Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’روسی تیل سے صرف چند ریفائنریوں کو فائدہ ،عوام کا کیا؟‘‘

Updated: August 29, 2025, 12:51 PM IST | Agency | New Delhi

معروف ماہر معاشیات رگھو رام راجن کے مطابق ٹیریف سے بچنے کیلئے ہندوستان کو اپنی تجارتی ترجیحات طے کرنی ہو ں گی، ساتھ ہی عوام کا فائدہ بھی سوچنا ہوگا

Renowned economist and former Governor of the Reserve Bank of India Raghuram Rajan. Photo: INN
مشہور ماہر معاشیات اور ریزرو بینک آف انڈیا کے سابق گورنر رگھو رام راجن۔ تصویر: آئی این این

امریکہ کی ٹرمپ حکومت کی جانب سے ہندوستانی ایکسپورٹ پر ۵۰؍فیصد ٹیریف اور روسی خام تیل کی خریداری پر اضافی ۲۵؍ فیصد جرمانہ نافذ ہونے کے بعد ریزرو بینک آف انڈیا کے سابق گورنر اور معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر رگھورام راجن نے اس اقدام کو نہایت تشویشناک قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال ہندوستان کے لیے ’ویک اپ کال‘ یعنی بیدار ہونے کا وقت ہے اور اس سے سبق سیکھتے ہوئے تجارتی حکمتِ عملی پر ازسرِ نو غور کرنا ضروری ہے۔
 ’انڈیا ٹوڈے‘ کو دیے گئے اپنے تازہ انٹرویو میں راجن نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تجارت، سرمایہ کاری اور مالیات تیزی سے جغرافیائی سیاست کا ہتھیار بنتے جا رہے ہیں، اس لیے ہندوستان کو کسی ایک ملک پر حد سے زیادہ انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ ایک وارننگ ہے کہ ہمیں اپنے تجارتی تعلقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مشرقی ایشیا، یورپ اور افریقی خطوں کی طرف دیکھنا ہوگا۔ ساتھ ہی ایسی اصلاحات نافذ کرنا ہوں گی جو ہمیں نوجوانوں کے لیے خاطر خواہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ۸؍ سے ۹؍ فیصد ترقی کی شرح حاصل کرنے میں مدد دیں۔ اس مقصد کے لئے ہندوستان کی حکومت کو اپنی بہت سی ترجیحات کو تبدیل کرنا ہو گا۔ ‘‘
 راجن کے مطابق امریکی انتظامیہ کا تازہ اقدام اس بات کا اشارہ ہے کہ ہندوستان کو اپنی توانائی پالیسی، بالخصوص روسی خام تیل پر انحصار کے معاملے پر نظرثانی کرنا چا ہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ اس خریداری سے کسے فائدہ ہو رہا ہے اورکسے نقصان۔ان کا کہنا تھا، ’’ہندوستانی کی پرائیویٹ ریفائنریاں تو زبردست منافع کما رہی ہیں لیکن برآمد کنندگان اس کی قیمت بھاری ٹیرف کے ذریعے ادا کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی عوام کو اس سے براہ راست کوئی فائدہ نہیں مل رہا ہے۔ اگر عوام کو مجموعی طور پر کوئی بڑا فائدہ ہورہا ہوتا تو  اتنا بڑا خطرہ مول لینے کا جواز پیدا ہو سکتا تھا لیکن اگر اس کا مجموعی فائدہ زیادہ نہیں ہے تو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے کہ کیا ہمیں یہ خریداری جاری رکھنی چاہیے  اور اگر ہم اسے جاری رکھ رہے ہیں تو ہمیں اس کی کیا قیمت چکانی ہو گی اس پر بھی غور کرلینا چاہئے ۔
 راجن نے وہائٹ ہاؤس کے تجارتی مشیر پیٹر نوارو کے اس الزام کو بھی مسترد کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ہندوستانی ریفائنر روسی تیل سے ناجائز منافع کما رہے ہیں اور بالواسطہ طور پر یوکرین جنگ کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ راجن کے بقول، ’’ایسا لگتا ہے کہ کسی مرحلے پر صدر ٹرمپ نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ ہندوستان امریکی قواعد کے مطابق نہیں چل رہا اور اسے الگ تھلگ کرنا چاہئے۔ اسی وجہ سے میں یہ بات کہہ رہا ہوں کہ پیٹر نوارو فنانشل ٹائمز میں بغیر ڈونالڈ ٹرمپ کی منظوری کے کچھ نہیں لکھیں گے۔‘‘ واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اس نئے فیصلے سے ہندوستانی برآمد کنندگان کو شدید دھچکا پہنچا ہے جبکہ روسی تیل کے بڑے خریدار چین اور یورپی ممالک پر ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی گئی ہے جس کی وجہ سےہندوستان میں کافی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کے مطابق ہندوستان کیلئے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنی توانائی اور تجارتی پالیسیوں پر متوازن حکمت عملی اپنائے تاکہ عالمی سطح پر اس کے معاشی مفادات محفوظ رہ سکیں اور اس کی تجارت کو بھی فروغ ملتا رہے۔
 واضح رہے کہ رگھو رام راجن مودی حکومت کی تجارتی پالیسیوں کے سخت ناقد ہیں اور اسی وجہ سے انہوں نے روسی تیل اور عوام کو اس سے نہ ہونے والے فائدہ کا ذکر کرکے مودی حکومت پر طنز بھی کیا ہے اور اسے مشورہ بھی دیا ہے کہ وہ اپنی ترجیحات طے کرے۔ اگر کچھ کمپنیوں کو منافع ہو رہا ہے اور اس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہے تو ملک کی معیشت کو اس طرح سے دائو پر لگاکر منافع کمانا ٹھیک نہیں ہے۔اسے عالمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تجارتی پالیسی تیار کرنی ہو گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK