Inquilab Logo

عالمی عدالت جمعہ کو جنوبی افریقہ کی جنگ بندی کی درخواست پر فیصلہ سنائے گی

Updated: May 23, 2024, 5:26 PM IST | Hague

عالمی عدالت نے کہا کہ وہ جمعہ کو جنوبی افریقہ کی اسرائیل کو غزہ اوررفح میں جنگ بندی کا فوری حکم جاری کرنے کی درخواست پر فیصلہ سنائے گی ۔ یاد رہے کہ گزشتہ سماعت میں جنوبی افریقہ کے وکیل نے کہا تھا کہ رفح میں اسرائیل کا فوجی آپریشن غزہ کی تباہی کا آخری مرحلہ ہے جبکہ اسرائیل کے وکیل نے جنوبی افریقہ کے مقدمے کو حقیقت سے پرے قرار دیا تھا۔

ICJ during Hearing. Photo: X
عالمی عدالت میں جاری سماعت۔ تصویر: ایکس

عالمی عدالت نے کہا کہ وہ جمعہ کو جنوبی افریقہ کی جانب سے اسرائیل کوغزہ میں جنگ بندی کا حکم جاری کرنے کی درخواست پر جمعہ کو فیصلہ سنائے گی ۔ خیال رہے کہ جنوبی افریقہ نے عالمی عدالت انصاف میں درخواست دی تھی کہ وہ اسرائیل کو فوری طور پر غزہ اور رفح میں اپنا فوجی آپریشن بند کرنے کا حکم جاری کرے۔ 

خیال رہے کہ جنوبی افریقہ نے گزشتہ سماعت میں اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کا الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ رفح میں اسرائیلی آپریشن خطرناک مرحلہ ہے۔اس ضمن میں جنوبی افریقہ کے وکیل وان لو نے الزام عائد کیا تھا کہ رفح میں اسرائیل کی کارروائی غزہ اور فلسطینیوں کی تباہی کا آخری مرحلہ ہو گی۔

یہ بھی پڑھئے: پابندی ہٹنے کے بعد پیاز کی برآمد میں اضافہ،۴۵؍ہزارٹن سے زائد پیاز برآمد کی گئی

انہوں نے مزید کہا تھا کہ یہ رفح ہے جس نے جنوبی افریقہ کو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور کیا ہےکیونکہ فلسطینیوں کو نسل کشی سے حفاظت کا حق حاصل ہے جس کا حکم عالمی عدالت جاری کر سکتی ہے۔ اسرائیل کے وکیلوں نے جنوبی افریقہ کے مقدمے کو حقیقت سے پرے قرار دیتے ہوئے کہاتھا کہ یہ ۱۹۴۸ء کے نسل کشی کے کنویشن کا مذاق ہے۔

یہ بھی پڑھئے: چھٹا مرحلہ، ۸۸۹؍ امیدوار، انتخابی مہم کا آج آخری دن

اسرائیل کے بڑے وکیل گیلاڈ نوام نے کہا تھا کہ بار بار کسی چیز کو نسل کشی کہنے سے وہ نسل کشی نہیں ہو جائے گی اور جھوٹ کو دہرانے سے وہ سچ نہیں ہو جائے گا۔خیال رہے کہ اسرائیل نے عالمی برادری کے بارہا اپیل کے باوجود رفح میں اس ماہ کے آغاز میں اپنا فوجی آپریشن شروع کیاتھا جہاں کروڑوں فلسطینیوں نے پناہ لی ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK