Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ: ورلڈ کپ اسکریننگ کروانے والے محمد الوحیدی کی موت پر خطہ سوگوار

Updated: July 11, 2026, 7:05 PM IST | Gaza

جنگ زدہ غزہ میں بے گھر خاندانوں کو چند لمحوں کی خوشی دینے والے امدادی کارکن محمد الوحیدی اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے، جس کے بعد پورے غزہ میں سوگ کی فضا ہے۔ الوحیدی نے ۲۰۲۶ء فیفا ورلڈ کپ کے دوران تباہ حال علاقوں میں بڑی اسکرینیں نصب کروا کر ہزاروں فلسطینیوں، خصوصاً بچوں اور بے گھر خاندانوں کو میچ دیکھنے کا موقع فراہم کیا تھا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حملے کا ہدف الوحیدی نہیں بلکہ حماس کا ایک رکن تھا، جبکہ فلسطینی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے ادارے اس واقعے کو شہری زندگی اور معمول کی خوشیوں کو بھی نشانہ بنانے کی مثال قرار دے رہے ہیں۔

Mohammed al-Wahidi. Photo: X
محمد الوحیدی۔ تصویر: ایکس

غزہ کی جنگ نے ہزاروں جانیں لے لیں، بستیاں اجاڑ دیں اور زندگی کے معمولات تقریباً ختم کر دیے، مگر انہی حالات میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو ملبے کے درمیان امید کی چھوٹی چھوٹی شمعیں روشن کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہی میں سے ایک محمد الوحیدی تھے، جن کی اسرائیلی حملے میں ہلاکت کے بعد پورا غزہ غم میں ڈوبا ہوا ہے۔ محمد الوحیدی صرف امدادی کارکن نہیں تھے بلکہ بے گھر فلسطینی خاندانوں کے لیے امید کی علامت بن چکے تھے۔ ۲۰۲۶ء کے فیفا ورلڈ کپ کے دوران انہوں نے غزہ کے مختلف علاقوں میں بڑی عوامی اسکرینیں نصب کروائیں تاکہ جنگ، بھوک، نقل مکانی اور مسلسل بمباری کے درمیان رہنے والے خاندان چند گھنٹوں کے لیے ہی سہی، معمول کی زندگی کا احساس کر سکیں۔ بچے، بزرگ اور نوجوان کھلے میدانوں، خیمہ بستیوں اور تباہ شدہ عمارتوں کے درمیان جمع ہو کر میچ دیکھتے تھے، جہاں فٹ بال ان کے لیے خوف سے وقتی نجات کا ذریعہ بن جاتا تھا۔ 

رائٹرز، اے پی اور دیگر بین الاقوامی ذرائع کے مطابق محمد الوحیدی غزہ میں مصری ریلیف کمیٹی سے وابستہ تھے اور امدادی سرگرمیوں کے ساتھ کمیونٹی لیڈروں کے درمیان رابطہ کاری کی ذمہ داری بھی انجام دے رہے تھے۔ وہ مصر اور ارجنٹائنا کے درمیان فیفا ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے کے میچ کی عوامی اسکریننگ کی تیاریوں میں مصروف تھے جب غزہ شہر کے صبرہ محلے میں ان کی گاڑی اسرائیلی فضائی حملے کا نشانہ بن گئی۔ اس حملے میں محمد الوحیدی کے علاوہ تین مزید فلسطینی بھی جان سے گئے، جن میں دو کم عمر بھائی بھی شامل تھے۔ مقامی طبی ذرائع کے مطابق یہ حملہ میچ شروع ہونے سے کچھ ہی دیر پہلے کیا گیا، جس نے خوشی کے اس مختصر موقع کو بھی ماتم میں بدل دیا۔ 

فلسطینی سوشل میڈیا پر محمد الوحیدی کی تصاویر اور ویڈیوز بڑے پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہیں، جن میں وہ امدادی سامان تقسیم کرتے، مقامی لیڈروں سے ملاقات کرتے اور ورلڈ کپ اسکریننگ کی تیاری کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے اہل خانہ اور ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ یہ کوشش کرتے تھے کہ جنگ کے ماحول میں بھی بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ برقرار رہے۔ ان کے کزن نزار الوحیدی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’’ابو صہیب قتل سے نہیں بچ سکے۔‘‘ جبکہ ایک اور رشتہ دار کے حوالے سے فلسطینی شہری یوسف فارس نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی ڈرون نے پہلے اس گاڑی کو نشانہ بنایا جس میں وہ موجود تھے، وہ بچ نکلے، لیکن دوسری گاڑی میں منتقل ہونے کے بعد دوبارہ حملہ کیا گیا جس میں وہ جاں بحق ہوگئے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ 
محمد الوحیدی کے صاحبزادے فواز الوحیدی نے کہا کہ ان کے والد نے انتہائی مشکل حالات میں بھی بے گھر خاندانوں کی خدمت ترک نہیں کی۔ ان کے مطابق وہ ہر روز یہی سوچتے تھے کہ کسی نہ کسی طرح لوگوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ زندگی ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ اسرائیلی فوج نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کا ہدف محمد الوحیدی نہیں تھے بلکہ حماس کے عسکری ونگ کا ایک رکن تھا۔ فوج کے مطابق شہریوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ’’غیر متعلقہ شہریوں کو نقصان پہنچنے پر افسوس ہے۔‘‘ تاہم اسرائیل نے مطلوب شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایران میں دھماکے، امریکی فوج کی ملوث ہونے کی تردید

ادھر فلسطینی مرکز برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ محمد الوحیدی جیسے افراد کو نشانہ بنانا صرف ایک شخص کی موت نہیں بلکہ ایسی تمام سرگرمیوں کو ختم کرنے کی کوشش ہے جو جنگ کے دوران لوگوں کو اجتماعی سکون، معمول کی زندگی یا خوشی کا احساس دلاتی ہیں۔ تنظیم کے مطابق ایسے اقدامات شہری زندگی کو مزید مفلوج کرنے اور فلسطینیوں کو مسلسل خوف اور محرومی میں رکھنے کی وسیع تر پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔ محمد الوحیدی کے جنازے میں سیکڑوں فلسطینی شریک ہوئے۔ ان کی میت فلسطینی اور مصری پرچموں میں لپٹی ہوئی تھی جبکہ مقامی لیڈروں، امدادی کارکنوں اور عام شہریوں نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ مصر، جو غزہ میں امدادی سرگرمیوں اور جنگ بندی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے، میں بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔
اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر غزہ میں انسانی بحران کی شدت کو اجاگر کیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر اداروں کے مطابق جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی حملے جاری ہیں اور اکتوبر ۲۰۲۵ء کی جنگ بندی کے بعد بھی ایک ہزار سے زیادہ فلسطینی جان سے جا چکے ہیں۔ مجموعی طور پر اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک فلسطینی حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد ۷۳؍ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ بنیادی ڈھانچے کا بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK