Inquilab Logo Happiest Places to Work

سنجے شرساٹ اور سنتوش بانگر بھی سعید خان کا ساتھ دینے پہنچے

Updated: June 02, 2026, 12:16 PM IST | Agency | Parbhani

پربھنی میں ہندوتوا کے نام پر سیاست کرنے والی شیوسینا (شندے)نے مسلم چہرے کو میدان میں اتار کر سبھی کو حیرت میں ڈال دیا۔

Eknath Shinde`s New Bet, Saeed Khan Gets Vidhan Parishad Ticket From Parbhani.Phoro:INN
ایکناتھ شندے کا نیا دائو، پربھنی سے سعید خان کو ودھان پریشد کا ٹکٹ- تصویر:آئی این این
شیوسینا(شندے)نے  حیران کن طور پر پربھنی۔  ہنگولی بلدیہ حلقہ سے ودھان پریشد الیکشن کیلئے ایک نوجوان مسلم چہرے سعید خان کو میدان میں اتارا ہے۔ اب تک ضلع کی سیاست میں شیوسینا نے خان چاہئے یا بان( تیر)؟ کے نعرے کی بنا پر کامیابی حاصل کی تھی۔مسلم مخالف سیاست سے شیو سینا کو کئی سال تک فائدہ بھی پہنچا لیکن اب ضلع میں سیاسی مساوات بدلتی نظر آ رہی ہے۔
یاد رہے کہ ہندو ووٹ بینک نے پربھنی میں ہمیشہ شیو سینا کا ساتھ دیا لیکن ۳؍ سال قبل شیوسینا میں پھوٹ پڑ گئی اور ایک گروپ ایکناتھ شندے کی قیادت میں الگ ہو گیا۔۲۰۲۴ء کے لوک سبھا انتخابات میں ادھو ٹھاکرے کی پارٹی نے مسلمانوں کے تئیں نرم رویہ اپنایا۔مسلم ووٹروں نے بھی بی جے پی کی مخالفت میں ادھو کی شیوسینا کی بڑی حد تک حمایت کی۔ لوک سبھا انتخابات میں مراٹھو اڑہ کے تین اضلاع ، ہنگولی، عثمان آباداور پربھنی میں مسلم ووٹوں کے دم پر ٹھاکرے کی پارٹی کے اراکین پارلیمان منتخب ہو کر آئے تھے۔ اس بات کا احساس ہونے کےبعد کہ مسلم ووٹروں کا رخ ادھو ٹھاکرے کی پارٹی کی طرف ہو رہا ہے، شندے کی شیو سینا نے بھی پربھنی ضلع میں مسلم ووٹروں کو راغب کرنے کی کوشش شروع کر دی ۔  شندے کو پاتھری اور پربھنی میں سابق رکن اسمبلی باباجانی درانی( کانگریس) کے غلبہ کو چیلنج کرنے کیلئے ایک اور ہونہار مسلم چہرہ ملا۔ سعید خان نے شیو سینا میں شمولیت اختیار کی اور شندے کی شیوسینا نے بھی پربھنی ضلع میں نرمی اختیار کی۔
 
 
خان یا بان؟ کا نعرہ ترک کرتے ہوئے اس نے سعید خان کو تقویت دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پاتھری میونسپل کونسل میں اسے اقتدار حاصل ہوا سعید خان نے میونسپل کونسل میں باباجانی درانی کا ۳۰؍ تا ۳۵؍ سالہ دبدبہ ختم کر دیا۔ پربھنی اور پاتھری میں سعید خان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ نوجوان بڑی تعداد میں ان کے پیچھے آنے لگے۔ باباجانی درانی کو چیلنج کرتے ہوئے سعید خان نے ضلع میں پارٹی کو مضبوط کرنے کیلئے کافی کام کیا۔
 
 
ادھر شیوسینا (ادھو)نے پربھنی میونسپل کارپوریشن میں کامیابی حاصل کی اور ایک مسلمان کو میئر بنا کر ہلچل مچا دی۔ تب ایکناتھ شندے کی پارٹی شیوسینا (ادھو) پر تنقید کرنے میں سب سے آگے تھی لیکن سعید خان کی امیدواری سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ شندے گروپ کو مسلم ووٹروں کی طاقت کا اندازہ ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعید خان کا پرچہ جمع کروانے سنجے شرساٹ اور سنتوش بانگر جیسے لیڈران بھی پربھنی پہنچے تھے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا سعید خان یہ سیٹ جیت پاتے ہیں؟ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK