اسرائیلی فوج کی بہیمانہ کارروائی کے نتیجے میں ۱۵۰۰؍ مکانات مسمار، ۸۰؍ فیصد آبادی بے گھر ہونے کے بعد نقل مکانی پر مجبور۔
EPAPER
Updated: August 29, 2025, 11:52 AM IST | Agency | Gaza
اسرائیلی فوج کی بہیمانہ کارروائی کے نتیجے میں ۱۵۰۰؍ مکانات مسمار، ۸۰؍ فیصد آبادی بے گھر ہونے کے بعد نقل مکانی پر مجبور۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ میں حماس کی جانب سے استعمال ہونے والے کئی زیر زمین راستے تباہ کر دیے ہیں۔ فوج کے مطابق کارروائیوں کے دوران متعدد مسلح افراد مارے گئے جبکہ جنگی ڈھانچے اور بنیادی ڈھانچے کو بھی تباہ کر دیا گیا۔ غزہ میں سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے بتایا کہ جنوب میں واقع زیتون محلہ مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے اور۸۰؍فیصد آبادی نقل مکانی پر مجبور ہو گئی ہے۔محمود بصل نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے جنوب مشرقی غزہ شہر کے الزيتون محلہ میں صرف اگست کے آغاز سے اب تک ڈیڑھ ہزار سے زائد مکانات مکمل طور پر تباہ کر دیے ہیں جس کے نتیجے میں اس محلے کے ۸۰؍ فیصد سے زیادہ باشندے اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شمالی غزہ کے جبالیہ اور جبالیہ النزلة میں بھی صورتحال یکساں طور پر ہولناک ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’روسی تیل سے صرف چند ریفائنریوں کو فائدہ ،عوام کا کیا؟ ‘‘
محمود بصل نے وضاحت کی کہ اسرائیل نے۶؍ اگست سے شروع ہونے والی زمینی کارروائی میں جنوبی الزيتون کو زمین بوس کر دیا۔ اس دوران صہیونی فوج بلڈوزروں، بھاری مشینری، بارودی روبوٹوں اور ڈرونز کا استعمال کر رہی ہے۔ روزانہ اوسطاً سات دھماکے کیے جاتے ہیں جبکہ کواڈ کاپٹر ڈرونز گھروں کی چھتوں پر دھماکہ خیز مواد گراتے ہیں جس سے تباہی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وحشیانہ کارروائی کے نتیجے میں ہزاروں خاندان مغربی غزہ یا شمالی حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں مگر وہاں بھی کوئی محفوظ مقام نہیں ہے۔اگست کے آغاز سےاسرائیل نے الزيتون محلہ پر ہمہ گیر حملہ شروع کیا جس میں بارودی روبوٹ، توپوں کی گولہ باری، اندھا دھند فائرنگ اور جبری ہجرت شامل ہیں۔