Updated: February 28, 2026, 7:27 PM IST
| Washington
واشنگٹن ڈی سی سے جنوبی کیرولینا جانے والی ایک تجارتی پرواز میں ایک کارکن نے سابق امریکی صدر جو بائیڈن کا سامنا کرتے ہوئے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر ان کے کردار پر سوال اٹھایا۔ کارکن نصیبہ مبارک نے الزام عائد کیا کہ بائیڈن کو بین الاقوامی قانون کے نفاذ میں ناکامی پر جوابدہ ہونا چاہیے۔
سابق امریکی صدر جو بائیڈن کو ایک تجارتی پرواز میں اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب ایک مسافر نے ان سے براہِ راست غزہ کی صورتِ حال پر سوال اٹھایا۔ امرین فرینڈز سروس کمیٹی کی کوآرڈینیٹر نصیبہ مبارک نے ٹی آر ٹی ورلڈ کو بتایا کہ یہ واقعہ واشنگٹن ڈی سی سے جنوبی کیرولیناجانے والی پرواز میں پیش آیا۔ مبارک کے الفاظ میں ’’یہاں وہ میرے سامنے تھے۔ وہ شخص جس کے ہاتھ پر فلسطینی بچوں کا خون تھا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکہ اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملے، خطے میں ہنگامی صورتِ حال
نصیبہ مبارک نے کہا کہ وہ اس منظر سے پریشان ہوئیں جب دیگر مسافر سابق صدر کے ساتھ سیلفی لے رہے تھے، جبکہ ان کے مطابق بائیڈن کو ’’بین الاقوامی قانون کو نافذ کرنے میں ناکامی پر جنگی جرائم کے الزامات کا سامنا کرنا چاہیے تھا۔‘‘ ان کا مؤقف تھا کہ امریکی انتظامیہ کی پالیسیوں نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے دوران شہری ہلاکتوں کو روکنے کے لیے مؤثر دباؤ نہیں ڈالا۔
یہ بھی پڑھئے: یوکرین جنگ: ہمارے پاس ڈیڈ لائن نہیں، مقاصد ہیں: روس
واضح رہے کہ غزہ کی جنگ کے دوران امریکی پالیسی پر ملک کے اندر اور عالمی سطح پر شدید بحث جاری رہی ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نے اسرائیل کی سلامتی کی حمایت کے ساتھ ساتھ انسانی امداد میں اضافے کا بھی اعلان کیا تھا، تاہم ناقدین اسے ناکافی قرار دیتے رہے ہیں۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس سوال کو اجاگر کرتا ہے کہ عوامی شخصیات کو عوامی مقامات پر کس حد تک سیاسی اور اخلاقی احتساب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔