کرتے ہوئے، آئی آر جی سی ترجمان نے مزید کہا، ’’مستقبل اس قوم کا ہے جو دشمن کے سب سے بڑے خطرے کو روزمرہ کے مزاح کا موضوع بنا دیتی ہے۔‘‘
واضح رہے کہ محبی کے تبصرےایرانی نگراں وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل مجید ابن الرضا کے ایران کے خلاف نام نہاد ’’مدر آف آل بم‘‘کے ممکنہ استعمال کے بارے میں قیاس آرائیوں کا جواب دینے کے بعد سامنے آئے، جس میں ہتھیاروں کے ناموں اور تباہ کن طاقت کی اہمیت کو مسترد کیا گیا۔ابن الرضا نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’’بموں کے نام اور سائز اہمیت نہیں رکھتے!‘‘ ساتھ ہی خبردار کیا کہ امریکی فوجی کارروائی کے نتائج اس کے بجائے واشنگٹن کی عالمی حیثیت، معیشت اور انتخابی حساب کتاب میں محسوس کیے جائیں گے۔علاوہ ازیںانہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کی میزائل صلاحیتوں نے اسٹریٹجک مساوات کو تبدیل کر دیا ہے، امریکی حکام کو بتایا کہ انہیں ایران کی طاقت کو تسلیم کرنا پڑے گا۔
ذہن نشین رہے کہ یہ ریمارکس اس رپورٹ کے بعد سامنے آئے ہیں کہ امریکی فوج نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ فوجی کارروائیوں کو دوبارہ شروع کرنے کا حکم دیتے ہیں تو امریکی ہتھیاروں میں سب سے بڑا غیر جوہری بمGBU-43/B میسیو آرڈیننس ایئر بلاسٹ (MOAB)، استعمال کیا جا سکتا ہے، جس کے ممکنہ اہداف میں ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری مقامات شامل ہیں ۔