بڑا بیٹا اسماعیل بھی ٹیکسی چلا کر اسکولوں کی فنڈنگ کا نظم کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر والد کی طرح کامیاب نہیں ہے، چھوٹا بیٹا ہیڈ ماسٹر کی ذمہ داری نبھارہاہے، سرکاری منظوری نہ ملنا بھی مسئلہ ہے۔
EPAPER
Updated: October 29, 2026, 12:50 PM IST | Inquilab News Network | Kolkata
بڑا بیٹا اسماعیل بھی ٹیکسی چلا کر اسکولوں کی فنڈنگ کا نظم کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر والد کی طرح کامیاب نہیں ہے، چھوٹا بیٹا ہیڈ ماسٹر کی ذمہ داری نبھارہاہے، سرکاری منظوری نہ ملنا بھی مسئلہ ہے۔
غازی جلال الدین کولکاتا میں ٹیکسی چلاتے تھے لیکن ان کی زندگی کا مقصد غریب اور پسماندہ خاندانوں کے بچوں کو تعلیم فراہم کرنا تھا۔ انہوں نے مغربی بنگال میں ۳؍ اسکول قائم کیے، جن میں سے ۲؍ سندربن کے قریب اور ایک نریندر پور میں ہے۔یہاںپسماندہ خاندانوں کے بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی ہے۔ ان کی کوششوں کو اخبارات میں جگہ ملی اور وہ امیتابھ بچن کے مشہور ٹی وی پروگرام ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ میں بھی شریک ہوئے تھے۔ رواں سال۹؍جنوری کو ان کے انتقال کے بعد ان کے قائم کردہ اسکول مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔
جلال الدین کے چھوٹے بیٹے اسرافیل غازی، جو سندربن شکشیاتن اسکول کے ہیڈ ماسٹر ہیں، نے ’دی ٹیلی گراف‘ کوبتایا کہ اسکولوں میں بچوں کے دوپہر کے کھانے کا انتظام بند ہوچکا ہے اور اساتذہ کو بھی معمولی اعزازیہ دیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق اسکولوں کے اخراجات پورے کرنے کیلئے ان کے والد ٹیکسی کے مسافروں سے عطیات جمع کرتے تھے۔ اب ان کے بڑے بھائی اسماعیل بھی ٹیکسی چلا کر عطیات جمع کرتے ہیں لیکن مالی مدد باقاعدگی سے نہیں ملتی۔اسرافیل نے بتایا کہ ۲۰۰۶ء میں جلال الدین کی ملاقات ٹیکسی چلاتے ہوئے سماجی کارکن اجیت کمار ساہا اور دیپانکر گھوش سے ہوئی۔ اسکول کا دورہ کرنے کے بعد دونوں نے اس پہل میں مدد کی، اسکول کیلئے زمین خرید ی اور پر عمارت تعمیر کروائی۔
یہ بھی پڑھئے: مولانا محمدعلی جوہر یونیورسٹی کی زمین اورعمارتیں قرق
جلال الدین غازی کے قائم کردہ اسکولوں میں نرسری سے چوتھی اور پانچویں جماعت تک تعلیم دی جاتی ہے۔ ایک اسکول میں۱۳۴؍اور دوسرے میں ۹۵؍ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ خاندان نے سرکاری منظوری حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن اب تک کامیابی نہیں ملی۔ جلال الدین کا خواب تھا کہ لڑکیوںکیلئے رہائشی اسکول قائم کیا جائے، جہاں پانچویں سے بارہویں جماعت تک تعلیم کا نظم ہو لیکن یہ شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ اس کیلئے ایک عمارت بھی تعمیر کی گئی تھی لیکن بارش کے موسم میں خراب سڑکوں کے باعث ادارہ بند کرنا پڑا۔ایک اسکول اب بھی غازی خاندان کے گھر کی پہلی منزل پر تین کمروں میں چلتا ہے۔
جلال الدین کی ٹیکسی اسکولوں کے اخراجات پورے کرنے کا ایک اہم ذریعہ رہی۔ وہ مسافروں اور دیگر لوگوں سے عطیات جمع کرتے تھے، جن سے اساتذہ کے اعزازیے اور بچوں کے دوپہر کے کھانے سمیت دیگر اخراجات پورے کئے جاتے تھے۔ان کے بیٹوں نے یہ کام جاری رکھا ہے، لیکن عطیات دینے والوں سے رابطہ برقرار رکھنا اور مسلسل مالی مدد حاصل کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ اسرافیل نےبتایا ’’میرے والد کولکاتا میں ٹیکسی چلاتے اور مسافروں سے عطیات جمع کرتے تھے۔ اب میرے بڑے بھائی بھی یہی کام کرتے ہیں، لیکن عطیات باقاعدگی سے نہیں ملتے۔ اسکولوں کو جاری رکھنے کیلئے ہمیں حکومت اور عوام کی مدد درکار ہے۔‘‘