باغیانہ تیوروں  پر گہلوت شرمندہ، ہائی کمان برہم، تفصیلی رپورٹ طلب

Updated: September 27, 2022, 10:15 AM IST | new Delhi

کانگریس کوصدارتی الیکشن سے قبل نئے بحران کا سامنا، اجے ماکن اور ملکارجن آج سونیا گاندھی کو تحریری رپورٹ پیش کریں گے، گہلوت نے خود کو بے قصور بتایا، حامیوں کی حرکت پر معذرت کااظہاربھی کیا

Congress MLAs in Rajasthan can be seen outside Speaker CP Joshi`s residence. (Photo: PTI)
راجستھان میں کانگریس کے اراکین اسمبلی کو اسپیکر سی پی جوشی کی رہائش گاہ کے باہر دیکھا جاسکتاہے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

 راجستھان کے سیاسی ڈراما  کی وجہ سے ہونے والی رُسوائی نے کانگریس کی اعلیٰ قیادت کو بری طرح رُسواکردیا ہے۔ سونیاگاندھی نے ریاست کی صورتحال پر شدید برہمی کااظہار کرتے ہوئے اجے ماکن اور ملکارجن کھرگے کوتحریری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔د ونوں لیڈر راجستھان  میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کیلئے  کانگریس قانون ساز پارٹی کی میٹنگ میں بطور مشاہد گئے تھے۔ یہ میٹنگ  اتوار کو شام ۷؍ بجے ہونی تھی مگر اس سے قبل گہلوت حامی اراکین اسمبلی نے اپنی میٹنگ کی اور پھر اعلیٰ کمان کے سامنے شرط رکھا کہ وہ نئے وزیراعلیٰ   کے  انتخاب کا اختیار پارٹی صدر کو اسی وقت دیں گے جب ان کی شرائط کو مانا جائے۔اس میں اہم شرط یہ تھی کہ نیا وزیراعلیٰ  ان ۱۰۲؍ اراکین اسمبلی میں  سے ہی کو ئی ہو جس نے سچن پائلٹ کی بغاوت کے وقت حکومت کی  حمایت کی تھی۔ 
ماکن اور کھرگے کی سونیاسے ملاقات
  راجستھان میں سیاسی بحران کی صورتحال پر   ملکارجن کھرگے اور اجے ماکن نے پیر کو سونیا گاندھی سے ملاقات کی اور انہیں پوری تفصیلات سے آگاہ کیا تاہم سونیاگاندھی نے دونوں  لیڈروں  کوتحریری رپورٹ پیش کرنے کیلئے کہا ہے۔ بتایا جا رہاہے کہ    پارٹی اعلیٰ کمان  راجستھان میں جو کچھ ہوا اس پر شدید برہم ہے۔اس نے اسے اپنی توہین  کے مترادف قرار دیا ہے۔ اجے ماکن نے بھی کہا ہے کہ قانون ساز پارٹی کی میٹنگ کے متوازی میٹنگ  منعقد کرنا ضابطہ شکنی ہے۔ 
  پارٹی صدر سونیا گاندھی سے ملاقات کے بعد اجے ماکن نے  میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ راجستھان میں قانو ن ساز پارٹی کی میٹنگ وزیراعلیٰ اشوک گہلوت کے مشورے سے طلب کی گئی تھی۔ میٹنگ کے مقام کاانتخاب بھی گہلوت کا ہی تھا،تاہم میٹنگ میں شامل ہونے کی بجائے گہلوت خیمہ نےتین شرائط سامنے رکھیں جو ناقابل قبول تھیں۔ انہوںنے مزید کہاکہ کانگریس صدر نے اس پوری صورتحال پر تحریری رپورٹ طلب کی جو  منگل تک فراہم کردی جائے گی۔ انہوںنے پھر اس کا اعادہ کیاکہ گزشتہ روز جو کچھ پیش آیا ،وہ  ڈسپلن شکنی تھی۔
 کانگریس کی قیادت کو کیا امید تھی؟
 کانگریس قیادت راجستھان میں اقتدار کی آسان منتقلی کی امید کر رہی ہے، تاہم اس کیلئے اب  سیاسی بحران سے نئی آزمائش کی صورتحال پید اہوگئی ہے۔ اعلیٰ کمان کو توقع تھی کہ قانون ساز پارٹی کی میٹنگ میں اراکین اسمبلی شامل ہوں گے جس میں ایک قرار داد پاس کرکے ریاست میں نئے وزیر اعلیٰ کے نام پر مہر لگانے کا اختیار مرکزی قیادت کو دے دیا جائے گا، تاہم اس کے برعکس وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کے خیمہ نے بغاوتی تیور دکھاتے ہوئے نہ صرف کانگریس کے مبصرین سے ملاقات سے انکار کردیا بلکہ انہوںنے استعفیٰ دینے کی بھی دھمکی دی۔ اس صورتحال نے کانگریس اعلیٰ کمان کے لئے وقار کا مسئلہ بھی پیدا کردیاجس نےسچن پائلٹ کو وزیر اعلیٰ بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ اعلیٰ کمان کو یہ بھی امید تھی کہ اشوک گہلوت کانگریس کے صدر کے امیدوار بننے کے بعد ریاست کی کمان سچن پائلٹ کو سونپ دیں گے،تاہم ایسا نہیں ہوا۔
اشوک گہلوت کا اظہار برأت
  اشوک گہلوت کو گاندھی خاندان کا قریبی اور انتہائی معتمد سمجھا جاتا ہے لیکن ان کے خیمہ کے اراکین اسمبلی نے جس طرح بغاوتی تیور دکھائے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جارہاہے کہ یہ سب کچھ اشوک گہلوت کے اشارے کے بغیر نہیں ہوسکتا تھا۔ تاہم اشوک گہلوت نے دعویٰ کیا ہے کہ اراکین اسمبلی نے جو کچھ کیا اس سے ان کا کوئی تعلق  نہیں  ہے۔   اطلاعات کے مطابق گہلوت نے ملکارجن کھرگے سے گفتگو میں اس  بات پر معذرت کا اظہار  بھی کیا ہے کہ ان کے حامی اراکین نے پارٹی کی طے شدہ میٹنگ کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اپنی علاحدہ میٹنگ کی۔ دوسری طرف ملکارجن کھرگے نےکہا کہ گہلوت کی مرضی کے بغیر ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوسکتی تھی۔ 
کمل ناتھ دہلی طلب کئے گئے
  اس پورے معاملے میں ایک طرف جہاں  سچن  پائلٹ نے پوری طرح خاموشی اختیار کررکھی ہے وہیں دوسری جانب ریاست میں پائلٹ اور گہلوت خیمے میں مفاہمت کیلئے کمل ناتھ کو دہلی طلب کرلیا گیا ہے۔  قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ  موجودہ صورتحال کا فائدہ راجستھان اسمبلی کے اسپیکر سی پی جوشی کو ہوسکتاہے اور وزارت اعلیٰ انہیں  سونپی جاسکتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK