Updated: July 11, 2026, 8:04 PM IST
| California
میٹا نے پرائیویسی سے متعلق شدید عوامی ردعمل کے بعد انسٹاگرام کی نئی مصنوعی ذہانت (AI) فیچر واپس لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیچر صارفین کو عوامی انسٹاگرام اکاؤنٹس کی تصاویر استعمال کرکے نئی اے آئی تصاویر بنانے کی سہولت دیتا تھا، تاہم ناقدین نے الزام عائد کیا کہ صارفین کی تصاویر ان کی واضح اجازت کے بغیر استعمال کی جا رہی تھیں۔ ہالی ووڈ کی اداکاروں کی تنظیم SAG-AFTRA سمیت متعدد شخصیات نے بھی اس فیچر پر اعتراض کیا، جس کے بعد کمپنی نے اعتراف کیا کہ یہ فیچر صارفین کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکا اور اسے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے انسٹاگرام کی نئی مصنوعی ذہانت (AI) فیچر متعارف کرانے کے چند ہی دن بعد اسے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کمپنی نے یہ فیصلہ صارفین، پرائیویسی کے ماہرین اور تفریحی صنعت کی تنظیموں کی جانب سے سامنے آنے والے شدید ردعمل کے بعد کیا، جنہوں نے عوامی انسٹاگرام اکاؤنٹس سے تصاویر کے استعمال پر سنگین خدشات کا اظہار کیا تھا۔ یہ فیچر رواں ہفتے میٹا سپر انٹیلی جنس لیبز کی جانب سے متعارف کرایا گیا تھا اور اسے میٹا اے آئی چیٹ بوٹ میں شامل کیا گیا تھا۔ اس کے ذریعے صارفین موجودہ تصاویر کی مدد سے نئی اے آئی تصاویر تخلیق یا ان میں ترمیم کر سکتے تھے۔ تاہم فیچر کے لانچ کے فوراً بعد تنازع اس وقت کھڑا ہو گیا جب متعدد صارفین کو معلوم ہوا کہ ان کے عوامی (Public) انسٹاگرام اکاؤنٹس خودکار طور پر اس فیچر میں شامل کر دیے گئے تھے۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ اس عمل کے نتیجے میں صارفین کی تصاویر کو ان کی واضح پیشگی اجازت کے بغیر اے آئی ماڈل کی تیاری یا تصاویر بنانے کے عمل میں استعمال کیا جا سکتا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: خاتون فوجیوں کو مرد فوجیوں کی برابری کیلئے دوگنا خوراک اور زیادہ نیند کی ہدایت
میٹا نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ہمارا مقصد ایک ایسا تخلیقی ٹول فراہم کرنا تھا جو لوگوں کے لیے مفید ہو اور انہیں یہ اختیار بھی دے کہ آیا ان کے عوامی مواد کا اس انداز میں حوالہ دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔‘‘ کمپنی نے مزید کہا کہ ’’ہم نے صارفین کا ردعمل سنا ہے اور محسوس کیا ہے کہ یہ فیچر ان کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکا، اسی لیے اب یہ دستیاب نہیں ہوگا۔‘‘ اس فیچر پر اعتراضات صرف عام صارفین تک محدود نہیں رہے بلکہ ہالی ووڈ کی کئی معروف شخصیات اور صنعتی تنظیموں نے بھی اس پر سخت تنقید کی۔
ایمی ایوارڈ یافتہ اداکارہ ہنّا آئن بائنڈر نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ کے ذریعے مداحوں کو خبردار کرتے ہوئے بتایا کہ یہ فیچر خودکار طور پر فعال ہو رہا ہے۔ انہوں نے صارفین پر زور دیا کہ وہ اپنی پرائیویسی کے تحفظ کے لیے اسے دستی طور پر بند کریں۔ بعد ازاں اداکاروں کی عالمی تنظیم SAG-AFTRA نے بھی سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے اراکین اور دیگر انسٹاگرام صارفین سے اس فیچر سے فوری طور پر آپٹ آؤٹ کرنے کی اپیل کی۔ تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’انسٹاگرام صارفین کی تصاویر کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے واضح اور پیشگی رضامندی (Opt-in) کے علاوہ کوئی بھی طریقہ ناقابل قبول ہے۔ اس نوعیت کے استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات اور نقصانات کے بارے میں عوامی جذبات کا اندازہ لگانے میں بھی سنگین غلطی کی گئی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسپین: غزہ امدادی بحری قافلے پر حملہ،اسرائیلی فوجی حکام کے خلاف تحقیقات کا آغاز
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ایک بار پھر اس بحث کو سامنے لے آیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیزی سے ترقی کے ساتھ صارفین کی ذاتی معلومات، تصاویر اور تخلیقی مواد کے استعمال کے لیے واضح قوانین اور شفاف رضامندی کا نظام کس قدر ضروری ہو چکا ہے۔ حالیہ برسوں میں میٹا سمیت کئی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی پر مبنی نئی سہولیات متعارف کرا رہی ہیں، تاہم ان اقدامات کے ساتھ ڈیٹا پرائیویسی، کاپی رائٹ اور صارفین کی رضامندی سے متعلق سوالات بھی مسلسل شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ تازہ تنازع کے بعد میٹا کا فیچر واپس لینا اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ اے آئی مصنوعات کی کامیابی کے لیے صرف جدید ٹیکنالوجی ہی نہیں بلکہ صارفین کا اعتماد اور شفاف پالیسی بھی یکساں اہمیت رکھتی ہے۔