سپریم کورٹ نے عدالت میں چیف جسٹس کو گالیاں دینے اور کاغذات پھینکنے والے فریق مقدمہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنے سے انکار کر دیا،تاہم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے رویے سے سختی سے نمٹا جانا چاہیے۔
EPAPER
Updated: July 11, 2026, 8:04 PM IST | New Delhi
سپریم کورٹ نے عدالت میں چیف جسٹس کو گالیاں دینے اور کاغذات پھینکنے والے فریق مقدمہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنے سے انکار کر دیا،تاہم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے رویے سے سختی سے نمٹا جانا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے جمعہ کو اسشخص کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع نہ کرنے کا فیصلہ کیا جس نے عدالت کے کمرے میں کاغذات پھینکے اور چیف جسٹس سوریا کانت کومغلظات کا نشانہ بنایا۔ جب سماعت شروع ہوئی تو فریق مقدمہ پربل پرتاپ نے کہا، ’’مسٹر جوڈیشل سروس، میں آپ کو حکم دیتا ہوں کہ لکھنؤ کے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں،جسٹس کے وی وشوناتھن نے پوچھا،’’آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟ آپ ہمیں حکم دے رہے ہیں؟‘‘پرتاپ نے جواب دیا،’’میری طرف سے اتنا ہی ہے۔ سب کچھ ریکارڈ پر ہے۔‘‘آن لائن وسیع پیمانے پر شیئر کی گئی کارروائی کی ویڈیومیں پرتاپ کو عدالت کے کمرے میں مقدمے کے کاغذات ہوا میں پھینکتے اورچیف جسٹس سوریا کانت کو گالیاں دیتے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے انہیں کمرے سے باہر نکال دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ایتھنول کے بغیر پیٹرول اب دستیاب نہیں، خالص پیٹرول فراہم کرانا ممکن نہیں‘‘
حالانکہ سوریہ کانت اس بنچ کا حصہ نہیں تھے جو اس معاملے کی سماعت کر رہا تھا۔جسٹس وشوناتھن اور عالک آرادھے کی بنچ نے کہا کہ پرتاپ، جو اس معاملے میں خود اپنی نمائندگی کر رہے تھے، نے اپنا مقدمہ پیش کرنے کی بجائے،’’غیر مربوط اور غیر پارلیمانی الفاظ‘‘ استعمال کیے۔تاہم، ججوں نے کہا کہ وہ درخواست گزار کی ذہنی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے توہین عدالت کی کارروائی شروع نہیں کریں گے۔ جبکہ عدالت نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ وہ کس کیفیت کا حوالہ دے رہے ہیں۔ساتھ ہی بنچ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے اس حکم میں مداخلت کرنے سے بھی انکار کر دیا جسے درخواست گزار نے چیلنج کیا تھا ۔
مزید برآں ۶؍ اپریل کو ہائی کورٹ نے پرتاپ کی اس درخواست پر غور کرنے سے انکار کر دیا تھا جس میں انہوں نے لکھنؤ کی مجسٹریٹ عدالت کے فروری کے حکم کو منسوخ کرنے کی کوشش کی تھی۔ مجسٹریٹ نے ان کی درخواست کو بھارتیہ نیایا سنہیتا کے سیکشن ۱۷۳(۳) کے تحت ایک نجی شکایت میں تبدیل کر دیا تھا، اس کے ساتھ اس مقدمے سے پیدا ہونے والی بعد کی کارروائیوں کو بھی شامل کیا تھا جو انہوں نے ایک فرم ڈوپلیکس ٹیکنالوجی سروسز کے خلاف دائر کیا تھا۔ واضح رہے کہ سیکشن ۱۷۳(۳) پولیس کو تین سے سات سال تک کی سزا والے جرائم کے لیے پہلی اطلاعاتی رپورٹ درج کرنے سے پہلے ابتدائی تحقیق کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ناسک ٹی سی ایس معاملہ: ۲؍ ماہ قید میں رہنے کے بعد ندا خان کو ضمانت مل گئی
دریں اثناء سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس فریق مقدمہ کے بدسلوکی اورتحقیر آمیز رویے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے رویے سے قانون کے مطابق سختی نمٹا جانا چاہیے۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ قانونی کارروائیوں اور ویڈیوز کی ریکارڈنگ، ترمیم اور شیئرنگ کے بارے میں رہنما اصول وضع کیے جائیں تاکہ ان کے غلط استعمال کو روکا جا سکے اور اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ عدالت کے وقار اور انصاف کی فراہمی کو نقصان نہ پہنچے۔اس کے علاوہ اس نے مرکزی حکومت سے بھی اپیل کی کہ وہ ویڈیو یا ترمیم شدہ کلپس کے اشتراک کو روکنے کے لیے انتظامی اور قانونی اقدامات کرے "جو عدلیہ کے وقار کو نقصان پہنچانے یا عوام کے اعتماد کو کم کرنےکا سبب بنتے ہیں۔
علاوہ ازیںسپریم کورٹ ایڈووکیٹس-آن-ریکارڈ ایسوسی ایشن نے بھی کہا کہ وہ اس طرح کے واقعات سے متعلق ویڈیوز اور دیگر مواد کے اشتراک کی شدید مذمت کرتی ہے۔