حصولِ تعلیم اپنی جگہ ،تراویح اہم ترین ترجیح

Updated: May 13, 2021, 8:11 AM IST | saadat khan | Mumbai

ملت اور مدنی اردو ہائی اسکول جوگیشوری سے وابستہ ۵؍طلباء نے اسکول کے زمانے میں ہی حفظ مکمل کیا تھا ،اب کوئی ڈی فارما، کوئی ایم بی بی ایس توکوئی ہومیوپیتھی کالج میں زیرتعلیم ہےلیکن سبھی طلباء رمضان المبارک میں پابندی سے تراویح پڑھاتے ہیںاورلاک ڈاؤن میںگھروںپریہ معمول جاری ہے

Hafiz Abrar.Picture:Inquilab
حافظ  ابرار تصویر انقلاب

ملت اور مدنی ہائی اسکول جوگیشوری سے وابستہ ۵؍طلباءجنہوں نے اسکول کے زمانے میں ہی اپنا حفظ مکمل کرلیاتھا،لاک ڈاؤن میںگھروں پر اہل خانہ کے ساتھ تراویح پڑھ رہے ہیں۔ یہ طلباء ہرسال رمضان المبارک میں پابندی سے تراویح میں قرآن سنا تےہیں۔ ان میںحافظ موسیٰ ہارون پٹیل ( ۱۸)، حافظ ابرارعارف چارولیہ ( ۱۶)، حافظ عبدالاحد عبدالصمد چارولیہ( ۲۰) ، حافظ سعد عبدالصمد چارولیہ (۲۱) اور حافظ محمد آصف چارولیہ (۲۱) شامل ہیں ۔یہ سب سلطانہ آباد ، بہرام باغ جوگیشوری کے مکین ہیں۔ان طلبا ء نے اسکولی تعلیم کے ساتھ ہی حفظ مکمل کرنےمیں کامیابی حاصل کرلی تھی لیکن ان کی عصری اعلیٰ تعلیم کا سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔ کوئی طالب علم ڈی فارما، کوئی ایم بی بی ایس توکوئی ہومیوپیتھی کالج میں زیرتعلیم ہے ۔ اعلیٰ عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ ہر سال رمضان المبارک میں یہ طلباء پابندی سے تراویح پڑھاتےہیں۔
  ان تمام طلباء کے حفظ کے تعلق سے ایک بات انتہائی اہم ہے کہ حافظ موسیٰ کے ماموں احمد چودھری ملت اسکول میں شعبہ دینیات سے وابستہ ہیں۔ انہو ںنے ہی موسیٰ کو اسکول کے دورمیں حفظ کرنےکا مشورہ دیاتھا۔ موسیٰ نے اپنے دوست ابرار چارولیہ سے اس ضمن میں بات کی اور اس طرح ان ۵؍ حفاظ کا ایک گروپ بناجس نےاسکول کے زمانے سے حفظ کرنا شروع کردیاتھا۔  ان کے حفظ کیلئے احمد چودھری نےقریشی کمپائونڈ ،بہرام باغ کے مولانا شاہد سے رابطہ کیا تھا جنہوں نے ان طلبا ء کو حفظ کی تعلیم دی ہے۔
 ملت اسکول کے حافظ موسیٰ بن ہارون پٹیل کم عمری ہی میں یتیم ہوچکے تھے ۔ پڑھائی میں اس کا شوق دیکھ کر استاذ اور سرپرستوں کی ایماء پرموسیٰ نے پانچویںجماعت ہی سے حفظ قرآن شروع کردیاتھا اور آٹھویں جماعت کے ابتدائی ایام ہی میں حفظ مکمل کرلیا تھا ۔ موسیٰ متواتر۴؍ سال سے تراویح پڑھارہے ہیں ۔
 اسی طرح چارولیہ خانوادہ کے ۴؍ حفاظ میں ۱۶ ؍سالہ حافظ ابرار نے ملت اسکول میں جماعت ششم کے وسط ہی میں اپنے والد حافظ عارف کی نگرانی میں حفظ قرآن کا سلسلہ شروع کیا تھا ۔ بہت ہی قلیل عرصہ یعنی جماعت ہشتم کے وسط میں حافظ قرآن ہونے کی سعادت حاصل کرلی تھی۔ ا مسال وہ جماعت دہم میں زیر تعلیم ہیں ۔ ابرار نے اپنے والد کی نگرانی میں امسال پہلی مرتبہ تراویح میں مکمل قرآن سنایا ہے۔۲۰ ؍سالہ حافظ عبدالاحد چارولیہ نے ابتدائی تعلیم مدنی ہائی اسکول سے حاصل کی ،جماعت دہم میں ۷۸؍فیصد نمبرات سے کامیابی حاصل کی تھی۔ متواتر ۴؍ سال  سے تراویح میں قرآن اپنے استاذ کی نگرانی میں سنا رہے ہیں ۔۲۱ ؍سالہ حافظ سعد چارولیہ نے بھی ابتدائی تعلیم مدنی ہائی اسکول سے حاصل کی تھی ۔ جماعت دہم میں ۸۷؍ فیصد نمبرات حاصل کئے تھے ۔وہ کرغیزستان میںایم بی بی ایس کررہے ہیںلیکن لاک ڈاؤن کے سبب گھر پر ہیں۔ امسال انہوں نے رمضان میںگھروالوںکو تراویح پڑھائی ۔اسی طرح حافظ محمد حافظ بھی گزشتہ ۶؍ سال سے رمضان میں مکمل تراویح پڑھا رہے ہیں۔وہ ناسک کے ہومیوپیتھک کالج  میں سال سوم کے طالبعلم ہیں ۔قرآن حفظ کیلئے ان سبھی   نےمسلسل کوشش پر زوردیا ہے۔

namaaz Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK