Updated: February 23, 2026, 10:22 PM IST
| Jerusalem
فلسطینی کمیشن برائے اسیران کے امور نے اسرائیلی جیل حکام پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ فلسطینی قیدیوں کو رمضان المبارک کے دوران سحری اور افطار کے درست اوقات سے آگاہ نہیں کرتے، جس سے انہیں صحیح طور پر روزہ رکھنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ کمیشن کے مطابق بعض جیلوں میں قیدیوں کو رمضان کے آغاز تک کی اطلاع نہیں دی گئی۔
فلسطین کمیشن فار ڈیٹینیز اینڈ ایکس ڈیٹینیز افیئرس نے ہفتے کی شب جاری بیان میں کہا کہ راملہ کے قریب واقع عوفر جیل میں حکام قیدیوں کو فجر اور غروب آفتاب کے اوقات سے آگاہ نہیں کرتے، جس کے باعث وہ بروقت سحری اور افطار نہیں کر پاتے۔ کمیشن کے وکیل خالد مہاجنہ نے سرکاری ریڈیو کو بتایا کہ ’’قیدی روزہ سحری کے بغیر کرتے ہیں جبکہ افطار ایک طویل آزمائش میں بدل جاتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران امریکہ تنازع: ہندوستانی شہریوں کو فوری انخلا کی ہدایت
رمضان کے آغاز سے لاعلمی
مہاجنہ کے مطابق شمالی اسرائیل جلبوع جیل میں بعض قیدیوں کو رمضان کے آغاز کی اطلاع تک نہیں دی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک قیدی کو رمضان شروع ہونے کا علم اس وقت ہوا جب وہ اسرائیلی عدالت میں پیشی کے لیے گیا۔ انہوں نے کہا کہ دو سال سے زائد عرصے سے بعض قیدیوں کو افطار کے لیے محدود خوراک فراہم کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیپال: روتہٹ میں مذہبی کشیدگی، مسجد پر حملہ، کرفیو اور گرفتاریاں
انسانی حقوق کے خدشات
فلسطینی اور اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس وقت تقریباً ۹۳۰۰؍ فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں، جن میں تقریباً ۳۵۰؍ بچے بھی شامل ہیں۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو تشدد، غذائی قلت اور طبی غفلت جیسے مسائل کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں حالیہ برسوں میں درجنوں اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ کمیشن نے الزام لگایا کہ مذہبی مواقع پر قیدیوں کے ساتھ سختی ان کے اہلِ خانہ کے لیے اضافی ذہنی اذیت کا باعث بنتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: میکسیکو: ایل مینچو ہلاک، ملک بھر میں ریڈ الرٹ، ہم آہنگی کی اپیل
پس منظر اور ردعمل
رمضان مسلمانوں کے لیے سب سے مقدس مہینہ تصور کیا جاتا ہے، جس میں روزہ، عبادات اور روحانی سرگرمیاں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔ قیدیوں کے حقوق کے لیے سرگرم گروپس کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت مذہبی عبادات کی ادائیگی بنیادی حق ہے، جس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ اسرائیلی جیل سروس کی جانب سے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔