Updated: May 24, 2024, 4:54 PM IST
| Jerusalem
ورلڈ بینک نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ فلسطینی اتھاریٹی کے مالی حالات خراب ہو گئے ہیں جس کے سبب اسے مالی تباہی کے امکانات کا سامنا ہے۔ ادارے کے مطابق گزشتہ سال ۷؍ اکتوبر سے اب تک محصور خطے میں نصف ملین سے زائد ملازمتیں ختم ہوچکی ہیں اور غزہ میں فلسطینی غربت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
غزہ میں سیکڑوں فلسطینی غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ تصویر: ایکس
ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ فلسطینی اتھاریٹی کو مالی تباہی کے امکانات کا سامنا ہے۔ ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ ۳؍ ماہ میں ڈرامائی طور پر فلسطینی اتھاریٹی کے مالی حالات خراب ہو گئے ہیں جس کے سبب اسے مالی تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ معاشی سرگرمیاں ٹھپ پڑ جانے اور فلسطینی حکام کو اب تک ادائیگی نہ ہونے کے سبب فلسطین میں کرنسی کا بہاؤ رُک گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: انتخابات میں پیسہ پانی کی طرح بہانے پر سینئر لیڈر غلام نبی آزاد کو تشویش
ادارے نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ آنے والے تین ماہ میں اتھاریٹی کا خسارہ ۲ء۱؍ بلین ڈالر تک کے پہنچنے کا خدشہ ہے۔ فلسطینی معیشت کے ۵ء۶؍ سے ۶ء۹؍ فیصد تک سکڑنے کے امکانات ہیں جبکہ بینک نے نشاندہی کی ہے کہ یہ نقطہ نظر انتہائی غیر یقینی ہے۔ غیر ملکی امداد میں اضافہ اور سرکاری ملازمین اور سپلائی کرنے والوں کیلئے مزید بقایا جات جمع کرنا فلسطینی اتھارٹی کے لیے واحد دستیاب مالیاتی اختیارات ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مہایوتی میں انتشار، سینئر لیڈر گجانن کرتیکر کو پارٹی سے نکالنے کا مطالبہ
ورلڈ بینک کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر سے لے کر اب تک فلسطین میں نصف ملین سے زائد ملازمتیں فلسطینی معیشت میں ضائع ہو چکی ہیں۔ ان میں غزہ میں تقریباً ۲؍ لاکھ ملازمتیں اور ۲؍ لاکھ ملازمتیں مغربی کنارے میں رہنے والے لوگوں کے پاس ہیں۔ ورلڈ بینک نے مزید کہا کہ غزہ میں غربت بڑھ گئی ہے اور اس حال میں محصورخطے میں ہر فلسطینی غربت میں زندگی گزارنے پرمجبور ہے۔