سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور بارڈر قانون کی مزید۱۴؍ ہزار۲۴۲؍ خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں، جبکہ ۶؍ ہزار۲۸۵؍ غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
EPAPER
Updated: April 05, 2026, 6:06 PM IST | Riyadh
سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور بارڈر قانون کی مزید۱۴؍ ہزار۲۴۲؍ خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں، جبکہ ۶؍ ہزار۲۸۵؍ غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور بارڈر قانون کی مزید۱۴؍ ہزار۲۴۲؍ خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں، جبکہ ۶؍ ہزار۲۸۵؍ غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔ ایس پی اے کے مطابق ۲۶؍ مارچ سے یکم اپریل۲۰۲۶ء کے درمیان مجموعی طور پر۷؍ ہزار۸۸۴؍ افراد کو اقامہ قانون، ۳؍ ہزار۹۴۸؍ کو غیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور۲؍ ہزار۴۱۰؍ کو لیبر لا کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔ غیرقانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار۴۴۹؍ افراد کو گرفتار کیا گیا، ان میں ۷۱؍ فیصد ایتھوپین، ۲۷؍فیصد یمنی اور۲؍ فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی حملے میں تباہ شدہ ایرانی پل کے انجینئررنجیدہ، ٹرمپ کی مزید حملوں کی دھمکی
علاوہ ازیں ۲۹؍ ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا ہے، جو سرحد پار کرکے مملکت سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث۲۵؍ افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر۳۶؍ ہزار۳۶۵؍تارکین جس میں ۳۲؍ ہزار۳۰۹؍ مرد اور۴؍ ہزار۵۶؍ خواتین شامل ہیں، جو اس وقت ضوابط پر عملدرآمد کے پروسیجر سے گزر رہے ہیں۔ ۶؍ ہزار۸۰۸؍ کو سفری دستاویز ات کیلئے سفارتحانوں یا قونصلیٹ سے رابطہ کرنے اور۳؍ ہزار۴۱۶؍ کو سفری انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ ۶؍ ہزار۲۸۵؍ کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ کے مستقبل پر مصر میں حماس کے وفد کی میٹنگ
واضح رہے سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔ سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے’ جو بھی شخص غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا، اسے۱۵؍ برس قید اور۱۰؍ لاکھ ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائداد کی ضبطی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔