• Thu, 29 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ: ’ویٹ ٹینٹ سنڈروم‘ بے سہارا خاندانوں کے نوزائیدہ بچوں کی جانیں لے رہا ہے

Updated: January 28, 2026, 10:02 PM IST | Gaza

غزہ میں شدید سردی، برف باری اور غیرپائیدار پناہ گاہوں کی وجہ سے بچوں میں ’’ویٹ ٹینٹ سنڈروم‘‘ پھیل رہا ہے، جس کے نتیجے میں کم عمر بچوں کی اموات ہو رہی ہیں۔ امدادی سامان اور مناسب رہائش کی شدید کمی نے صورتحال کو انسانی بحران میں بدل دیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

غزہ پٹی میں پناہ گزین خاندانوں کے لیے انسانی بحران ایک نئی شکل اختیار کر چکا ہے جسے طبی ماہرین نے ’’ویٹ ٹینٹ سنڈروم‘‘ کا نام دیا ہے، اور اس کے باعث بے شمار نوزائیدہ بچوں کی اموات ہو رہی ہیں۔ یہ اصطلاح سخت رہائشی اور موسمی حالات کا نتیجہ ہے، جس میں خیموں کے اندر نمی، سردی اور ناقص ہوا دار ماحول بچوں کو ناقابلِ برداشت خطرات میں مبتلا کر رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے غزہ سٹی کے علاقے ال دراج میں محمد ابو جراد جب اپنے خیمے میں واپس آئے تو وہ اپنی تین ماہ کی بیٹی شازا کو جمی ہوئی حالت میں پایا، جسے فوراً اسپتال لے جانے کے باوجود ڈاکٹرز نے ہائپوتھرمیا (سخت سردی) کے باعث مردہ قرار دیا۔ یہ واقعہ اس موسم میں تیزی سے بڑھتی انسانی ہلاکتوں کی ایک تازہ مثال ہے، جس میں مختلف مقامات پر کم عمر بچوں نے انتہائی سردی کے باعث زندگی کھو دی۔
طبی ماہرین کے مطابق ’’ویٹ ٹینٹ سنڈروم‘‘ کوئی مخصوص بیماری نہیں بلکہ ایک مجموعی عارضہ ہے جو غیر محفوظ، گیلی اور ناقص ہوادار خیموں میں رہنے والے خاندانوں کو لاحق ہوتا ہے۔ خیموں میں نمی، بارش کے پانی کا زحمت آور داخلہ، سردی اور ناقص حفظانِ صحت جیسے عوامل بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور ایسے افراد جن کی قوتِ مدافعت کمزور ہے، کو شدید خطرات میں ڈال رہے ہیں۔ غزہ میں تقریباً ڈیڑھ ملین افراد خیموں یا عارضی پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں، جہاں گزشتہ ماہ طوفانی بارش کی وجہ سے ۳۰؍ ہزار سے زائد خیمے تباہ ہوئے یا انہیں شدید نقصان پہنچا، جس سے تقریباً ڈھائی لاکھ افراد بے گھر ہو گئے۔ ان خیموں میں نہ تو مضبوط چھتیں ہیں اور نہ ہی فرش، بستر یا کسی قسم کی ہیٹر سہولت موجود ہے، جو سرد موسم میں زندگیاں محفوظ رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں۔
حال ہی میں غزہ میں کم از کم ۱۰؍ بچے (ایک سال سے کم عمر) ہائپوتھرمیا کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ۲۰۲۳ء کے اکتوبر سے اب تک ایسے بچوں کی تعداد تقریباً دو درجن تک پہنچ گئی ہے۔ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ خیموں میں رہنے والے خاندانوں کے بچوں میں سانس کی تکالیف، برونکائٹس، نمونیہ اور دمے جیسی بیماریوں کے ساتھ جلدی انفیکشن، فنگل بیماریوں اور خارش جیسی پیچیدگیاں عام ہیں۔ ناقص خوراک، غذائی قلت اور کمزور قوتِ مدافعت ان بیماریوں کے اثرات کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ اس بحران نے غزہ میں انسانی صحت کی صورتحال کو مزید نقصان پہنچایا ہے کیونکہ صحت کے بنیادی ڈھانچے کا بڑا حصہ بھی تباہ ہو چکا ہے، جو مناسب طبی ریکارڈنگ اور مریضوں کے ڈیٹا جمع کرنے میں ناکام ہے۔ اس کمی کی وجہ سے ’’ویٹ ٹینٹ سنڈروم‘‘ جیسے بحرانوں کی سائنسی تحقیق اور عالمی سطح پر توجہ حاصل کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔
علاوہ ازیں، غزہ میں موسمِ سرما کے دوران انفلوئنزا جیسی وبائیں بھی پھیل رہی ہیں، جس نے اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھا دی ہے جبکہ درد کم کرنے اور بخار کو کنٹرول کرنے والی دوائیں اور دمے کے علاج کے ضروری آلات خاص طور پر اسپیسَر اور انہیلرز بہت کم دستیاب ہیں یا بالکل ختم ہو چکے ہیں۔ بین الاقوامی امدادی تنظیمیں بار بار انسانی امداد، عارضی رہائشی سامان اور طبی وسائل کی فراہمی پر زور دے رہی ہیں، مگر شدید پابندیوں اور امدادی راستوں میں رکاوٹوں نے امداد کو غزہ تک موثر انداز میں پہنچنے سے روک رکھا ہے۔ غزہ میں رہائشی خاندانوں کے لیے بنیادی حق یعنی محفوظ رہائش اور صحت مند ماحول مہیا کرنا بین الاقوامی انسانی قوانین کے مطابق ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے، جس پر عالمی برادری کی فوری توجہ درکار ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK