ای ڈی کی بڑی کارروائی، منی لانڈرنگ کے الزام میں یونیورسٹی کی ۴۲۶؍کروڑ کی املاک ضبط کرلیں۔
EPAPER
Updated: October 29, 2026, 12:46 PM IST | Agency | Luckhnow
ای ڈی کی بڑی کارروائی، منی لانڈرنگ کے الزام میں یونیورسٹی کی ۴۲۶؍کروڑ کی املاک ضبط کرلیں۔
ای ڈی کے لکھنؤ زونل دفتر نے سماجوادی لیڈر اعظم خان کی قائم کردہ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کی زمین اور عمارتوں کو عارضی طور پر قرق کرنے کی کارروائی کی ہے۔ منی لانڈرنگ کے معاملے میں ضبط کی گئی ان جائیدادوں کی قیمت ۴۶ء۴۲۶؍ کروڑ روپے لگائی گئی ہے جبکہ اس کی موجودہ بازاری قیمت تقریباً ۱۱۷۰؍ کروڑ روپے ہے۔
یہ معاملہ مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ، اعظم خاں اور دیگر افراد سے متعلق ہے۔ جوہر یونیورسٹی کا انتظام اسی ٹرسٹ کے پاس ہے۔ ای ڈی کا الزام ہے کہ یونیورسٹی کی تعمیر میں سرکاری رقم، سرکاری ٹھیکوں سے حاصل ہونے والی رقم اور تعمیراتی سامان کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: توہین عدالت کا الزام، سنجے راؤت سپریم کورٹ میں طلب
ڈسٹرکٹ ویلیویشن افسر کی ۱۰؍ نومبر ۲۰۲۳ء کی رپورٹ کے مطابق، یونیورسٹی کی ۵۹؍ عمارتوں کی تعمیر پر ۴۶ء۴۹۴؍ کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا، جبکہ ۱۱۴؍ بیع ناموں کے ذریعے حاصل کی گئی زمین کی قیمت ۶۳ء۴؍ کروڑ روپے بتائی گئی۔ اس طرح یونیورسٹی کے احاطے کی مجموعی لاگت ۰۹ء۹۹؍ کروڑ روپے ہوتی ہے۔ ٹرسٹ نے انکم ٹیکس ریٹرن میں ۷۸ء۳۲؍ کروڑ روپے کے سرمایہ جاتی اخراجات ظاہر کئے تھے۔ ای ڈی کے مطابق اس میں ۲۹ء۱۲؍ کروڑ روپے کا چندہ غیر مجاز پایا گیا۔ اس طرح حقیقی اخراجات ۶۶ء۰۳؍ کروڑ روپے رہ گئے۔ دیگر جائز ذرائع سے حاصل ہونے والی رقم کو شامل کرنے کے بعد بھی صرف ۶۳ء۷۲؍ کروڑ روپے کا حساب مل سکا۔ باقی ۶۳ء۴۶۲؍ کروڑ روپے کے بارے میں ٹرسٹ اطمینان بخش تفصیلات فراہم نہیں کر سکا۔